پروفیسر ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری (4) نابغۂ روزگار اسکالر اور انسان دوست شخصیت

پروفیسر ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری (4) نابغۂ روزگار اسکالر اور انسان دوست شخصیت
 پروفیسر ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری (4) نابغۂ روزگار اسکالر اور انسان دوست شخصیت

  

  1. یہ ان کے چند مقالات کے عنوان ہیں۔ جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے ہاں موضوعات میں بھی کتنا تنوع تھا۔ ڈاکٹر انصاری نے ایک بھرپور زندگی گزاری ہے۔ وہ ایک بلند قامت علمی شخصیت ہونے کے باوجود خشک کتابی آدمی نہیں تھے۔ ان کی شخصیت میں تصنع تھا نہ ہی دو عملی۔ وہ قول و فعل کے تضاد کے مرض کے بھی شکار نہیں تھے۔ بدقسمتی سے ہمارے مذہبی اور غیر مذہبی علمی حلقوں تک میں یہ کینسر کے مرض کی طرح بیماری بن چکی ہے، اللہ نے انہیں خود نمائی، خود ستائی اور تعلّی سے بھی بچائے رکھا۔ اللہ نے جیسے جیسے ان کی علم کی رفعتوں اور کشادگ�ئ رزق میں اضافہ کیا، ویسے ویسے عجز و انکسار ان کی شخصیت میں مزید نکھار پیدا کرتا چلا گیا۔ ان کی زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند رہی۔ وہ ایک شگفتہ اور پربہار شخصیت کے مالک تھے۔ وہ اپنے اہل خانہ اور بچوں کے ساتھ بھی بھرپور وقت گزارتے تھے اور دوستوں اور احباب کی محفل کی بھی رونق رہتے تھے۔

  2. دوستوں اور احباب کی محفل میں ان کی کوشش ہوتی کہ وہ دوستوں کو سنیں۔ مگر ایسا بھی نہ ہوتا تھا کہ کسی کو ان کی موجودگی کا احساس ہی نہ ہو۔ وہ اپنی کم آمیزی کے باوجود ہمیشہ رونقِ محفل رہے۔ ان کے قہقہے کا بھی اپنا ہی انداز تھا۔ مجال ہے کسی محفل میں ان کی زبان سے مجلس میں موجود یا غیر دوست کے بارے میں کوئی ایسا لفظ نکلا ہو جو کسی کی دل آزاری کا موجب بنتا۔ ان میں خدا نے دوستوں کے درمیان پیدا ہونے والی بدگمانیوں اور غلط فہمیوں کو ختم کراکے جوڑے رکھنے کی خداداد صلاحیت عطا کی تھی۔وہ دوسروں کے کام کو معتبر بنانے میں کتنی جان ماری کرتے تھے۔ اس کا تذکرہ کرتے ہوئے کالم نگار جناب خورشید ندیم نے لکھا ہے کہ: ’’میں نے انہیں ادارۂ تحقیقات اسلامی اور عالمی فکر اسلامی کی بہت سی کتب کی ایڈیٹنگ کرتے دیکھا۔ یہ واضح ہے کہ اس باب میں ان جیسی محنت کرنے والا خوش ذوق شاید ہی کوئی ہوگا۔ وہ ایک کتاب کے مسودے پر اتنی بار نظر ثانی کرتے کہ اصل متن نظروں سے اوجھل ہوجاتا۔میں نے ایک کتاب کے آٹھ مسودے دیکھے ہیں۔ ان کی ایڈیٹنگ کے ساتھ چھپنے والی کتابوں پر مختلف مصنفین کے نام لکھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مصنف کہلوانے کے حق دار تو انصاری صاحب ہی تھے‘‘۔

    جناب خورشید ندیم نے ان کے منصب و جاہ سے گریز ۔۔۔۔۔۔کے حوالے سے بھی یہ بات بالکل مبنی برحقیقت لکھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ: ’’میں نے دنیاوی مناصب کو ان کے دروازے پر دست بستہ کھڑا دیکھا ہے۔ انصاری صاحب نے پہلے سے انہیں کسی اور کے پتے پر بھیج دیا۔ ان کے کہنے پر کوئی وزیر بنا، کوئی مشیر بنا، کوئی مصنف بنا، کوئی منصب دار۔ وہ خود تمام عمر ان عہدوں سے بے نیاز رہے‘‘۔

  3. خود میرے ذاتی علم اور مشاہدے میں کئی واقعات ہیں کہ جب باپ بیٹوں نے عہدوں و مناصب سے اپنا دامن کس طرح بچایا تھا۔ خدا نے ان کی شخصیت میں محبوبیت یوں ہی تو پیدا نہیں کردی تھی۔ وہ دوسروں کو آگے بڑھاکر جو خوشی و اطمینان محسوس کرتے تھے، اس کے بدلے میں خدا نے انہیں نفس مطمئنہ بھی عطا کیا تھا اور رزقِ حلال کے ذریعے کشادگی رزق کی دولت بھی کسی کی دست نگری کے بغیر عطا فرمائی تھی۔ ڈاکٹر انصاری کے گھر میں قیامِ پاکستان کے بعد مالی تنگ دستی کے کتنے ہی ماہ و سال گزرے ہیں۔ مگر خدا نے اس گھر کا بھرم بھی رکھا تھا اور کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے کی اذیت سے بھی بچائے رکھا تھا۔ اگر میں یہ بتاؤں تو کوئی یقین نہ کرے گا کہ ظفر اسحٰق انصاری کا چھوٹا بھائی اور میرا جگری دوست ظفر اشفاق انصاری تین ماہ تک سکول اس لئے نہیں جاسکا تھا کہ اس کے گھر میں سکول کی یونیفارم کے جوتے خرید نے کے پیسے پس انداز کرنا ممکن نہ تھا۔

  4. مگر اس عالم میں بھی ان کے گھر سے کوئی مہمان بھوکا گیا نہ پیاسا۔ ڈاکٹر انصاری کے والد ہی عظیم انسان نہیں تھے بلکہ خدا نے ان کی والدہ محترمہ کو بھی بڑا انسان دوست اور غریب پرور بنایا تھا۔ میرے نزدیک تو وہ کسی ولی اللہ سے کم نہ تھیں۔ خدا نے کبھی توفیق دی تو ان کی انسان نوازی اور خدا ترسی کے واقعات کو قلم بند کرکے آنے والی نسلوں کو بتاؤں گا ظفر اسحٰق انصاری جیسے آدمی کیسے پروان چڑھتے ہیں۔ انصاری گھرانے کی منفرد خصوصیت یہ تھی کہ اس گھر میں گھریلو ملازموں کے طور پر آنے والے بھی غریب اور بے سہارا افراد زیورِ تعلیم سے آراستہ ہوکر سرکاری اور نجی اداروں میں اعلیٰ ملازتوں پر فائز ہوئے، ایسی ایک نہیں درجنوں مثالیں میرے سامنے ہیں۔ جو بچے اس گھر میں گھریلو ملازم کے طور پر آئے اور گھر کے افراد نے ان کو پڑھا کر میٹرک انٹر بی اے، ایم اے اور ایم بی اے تک کرایا۔

  5. ڈاکٹر انصاری کو جب اللہ تعالیٰ نے بیرونِ ملک رزق کی کشادگی عطا فرمائی تو انہوں نے اپنے ارد گرد جاننے والے محروم لوگوں کا بھی خیال رکھا اور جو قرابت دار صلہ رحمی کے زمرے میں آتے تھے، ان کی ضرورتوں کو بھی اس انداز میں پورا کیا کہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔ خدا کسی کی نیکی کبھی ضائع نہیں ہونے دیتا۔ ڈاکٹر انصاری اپنے والد کی خواہش پر ایک ہفتے کے اندر اندر امریکہ کے اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے ’’پرنسٹن یونیورسٹی‘‘ کی شاندار ملازمت کو خیر باد کہہ کر جامعہ کراچی کی چھ سو کچھ روپے کی ملازمت کرنے واپس چلے آئے تھے تو ڈاکٹر انصاری کا بڑا بیٹا یاسر انصاری بھی اپنی والدہ کے انتقال کے بعد والد کی خدمت کرنے اپنے شاندار کیریئر کو خیرباد کہہ کر واپس پاکستان آگیا تھا۔ ڈاکٹر انصاری کو اللہ نے والدین عظیم عطا فرمائے اور سعادت مند اولاد دی۔ اس سے بڑی زندگی میں کون سی نعمت ہے۔ جس کی کوئی تمنا کرے۔ مولانا ماہر القادری مرحوم نے ایک بار ایک مجلس میں کہا تھا کہ ’’انصاری صاحب کتنے خوش نصیب ہیں کسی کو اس کا اندازہ نہیں ہے۔ وہ خود بڑے آدمی ہیں اور ظفر اسحٰق انصاری جیسی اللہ نے اولاد دے دی ہے‘‘۔

  6. ان کا حلقہ تعارف اور حلقہ اتنا وسیع تھا کہ اس کی تفصیل میں جایاجانا بہت مشکل کام ہے۔ ان کے قریب ترین دوستوں کی فہرست بھی اتنی طویل ہے کہ یہ مضمون اس کی تفصیل کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ قیامِ پاکستان کے بعد ابتدا میں تین دوستوں کی جوڑی تشکیل پائی تھی۔ ان میں خرم جاہ مراد، ظفر اسحٰق انصاری اورپروفیسر ڈاکٹر خورشید احمد تھے۔ اس جوڑی کے بارے میں کسی مبالغے کے بغیر کہا جاسکتا ہے کہ یہ زندگی کے آخری سانس تک یک جاں تین قالب کے مصداق رہے۔ انتقال سے کچھ دن قبل ڈاکٹر انصاری سے ان کے پوتے نے پوچھا کہ دادا بتاؤ آپ کے کون کون سے دوست بہت قریبی دوست ہیں۔ تو دادا نے خرم جاہ مراد، خورشید صاحب، ڈاکٹر سعید رمضان، ڈاکٹر انیس احمد، ڈاکٹر ممتاز احمد، ڈاکٹر انوار حسین صدیقی، ڈاکٹر منظور احمد، ڈاکٹر قاسم مراد، ڈاکٹر مدثر، ڈاکٹر مزّ مل سمیت سینکڑوں نام پوتے کو گنوادئیے۔ پھر سوال کیا کہ دادا مجھے یہ بتادیں آپ کا زندگی میں دی بیسٹ فرینڈ کون رہا۔ تو دادا کا جواب تھا خرم، پوتے نے بار بار یہی سوال دھرایا تو دادا کا جواب آتا خرم، جس کے بعد دادا اور پوتے کی آنکھیں خرم کی محبت میں نم ہوگئی تھیں۔

    ڈاکٹر ممتاز احمد نے (جو خود ایک نابغہ روزگار اسکالر اور بے پناہ شخصی خوبیوں کے مالک تھے) اپنے انتقال سے چند ہفتے قبل اپنی مرتب کردہ آخری کتاب کا انتساب ڈاکٹر انصاری صاحب کے نام کرتے ہوئے اقبال کا یہ مصرعہ تحریر کیا تھا کہ ’’شاخ گل میں جس طرح بادِ صبح گاہی نم‘‘۔

  7. میں ڈاکٹر انصاری کی عیادت کرنے کراچی سے 12؍مارچ 2016ء کو اسلام آباد گیاتھا۔ یہ میری ان سے زندگی کی آخری ملاقات تھی۔ وہ تازہ تازہ ایک سرجری سے گزر کر آئے تھے۔ جس کی اطلاع پر میں انہیں دیکھنے گیا تھا۔ انہوں نے اپنے بیڈروم میں ہی مجھے بلالیا، لگتا ہی نہ تھا کہ یہ اتنی بڑی سرجری کے تکلیف دہ عمل سے گزر کر آئے ہیں۔ چہرے پر حسب سابق اطمینان اور تازگی اور شگفتگی، وہی شفقت و محبت کا عالم، میں نے اجازت چاہی کہ میری موجودگی کی وجہ سے ان کو بے آرامی ہورہی ہے تو کہنے لگے، بیٹھو میں بھی تھوڑی دیر میں ہسپتال جانے والا ہوں۔ میں وہاں سے نکلا تو مجھے علامہ اقبال کے وہ الفاظ یاد آگئے جو انہوں نے مولانا گرامی کے بارے میں کہے تھے:

    ’’ لوگو! آج مولانا گرامی کو دیکھ لو کل اس پر فخر کرو گے کہ ہم نے مولانا گرامی کو دیکھا تھا‘‘۔ میں بھی اس پر فخر کروں تو کیا حرج ہے کہ میں نے ڈاکٹر انصاری اور ان کے والد کو دیکھا ہے۔

  8. ڈاکٹر ظفر اسحٰق انصاری کا شمار اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے بانی ارکان میں ہوتا ہے۔ جمعیت طلبہ کا دستور بنانے کے لیے تین رکنی ٹیم بنائی گئی تھی، جس میں خرم جاہ مراد (مرحوم)، پروفیسر خورشید احمد اور ڈاکٹر ظفر اسحٰق انصاری شامل تھے۔ ظفر اسحٰق انصاری اسلامی جمعیت طلبہ میں اپنے دونوں ساتھیوں سے سینئر تھے۔ جمعیت کا دستور ان کی مشاورت سے انصاری صاحب نے تحریر کیا تھا، تاہم انصاری صاحب نے خرم جاہ مراد اور پروفیسر خورشید کے برعکس زمانۂ طالب علمی کے بعد کبھی عملی سیاست میں حصہ نہیں لیا۔ اگرچہ عالمِ اسلام میں اسلامی فکر کی احیاء کے لیے کام کرنے والے مسلم دانشوروں اور اسکالرز سے ڈاکٹر انصاری کے رابطے اور شخصی تعلقات ہمیشہ رہے۔

  9. آپ کے بزرگوں کا تعلق مدینہ طیبہ سے تھا۔ شجرۂ نسب حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے۔ محمود غزنوی کے دور میں ہندوستان آئے۔ غزنوی کے بھانجے سالار مسعود غازی کی فوج میں عرب نژاد فوجی دستے میں شامل تھے ۔ہندوستان آکر الہ آباد کے مضافات میں شہر سے چند میل کے فاصلے پر واقع ’’منٹرادہ‘‘ نامی گاؤں میں آباد ہوگئے تھے۔ قیامِ پاکستان تک اس خاندان کا مسکن یہی گاؤں رہا۔ معاش کے لیے تجارت کو اختیار کیا۔ اور خدمت کے لیے علم و حکمت اور دعوت وتبلیغ کو مشن بنایا۔ ڈاکٹر انصاری کے دادا حافظ فضل الرحمن کا سابق مشرقی پاکستان کے اضلاع باریسال اور فرید پور میں بڑا اثر تھا، تحریکِ پاکستان میں اس کا فائدہ مسلم لیگ کو ہوا تھا۔

  10. ڈاکٹر انصاری کو اپنے والد کی وجہ سے جہاں مطالعہ کا شوق ورثے میں ملا تھا، وہیں کتابیں خریدنے کی عادت بھی ورثے میں ملی تھی۔ ڈاکٹر انصاری کے ذاتی کتب خانے میں انگریزی، عربی، فارسی، اُردو، جرمنی اور فرانسیسی زبانوں کی نادر اور نایاب کتب موجود ہیں۔ انصاری صاحب کے ذاتی کتب خانے میں کتابوں کی تعداد 20 ہزار سے زائد ہے۔ خدا کرے ڈاکٹر انصاری کی اولاد اس قیمتی کتب خانے کی حفاظت اور محفوظ رکھنے کا خاطر خواہ بندوبست کرپائے۔ ڈاکٹر انصاری نے تو اپنے والد کی لائبریری کو پوری طرح محفوظ رکھا تھا۔

  11. مولانا ظفر احمد انصاری اور ڈاکٹر انصاری کا ایک قابل قدر کام یہ ہے کہ انہوں نے دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے ذہین طلبہ میں انگریزی زبان اور عصری تعلیم حاصل کرنے کا شوق پیدا کیا۔ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ دینی مدارس کے طلبہ عصری علوم پڑھیں۔ ان کی کوششوں سے اس طرف آنے والوں کی فہرست میں بہت سے نام ہیں۔ مگر اس کی تفصیل کی گنجائش اس مضمون میں نہیں۔ تاہم اس حوالے سے دو نام بڑے اہم ہیں۔ ان میں ایک نام ہے جسٹس (ر) مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا اور دوسرا بڑا نام مرحوم پروفیسر ڈاکٹر محمود احمد غازی (سابق وائس چانسلر بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد) کاہے۔ (ختم شد)

مزید :

کالم -