خبردار!افطاریوں کا موسم آ رہا ہے

خبردار!افطاریوں کا موسم آ رہا ہے
خبردار!افطاریوں کا موسم آ رہا ہے

  

 شب برا¿ت قدرے خاموشی سے گزر جانے کے بعد یہ احساس ہوا کہ اس تہوار کے تمدنی حوالوں میں اب شائد پہلی سی گرمجوشی نہیں رہی ۔ ہمارے بچپن میں ”شبرات‘ ‘ مسلمانوں کے سواد اعظم کے لئے حلوہ خوری اور پٹاخے چلانے کا تہوار تھا ، جن کی ابتداءچچڑوں سے ہوتی اور انتہا شرلی ، مہتابی اور انار پر ۔ پچھلے چند برسوں میں آتش بازی نے جن ہولناک حادثوں کو جنم دیا ، ان کے بعد آگ کے اس کھیل سے گریز ہی بہتر سمجھا گیا ہے ، لیکن حلوے سے اجتناب کے رویے میں ان علمائے کرام کی سخت گیری کو بھی دخل ہو گا ، جنہیں عوام الناس کی ہر روحانی تفریح کے پیچھے کوئی نہ کوئی ”سازش عجم‘ ‘ ضرور دکھائی دیتی ہے ۔ ہاں ، شب برا¿ت کے بعد ، جلد شروع ہونے والی افطاریاں اس اصول سے مبرا ہیں کہ ان کی برکتوں میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔

 میرے بہت سے راسخ العقیدہ دوست ، پتا نہیں ، اس جسارت پر کیا کہیں کہ پاکستان بننے کے بعد قومی شناخت کے جو پیرائے ہمارے لئے بتدریج اہم ہو گئے ، ان میں رمضان المبارک میں فکر و ذکر کے اجتماعات ، شبینہ کی محافل ، افطار پارٹیاں ، اور ان کے ساتھ ساتھ چاند رات ، عید شاپنگ ، عید ملن اور خوشدلی کے کئی سلسلے شامل ہیں جو عبادات کی ذیل میں نہیں آتے ، لیکن جب بھی ان انسانی پہلوﺅں پر سوچتا ہوں تو دس سال پہلے ایک بزرگ کی یہ ڈانٹ یاد آنے لگتی ہے : ”نماز اس لئے پڑھئے کہ یہ اللہ کا حکم ہے ۔ آپ اس میں چسکے تلاش کرتے ہیں“.... یہ فرمان سر آنکھوں پر ، بلکہ نماز کی طرح ، روزہ بھی اللہ کا حکم سمجھ کر ہی رکھا جاتا ہے اور اس کے جو بھی فیوض و برکات ہیں ان سے بہرہ مند ہونا بہت بڑی سعادت ہے ۔

 یہاں تک تو سب متفق ہیں ، لیکن ، جان کی امان پاﺅں تو عرض کروں کہ اللہ کے حکم پر روزے اللہ کے بندے ہی رکھتے ہیں ، اور اللہ کے بندے کسی نہ کسی خطہءزمین میں رہتے ہیں اور ان کا ایک جسمانی وجود بھی ہوتا ہے ۔ چونکہ اس مرحلے پر، جس میں ہم سانس لیتے ہیں ، دنیا بھر کی آبادی نیشن اسٹیٹ کی اکائیوں میں بٹی ہوئی ہے ، اسی لئے ایک نئی آزاد مملکت کی بنیاد رکھتے ہوئے ہم نے بھی یہ طے کیا تھا کہ اسلام ہمارے قومی تشخص کا بنیادی حوالہ ہو گا ، لیکن وہ جو مذاہب عالم اور تہذیبوں کے تقابل پر نظر رکھنے والے میرے گورڈن کالج کے تاریخ دان استاد، پروفیسر نصر اللہ ملک کہا کرتے ہیں کہ بیٹا ، اسلام ایک عرب مذہب نہیں ، بلکہ عالمگیر دین ہے ، اسی لئے اقبال نے اپنے اس شعر میں بغداد کا نہیں ، تہران کا ذکر کیا تھا جو ”غیر عرب‘ ‘ اسلام کا ایک بڑا مرکز ہے :

 تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا

 شائد کرہ¾ ارض کی تقدیر بدل جائے

 ایک عالمگیر دین کے اساسی عقائد کو شخصیت کا مرکزی نکتہ سمجھتے ہوئے اوراس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہئے کہ انسانی صورت حال میں فکر و عمل کے آسمانی اور زمینی عناصر ایک خاص تناسب سے باہم یکجا ہو جایا کرتے ہیں ۔ کم ہی لوگوں کو یاد ہوگا کہ جب پاکستان بنا تو پہلے یوم آزادی پر اس نوزائیدہ مملکت کی طرف سے جس سرکاری ضیافت کا اہتمام کیا گیا، وہ ایک افطار ڈنر تھا اور اس کی میزبانی قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کر رہے تھے ۔ عطا ربانی مرحوم کی اولین کتاب میں اس تقریب کا حال درج ہے ، جس میں ملکی اور غیر ملکی ، مسلم اور غیر مسلم ، امیر ، وزیر ، سفارتکار ، سبھی شامل تھے ۔ یہ کہنا شائد غلط نہ ہو کہ بر صغیر کی تاریخ میں افطار ڈنر پر مبنی یہ پہلی سرکاری ضیافت تھی ، جس کا محرک ایک ایسا ”سوٹڈ بوٹڈ‘ ‘ لیڈر بنا جسے اول اول ”گورا ٹائپ‘ ‘ آدمی ہی سمجھا گیا تھا ، لیکن جو برصغیر اور نواحی علاقوں کے مسلمانوں کے لئے ایک ناقابل فراموش تاریخی کردار ادا کر گیا ۔

 ذرا اور پیچھے جائیں .... ابھی پاکستان نہیں بنا ، اور ایک نجی محفل میں علامہ اقبال ؒ کہہ رہے ہیں کہ پلاﺅ اور شامی کباب اسلامی غذائیں ہیں ۔ علامہ کو آپ اور ہم سب شاعر ، مفکر اور سیاسی مدبر کی حیثیتوں میں جانتے ہیں اور اس پر بحث بھی کرتے ہیں کہ ان میں سے کون سی حیثیت زیادہ جید ہے ، مگر یہ مان لینے میں آخر کیا برائی ہے کہ آپ اونچے پائے کے فقرہ باز ، پُر مزاح طبیعت کے مالک اور اچھی خوراک کے شوقین تھے ۔ ”روز گار فقیر“ میں اقبال کا یہ قول موجود ہے کہ جو پکوان دیکھنے میں خوش رنگ نہیں ، اس کا ذائقہ کیسے اچھا ہو سکتا ہے ؟ ایک اور مقولہ بھی کہ خدا نے پھلوں کو ترقی دے کر انگور بنایا اور پھر اس کا درجہ بڑھا کر آم کی شکل دے دی ۔اسی طرح انگریزی دواﺅں سے نفرت تھی ، جن کے مقابلے میں دلی کے حکیم نابینا کی مزیدار معجون شوق سے کھایا کرتے ۔

 اقبال ؒ نے اگر ”اسلامی غذاﺅں‘ ‘ کی بات کی تو یہ ان سماجی ، لسانی اور نسلی اثرات کی طرف ایک اشارہ تھا، جن کی تاریخ دنیائے عرب ہی سے نہیں ، ترکی ، ایران ، افغانستان ، بر صغیر اور مشرق بعید سے بھی جڑی ہوئی ہے ۔ افریقہ ، اسپین اور یورپ کے بعض دیگر خطے ، جہاں مسلمان پہنچے ، ان کے علاوہ ہے .... لیکن ان علاقوں میں ، جن پر پاکستان مشتمل ہے ، روحانی شخصیات کے مزاروں کو چھوڑ کر ، جن کے لنگروں سے ایک خلق خدا کو رزق ملتا رہا ، ہماری عام زندگی میں آپ کو آج کے پُر تکلف تقریباتی کھانوں کا نام و نشان کم ہی ملے گا ۔ معروف افسانہ نگار اے حمید نے اپنے بچپن کے امرتسر میں سحری کی تیاریوں اور کشمیری چائے کے سماوار کا ذکر ہمیشہ بہت چاہت سے کیا ۔ جی ہاں ، ”امبرسری‘ ‘ مسلمانوں میں بھی ایک خوشحال کاروباری طبقہ موجود تھا ۔ لیکن اکثر پاکستانی روزہ داروں کے لئے 14 اگست 1947ءکا سورج ہی انڈے پراٹھے اور دودھ جلیبیاں لے کر آیا ۔

 اس لحاظ سے دیکھیں تو شب برا¿ت کے موقع پر حلوہ خوری سے پرہیز رمضان شریف کے دوران ”لیٹ نکالنے‘ ‘ کی کسی نفسیاتی حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے ۔ آزاد پاکستان نے روزہ کشائی کی جس گمبھیر روایت کو جنم دیا ہے ، پچھلی نسل کے لوگ اس کے تمدنی محل و قوع سے آشنا ہی نہیں تھے ۔ اب چھوٹے متوسط طبقے کا حال بھی یہ ہوتا جا رہا ہے کہ افطاری اور رات کے کھانے کو دو الگ الگ غذائی اکائیاں شمار کرتے ہیں ۔ معاشرے کی جو پرتیں اس سے اوپر ہیں ، ان کا یہ گمان تو اب یقین کامل کی حدوں کو چھو رہا ہے کہ ، کچھ بھی کر لیں ، کھجور ، فروٹ چاٹ اور پکوڑوں کے بغیر روزہ کھل ہی نہیں سکتا ۔ چونکہ روزے گرمیوں میں آ رہے ہیں ، اس لئے ”ٹھوس‘ ‘ افطاری کے ساتھ لیموں کا رس ، کوئی مشرقی شربت یا کو لا وغیرہ بھی لازمی ہے اور اگر ان مشروبات کی کاک ٹیل مل جائے تو کیا کہنے ۔

 روزہ افطارنے کی یہ طویل و عریض تقریبات صرف ”نجی شعبے‘ ‘ تک محدود نہیں ۔ وزیر اعظم ہاﺅس سے لے کر وزیر اعلیٰ کے ایوان ، بلکہ انتظامیہ ، پولیس اور سیاسی تنظیموں کے ضلعی صدر دفاتر تک ہر صاحب اختیار شخصیت نے گویا اس بہانے ”ثواب دارین‘ ‘ حاصل کرنے کا ”شارٹ کٹ‘ ‘ ڈھونڈھ لیا ہے ۔ رمضان المبار ک کے دوران کوئی پریس بریفنگ ، کتاب کی رسم اجراءیا مجلس مذاکرہ ہو ، یا چار چھ نیم معروف تنظیموں پر مشتمل ”آل پارٹیز کانفرنس ‘ ‘ مومنوں کا ”تمت بالخیر“ ایک نہائت بھرپور افطار ڈنر پر ہوتا ہے ۔ پرانی مسجدوں میں لوگ سورج ڈوبتے ہی کھجور منہ میں ڈال کر اذان کہہ دیا کرتے تھے اور عام تاثر یہی تھا کہ نماز مغرب ادا کرنے میں وقت کی گنجائش کم ہوتی ہے ۔ اب افطار کی جدید تر اور جامع روایت کے خوان نعمت نے ا ذان اور نماز کے درمیانی وقفے کو حیرت انگیز حد تک بڑھا دیا ہے ،بلکہ پچھلے ہی سال ان گنہگار کانوں نے سنا کہ یہ دورانیہ ہر گز اتنا کم نہیں ہوتا ، جتنا لوگوں نے سمجھ رکھا ہے ۔ سبحان اللہ ! کون کہتا ہے کہ ہم نے اجتہاد کے دروازے بند کر رکھے ہیں ۔ بیرونی دنیا میں نیا سال شروع ہونے پر تہنیتی پیغام بھیجنے کا رواج ہے ۔ رمضان المبارک کی آمد سے پہلے مَیں آپ کو ”افطاری مبارک“ کہنے کی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہوں ۔  ٭

مزید : کالم