چینی سٹاک مارکیٹ کا حجم چند ماہ میں آدھا رہ گیا، اس قدر شدید مالیاتی بحران کی وجہ کیا بنی، وہ باتیں جو آپ کو ضرور معلوم ہونی چاہیے

چینی سٹاک مارکیٹ کا حجم چند ماہ میں آدھا رہ گیا، اس قدر شدید مالیاتی بحران کی ...
چینی سٹاک مارکیٹ کا حجم چند ماہ میں آدھا رہ گیا، اس قدر شدید مالیاتی بحران کی وجہ کیا بنی، وہ باتیں جو آپ کو ضرور معلوم ہونی چاہیے

  


بیجنگ (نیوز ڈیسک) چین آج کل بدترین مالی بحران کا شکار ہے اور جون کے وسط سے لے کر اب تک سٹاک مارکیٹ میں 30فیصد کی کمی آچکی ہے، جبکہ دنیا حیران ہے کہ اس قدر تشویشناک بحران کی وجہ کیا بنی۔ ادارے جو لئیس بائر فنڈ کی سربراہ جیان شی کورئیسی کے مطابق چینی سٹاک مارکیٹ کی تاریخ مندی کی دو بنیادی وجوہات سرمایہ کاری کے مواقع کی کمی اور انڈر گراؤنڈز زرائع سے قرضوں کی بآسانی دستیابی ہے۔ ماہرین کے مطابق سرمایہ کاری کے کم مواقع کے علاوہ فکسڈ آمدنی کے مواقع بھی موجود نہیں جبکہ پراپرٹی اور گولڈ میں سرمایہ کاری بھی فائدہ مند ثابت نہیں ہورہی۔

مالیاتی مینجر اور ماہر جیان شی کورٹینسی کا کہنا ہے کہ جب سٹاک کی قیمت گرتی ہے تو لوگ خوفزدہ ہوکر اپنے حصص بیچنا شروع کردیتے ہیں جس کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ مزید مندی کا شکار ہوجاتی ہے، جبکہ سٹاک مارکیٹ میں بہتری نظر آنے پر فوراً حصص کی بھاری خریداری شروع ہوجاتی ہے اور یوں مارکیٹ اتار چڑھاؤ کے چکر میں پھنس گئی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین میں 35سے 50سال کی عمر کے افراد کے پاس بچت کی سب سے بڑی مقدار موجود ہے اور یہی لوگ سٹاک مارکیٹ میں آکر صورت حال کو سنبھال سکتے ہیں۔

دوسری جانب برطانوی ’اخبار‘ دی گارڈین کا کہنا ہے کہ چینی سٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان شدید سے شدید تر ہورہا ہے۔ اخبار کے مطابق 700کمپنیوں نے اپنے حصص معطل کرنے کی درخواست دے دی ہے، جس کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ اقتصادی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چینی معیشت میں عنقریب بہتری نظر نہیں آتی ہے اور موجودہ صورتحال اشارہ کرتی ہے کہ اگلے ایک یا دو ہفتوں کے دوران صورتحال مزید خراب ہوگی۔ کچھ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یونان سے توجہ ہٹا کر چین کو دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے معاملات آنے والے دنوں میں تشویشناک صورت اختیار کرسکتے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی


loading...