’جس لڑکی نے بھی جنسی زیادتی سے بچنا ہے وہ سیٹی بجائے‘

’جس لڑکی نے بھی جنسی زیادتی سے بچنا ہے وہ سیٹی بجائے‘
’جس لڑکی نے بھی جنسی زیادتی سے بچنا ہے وہ سیٹی بجائے‘

  


میکسیکو سٹی (نیوز ڈیسک) خواتین کے خلاف جنسی جرائم اور انہیں ہراساں کرنے کا افسوسناک مسئلہ دنیا بھر میں پایا جاتا ہے مگر میکسیکو میں اس مسئلے کا جو حل دریافت کیا گیا ہے اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔

جریدے وائس نیوز کی رپورٹ کے مطابق میکسیکو سٹی کے میئر مگیل اینگل مانسیرہ نے خواتین کو سیٹیوں کی تقسیم شروع کر دی ہے تاکہ جونہی کوئی خاتون کسی جنسی درندے سے خطرہ محسوس کرے تو سٹی بجا دے۔ اس شہر میں ابتدائی طور پر 15000 سیٹیاں مفت تقسیم کی جارہی ہیں جبکہ دارلحکومت میں یہ آئیڈیا کامیاب ہونے کے بعد ملک کے باقی حصوں میں پھیلائے جانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

میکسیکو سٹی کا شمار خواتین کیلئے خطرناک ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران اس شہر کی زیر زمین ریلوے میںہی تقریباً ڈیڑھ لاکھ خواتین مختلف قسم کے جنسی جرائم کا نشانہ بنیں، لیکن ان میں سے ایک فیصد سے بھی کم نے پولیس کے ساتھ رابطہ کیا۔ خواتین جرائم کا نشانہ بننے کے بعد معاملہ پولیس کے پاس لیجانے سے سخت خوف محسوس کرتی ہیں اور پولیس کی عدم دلچسپی اور مجرموں کی دیدہ دلیری بھی انہیں قانونی کارروائی سے باز رکھتی ہے۔

میئر مگیل اینگل مانسیرہ کا کہنا ہے کہ سیٹیاں خواتین کی حفاظت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اگرچہ ان کے منصوبے کو مذاق کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اس کے متعلق طرح طرح کی باتیں کی جارہی ہیں لیکن وہ اپنی بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ سیٹی خواتین کے تحفظ کے لئے کارگر طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین کو کہیں بھی مشکل محسوس ہو ، کوئی انہیں تنگ کرے یا وہ کسی دوسری خاتون کو مشکل میں گھری دیکھیں تو فوراً سیٹی بجا دیں تاکہ اردگرد کے لوگوں کی توجہ ان کی طرف مبذول ہو اور مجرموں کی حوصلہ شکنی ہو۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کوئی اہلکار قریب موجود ہوا تو وہ بھی سیٹی کی آواز پر ضرور حرکت میں آئے گا ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس