ایک بات سے منع کرنے پر سعودی بھائیوں نے اپنی والدہ کو ہی خنجروں سے مار ڈالا، کس چیز سے منع کیا تھا؟ جان کر آپ کا بھی دل بھر آئے گا

ایک بات سے منع کرنے پر سعودی بھائیوں نے اپنی والدہ کو ہی خنجروں سے مار ڈالا، ...
ایک بات سے منع کرنے پر سعودی بھائیوں نے اپنی والدہ کو ہی خنجروں سے مار ڈالا، کس چیز سے منع کیا تھا؟ جان کر آپ کا بھی دل بھر آئے گا

  


ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) جڑواں بھائیوں نے داعش میں شمولیت سے منع کرنے پر مبینہ طور پر اپنی ماں کو چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا۔ مملکت کی وزارت داخلہ کے مطابق 20 سالہ خالد اور صالح الاورینی کو 67 سالہ والدہ حائلہ کو قتل کرنے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ان پر 73 سالہ والد اور 22 سالہ بھائی پر حملہ کرنے کا بھی الزام ہے جو تشویشناک حالت میں ہسپتال میں رہے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

حائلہ الاورینی موقع پر ہی ہلاک ہو گئی تھیں جنہوں نے اپنے بچوں کو شام میں لڑنے والی تنظیم داعش میں شامل ہونے سے منع کیا تھا۔ دونوں بھائیوں کو یمن کی سرحد پار کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا تاہم یہ معلومات نہیں حاصل ہو سکیں کہ دونوں کو اس وقت کہاں رکھا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان منصور الترکی نے کیس سے متعلق زیادہ معلومات دینے سے انکار کرتے ہوئے تصدیق کی کہ دونوں بھائیوں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ” دونوں بھائی تکفیری نظریئے پر عمل پیرا ہیں“۔

تکفیری نظریہ ایک ایسی اصطلاح ہے جو سعودی حکام کی جانب سے آئی ایس آئی ایس (داعش) کے پیروکاروں کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔ اس واقعے نے سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو اسلامی تعلیمات کی نوعیت کے حوالے سے بحث پر اکسایا ہے۔

روزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں

سعودی لکھاری اور کمنٹیٹر محمد علی المحمود نے اس کیس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”بھلے ہی یہ منشیات کے عادی یا جاہل نوجوان کی جانب سے کیا گیا ہے لیکن یہ غیر معمولی نہیں ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسا مذہبی نوجوانوں کی جانب سے اسلام کے نام پر کیا گیا ہے“۔

مزید : عرب دنیا