دہشت گردی کا ایک اور دلخراش واقعہ

دہشت گردی کا ایک اور دلخراش واقعہ

  

بلوچستان کے علاقے تربت سے 70 کلومیٹر دو ر تحصیل کٹھان کے پہاڑی علاقے میں دہشت گردی کا ایک اور دلخراش واقعہ رونماہوا ہے، اس بار جس بس کو نشانہ بنایا گیا وہ اگرچہ ایران جارہی تھی لیکن اس کے مسافر ایران کے راستے یورپ جانا چاہتے تھے، بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ انسانی سمگلروں کے ذریعے سفر کر رہے تھے جن کے پاس سفری دستاویزات بھی نہیں تھیں، یہ واقعہ دن 11 بجے پیش آیا لیکن پیغام رسانی کے اس جدید ترین دور میں انتظامیہ کو اطلاع رات 9بجے ہوئی اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انتظامیہ ایسے معاملات میں کتنی مستعدی دکھا سکتی ہے۔

یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ بلوچستان میں تقریباً روزانہ ہی کسی نہ کسی جگہ دہشت گردی ہورہی ہے لیکن ان کی روک تھام کیلئے جو بھی تدبیریں کی گئی ہیں وہ کامیاب نہیں ہورہیں۔ زائرین کی بسوں پر مسلسل حملوں کے بعد ایران جانے والی بسوں کو آپریٹ کرنے سے روک دیا گیا تھا، لیکن یہ بدقسمت بس متبادل راستے سے اجازت کے بغیر جارہی تھی مرنے والوں کا تعلق پنجاب اور خیرپختونخوا سے بتایا جاتا ہے اور بلوچ لبریشن ٹائیگرز نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ واقعہ کے بعد حسب سابق مذمتی بیانات تو بہت جاری ہوئے ہیں، مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی بات بھی کی گئی ہے لیکن عملاً کیا کارروائی ہورہی ہے اس کی کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ انتظامیہ اگر ایسے واقعات کو روکنے میں کامیاب ہوتی تو تواتر کے ساتھ ایسے حادثات نہ ہوتے، اللہ کرے یہ حادثہ آخری ہو اور مزید خون نہ بہے۔ ٭

مزید :

اداریہ -