ایدھی کو دل میں بسانے کا طریقہ

ایدھی کو دل میں بسانے کا طریقہ
ایدھی کو دل میں بسانے کا طریقہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مائیں روز روز ایدھی پیدا نہیں کرتیں،کہنے کو تو بہت سے لوگ خدمت خلق کا بھاری پتھر اٹھاتے ہیں لیکن کوئی دوقدم چل کر اور دو کوس چل کر تھک جاتا ہے یا پھر اپنی عمائدین سلطنت سے خدمت کاصلہ مانگتا ہے ۔ایدھی ہر طرح کی ستائش اور سلہ سے بے نیاز تھے ۔اگر ایسے نہ ہوتے تو پیچھے اپنے وارثوں کے لئے بھاری خزانے چھوڑ کر جاتے ۔ان کا منشا انسان اور خدمت فی سبیل اللہ تھی۔ان کی زندگی میں سادگی اور سچائی تھی۔آج ان کی برسی ہے تو ان کو یاد رکھنے کا سب سے بہترین کام یہ ہوگا کہ ان کے کاموں کو جاری رکھا جائے اور انہیں مرنے نہ دیا جائے۔یوں ایدھی بھی زندہ رہیں گے تو بلکتی سسکتی لاچار انسانیت بھی زندہ رہ سکے گی۔ایدھی صاحب کو یاد رکھنے کا دوسرا طریقہ انکی باتیں ہیں ۔وہ باتیں جن کے اندرایک نظام فکر کارفرما تھا۔ ان کی یہ باتیں یاد رکھیں گے تو ایدھی ہمارے دلوں میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔
ایدھی کہاکرتے تھے کہ میرا مذہب انسانیت ہے۔ہر مذہب کی بنیاد انسانیت ہی ہے ۔جو اس پر عمل نہیں کرتا وہ بے دین ہوتا ہے۔
میں معمولی سا پڑھا لکھا ہوا ہوں۔ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جو بندے کو انسان نہ بناسکے لہذا میرا سکول تو انسانیت کی بھلائیکا درس دیتا ہے اور میں اس کا طالب علم ہوں ۔
لوگ عرصہ سے مجھے کہہ رہے ہیں کہ آپ کرسچینز اور ہندووں کو ایمبولینس میں کیوں لے جاتے ہیں تو میں ان سے کہتا ہوں کہ ایمبولینس ہم سے زیادہ بہتر مسلمان ہے۔
محض خالی لفط اور حمد وثنا اللہ کو متاثر نہیں کرتی ۔البتہ اپنے عمل و یقین سے اسکو متاثر کیا جاتا ہے۔
قرآن انسان کی روح میں اترتا اور اسکو کھولتا ہے ،آنکھیں اور اپنا دل کھولو اور لوگوں کی خدمت کرو گے تو اسکو پالوگے۔
اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایدھی صاحب کی فکر کا محور کیا تھا۔جو لوگ انہیں غیر مسلم کہہ دیتے تھے انہیں ڈوب مرنا چاہئے کہ وہ ایک ایسے انسان پر تہمت لگاتے تھے جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ سے بے پناہ محبت کرتے تھے ۔اسکا بڑا ثبوت ان کی انسانیت سے لوث بلا امتیاز خدمت تھی۔وہ پاکستان میں خدمت کا ایک بڑا نیٹ ورک چھوڑ گئے ہیں جسے ہم سب نے ذمہ داری سے چلانا ہے کوینکہ ایدھی سب کا تھا اور ان سب کا ملک پاکستان ہے ۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -