انتخابات 2018ء کے جائزے اور لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتِ حال

انتخابات 2018ء کے جائزے اور لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتِ حال
انتخابات 2018ء کے جائزے اور لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتِ حال

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

آج بروز بدھ چار جولائی کو مختلف اخبارات میں انتخابات 2018ء کے حوالے سے مختلف سروے تنظیموں نے اپنے جائزے پیش کئے ہیں، جن میں کچھ پورے پاکستان کے ووٹرز کے رحجان کی عکاسی کرتے ہیں تو ایک سروے پنجاب تک محدود ہے۔

مَیں سب سے پہلے پنجاب کے سروے کی بات کروں گا، کیونکہ میں اس وقت لاہور میں موجود ہوں اور پورے ایک ہفتے سے میں بھی ان انتخابات کے سروے کے کام میں مصروف ہوں۔

گو کہ یہ میرا شعبہ نہیں، لیکن مَیں 43 سال سے کسی نہ کسی طرح کئی مختلف انتخابات کو قریب سے دیکھتا آ رہا ہوں اور کئی انتخابات کی مہمات میں حصہ لینے کے علاوہ خود بھی اس تجربے سے گزر چکا ہوں۔

پاکستان جیسے ملک میں کسی سروے کی حیثیت حتمی نہیں ہوتی۔ یہاں ایک واقعہ ساری کایا پلٹ کا باعث بن جاتا ہے،جس کی قریب ترین مثال محترمہ بے نظیر بھٹو کا قتل ہے۔

2008ء کے عام انتخابات کے بیشتر جائزے مسلم لیگ(ق) کے حق میں جا رہے تھے، مگر بینظیر بھٹو کے قتل نے ان تمام جائزوں کو تبدیل کر کے رکھ دیا تھا، حالانکہ اس وقت کی حکومت نے عوام کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی غرض سے کچھ دیر کے لئے انتخابات ملتوی بھی کئے تھے۔

انسٹیٹیوٹ آف پبلک اوپینین ریسرچ کا سروے جو صرف پنجاب تک محدود ہے اور یہ سروے 15 اپریل سے 2 جون کے درمیان کیا گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان مسلم لیگ(ن) پچھلے انتخابات سے دو فیصد اضافے کے ساتھ51فیصد کے ساتھ پہلے نمبر پر اور پاکستان تحریک انصاف پچھلے الیکشن سے11فیصد اضافے کے ساتھ 30فیصد کے ساتھ پنجاب میں دوسری بڑی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔

دوسری طرف پورے پاکستان میں سروے کی رپورٹس میں بھی گیلپ پاکستان کے سروے مجموعی طور پرمسلم لیگ(ن) کو اور پلس پاکستان کے سروے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے ۔

اگر صوبوں کی صورتِ حال دیکھی جائے تو تمام سروے کچھ کم و بیش کے ساتھ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی سبقت دکھا رہے ہیں،خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف آگے ہے،اِسی طرح سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہے، جہاں تک بلوچستان کا تعلق ہے تو وہاں پہلے سے کافی مختلف صورتِ حال ہے، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علماء اسلام (ف) لیڈ کر رہی ہیں، جبکہ مسلم لیگ(ن) پہلے سے بہت نیچے چلی گئی ہے۔

اب میری سروے رپورٹ ملاحظہ فرمائیں۔ سب سے پہلے یہ کہ انسٹیٹیوٹ آف پاکستان پبلک اوپینین ریسرچ کا سروے 2 جون سے پہلے کا ہے، جس کے بعد حالات بہت تیزی سے بدلے ہیں۔

میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کے لندن چلے جانے سے اور بہت زیادہ لوگوں کے مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد پنجاب کے اندر نواز لیگ کی پوزیشن بہت کمزور ہوئی ہے اور تحریک انصاف مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔

لاہور جسے مسلم لیگ (ن) کا گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے میں بہت گڑھے پڑ چکے ہیں اور پی ٹی آئی روزانہ کی بنیاد پر چھکے اور باؤنسر مار رہی ہے۔

لاہور کے کل 14 قومی اسمبلی کے حلقوں میں سے پانچ حلقوں میں جہاں مَیں نے سروے کیا ہے اور سینکڑوں لوگوں سے سوال کرنے کے بعد میری رائے یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے مسلم لیگ(ن)کے گڑھ میں بہت بڑا شگاف ڈال دیا ہے اور ان پانچ میں سے تین حلقوں میں تحریک انصاف کو اکثریت حاصل ہے، مجموعی طور پر لاہور کی سیاسی صورتِ حال یہ ہے کہ ایک اندازے کے مطابق 14 میں سے دونوں جماعتیں پانچ پانچ سیٹیں آرام سے جیت جائیں گی اور باقی پر مقابلہ ہو گا اور ان تین میں تادم تحریر مسلم لیگ(ن) کو برتری حاصل ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی پیش قدمی بھی جاری ہے اور اگر یہ پیش قدمی جاری رہتی ہے تو پھر نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ ادھر احتساب عدالت نے میاں نواز شریف خاندان کے خلاف ایک مقدمے( ایون فیلڈ ) کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جو اس کالم کی اشاعت تک سنا دیا جائے گا۔ اس فیصلے کے اثرات بھی انتخابات پر مرتب ہوں گے۔

ابھی ابھی روشن پاکستان اوپینین پولنگ کا سروے سامنے آیا ہے،جو پورے پاکستان پر مشتمل اور زیادہ قرینِ قیاس ہے، کیونکہ یہ سروے 28جون سے یکم جولائی کے درمیان کیا گیا ہے۔

اس سروے کے مطابق یوں تو کوئی بھی جماعت واضح اکثریت لیتی نظر نہیں آتی۔ البتہ 93 سیٹوں کے ساتھ تحریک انصاف پاکستان کی سب سے بڑی جماعت اور 71 سیٹوں کے ساتھ مسلم لیگ(ن)دوسرے نمبر پر ہے۔

ان کے بعدپاکستان پیپلزپارٹی 46 سیٹیں حاصل کرنے کی پوزیشن کے ساتھ پاکستان کی تیسری بڑی جماعت نظر آرہی ہے، جبکہ چوتھے نمبر پر آزاد امیدوار جو 26 سیٹوں پر سبقت میں ہیں۔ کراچی کی ایم کیو ایم پاکستان 13 سیٹوں پر جیتتی نظر آ رہی ہے۔

یہ تو تھیں سروے رپورٹس تاہم پاکستان کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی سیاسی صورتِ حال پر حتمی رآئے دینے کا کسی کو یارا نہیں ہے۔ عوام کی ایک اچھی خاصی تعداد ابھی تک خاموش ہے وہ یا تو ان تمام جماعتوں اور امیدواروں سے مایوسی کا اظہار کرتے ہیں یا پھر اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے آخری دنوں میں فیصلہ کریں گے۔

ہم سب کو دُعا یہ کرنی چاہئے کہ یہ انتخابات پر امن ماحول میں باخیر و خوبی پایہ تکمیل کو پہنچیں اور جمہوریت کا تسلسل جاری رہے۔

ان انتخابات کے نتیجے میں جو بھی حکومت بنے وہ پاکستان کو مشکلات سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں کامیاب ہو۔

مزید : رائے /کالم