سیاست دان ڈانس کرائے تو مجرا ،مارننگ شوز میں ہونے والے ڈانس کو ٹی وی چینل مجرا نہیں سمجھتے ،ہمیں ضابطہ اخلاق کی پابندی کرنا ہو گی :ابصار عالم

سیاست دان ڈانس کرائے تو مجرا ،مارننگ شوز میں ہونے والے ڈانس کو ٹی وی چینل ...
سیاست دان ڈانس کرائے تو مجرا ،مارننگ شوز میں ہونے والے ڈانس کو ٹی وی چینل مجرا نہیں سمجھتے ،ہمیں ضابطہ اخلاق کی پابندی کرنا ہو گی :ابصار عالم

  


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے کہا ہے کہ اگر کوئی سیاستدان ڈانس کرائے تو اسے ٹی وی پر مجرا قرار دیا جاتا ہے لیکن مارننگ شو میں جو ڈانس ہوتے ہیں تو اسے مجرا نہیں کہا جاتا ،ٹی وی چینلز کو چاہیے کہ وہ ضابطہ اخلاق اور قانون کی پابندی کریں اور غلط خبر دینے پر شرمندگی کا اظہار کیا جانا چاہیے۔

نجی ٹی وی ’’جیو نیوز‘‘ کے پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ابصار عالم نے کہا ہے کہ روزانہ نجی ٹی وی چینل پر 93 سیاسی ٹاک شو زہوتے ہیں اور تقریباً 400 کے قریب سیاسی رہنما اور تجزیہ نگار تبصرے کرتے ہیں،پہلے ٹاک شوز میں لڑائیاں اور جھگڑے اور بہیودگی بکتی تھی اب ایسا نہیں ہو رہا اور عوام ایسے ٹاک شوز کو پسند نہیں کرتے ۔انہوں نے کہا کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے تاہم بدقسمتی سے اب میڈیا ہاؤسز کمرشل ہاؤسز بن گئے ہیں ،صحافی کی تربیت پر توجہ نہیں دی جا رہی ،کسی کو بھی مائیک پکڑا کر یہ کہا جاتا ہے کہ کسی بھی گھر اور بیڈ روم میں چلے جائیں اور ریٹنگ لا کر دیں۔

ایک سوال کے جواب میں ابصار عالم کا کہنا تھا کہ امریکہ کی ریاست فلوریڈا اورلینڈو میں ہونے والے فائرنگ کے واقعات میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی لیکن امریکی میڈیا نے کوئی لاش نہیں دکھائی ، امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ لاشیں دکھانے سے لوگوں کے ذہنوں پر برا اثر پڑتا ہے جب کہ ہمارے ہاں ایک واقعے کو بار بار دہرایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹی وی کے کامیڈی شوز میں پولیس سے زیادتی کی جاتی ہے ، پولیس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں ، ساری پولیس کو کرپٹ اور نااہل قرار دینے سے ان کا مورال ڈاؤن ہوتا ہے، بعض اینکر روزانہ غلط خبریں اور غلط تجزیے دیتے ہیں لیکن وہ شرمندہ نہیں ہوتے، ہم دوسروں کو تو قانون کی پاسداری کا لیکچر دیتے ہیں ہمیں خود بھی قانون کی پابندی کرنی چاہیے اور اوور سپیڈنگ کا خیال کرنا چاہیے۔

مزید : اسلام آباد