ملی مسلم لیگ کاپیغام پاکستان کی خاموش اکثریت کے نام

ملی مسلم لیگ کاپیغام پاکستان کی خاموش اکثریت کے نام
ملی مسلم لیگ کاپیغام پاکستان کی خاموش اکثریت کے نام

  

25جولائی2018ء کوملک ایک بار پھر قومی انتخابات کے عمل سے گزرے گا۔ یہ انتخابات اس وقت ہورہے ہیں جب ملک اندرونی طور پر کرپشن، بدعنوانی، لوٹ مار، لاقانونیت، تو ہمات، رشوت، غریب عوام پرمعاشی ظلم، بدامنی،فحاشی، اداروں کے ٹکراؤ، سودی نظام اور دیگر غیر اسلامی و غیرانسانی اعمال میں گھرا ہوا ہے، دوسری طرف بیرونی طور پر کافر قوتیں اس بات پر پورا زور لگارہی ہیں کہ پاکستان کو کسی طرح سیاسی اور اقتصادی عدم استحکام کا شکارکردیاجائے، ملک کی قیادت کے لئے ایسے افراد کوآگے لائیں جو ان کاایجنڈا پورا کرنے میں ممدومعاون ثابت ہوں۔

پاکستان میں اب تک جتنی حکومتیں آئی ہیں، کم وبیش سبھی اسی غیرملکی اورمغربی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے کمربستہ رہی ہیں۔

ملک پرسیکولراورمغربی آقاؤں کے کلچر کی دلدادہ قیادت کے مسلّط ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی رہی ہے کہ عوام کی خاموش اکثریت ان انتخابات سے عموماً لاتعلق رہی ہے۔وہ انتخابات کے لئے ووٹ ڈالنے کوکبھی نکلتے ہیں، نہ ملک کے سیاسی عمل میں کوئی حصہ لیتے ہیں۔ اس کاثبوت یہ ہے کہ ملک میں آج تک ووٹنگ کی شرح مجموعی طور پر 48.33 فیصد سے زیادہ کبھی نہیں رہی یعنی ملک کی آدھی سے زائد آبادی ووٹ کے لئے باہرنکلتی ہی نہیں،ان کے اس طرزِ عمل کی ایک بڑی وجہ یہ رہی ہے کہ وہ جمہوریت کوخودتمام برائیوں کا منبع اورجڑسمجھتے ہیں،اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی جمہوریت خودنمائی' عہدہ طلبی اور پارٹی بازی کی وجہ سے قومی انتشار وعدم استحکام کاسبب ہے، لیکن دوسری طرف اس اسلام پسند طبقے کویہ بھی غورکرناچاہئے تھاکہ معروضی حالات میں سیاسی جمہوری عمل چل رہاہے ملک کے آئین میں بھی یہ گارنٹی ہے کہ کوئی قانون کتاب وسنت کے منافی نہیں بنایاجاسکتا اور قرار دادمقاصد میں بھی اس بات کااعادہ کیاگیا تھاکہ اصل حاکمیت اللہ رب ذوالجلال کی ہے اورملک کے منتخب نمائندوں کے پاس اقتدار اللہ کی طرف سے ایک امانت ہے، جسے وہ اللہ کے دئیے ہوئے اختیارکے مطابق استعمال کرنے کے پابندہیں خودبانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناحؒ ؒ بھی کئی بار اپنے خطبات میں یہ بات واشگاف الفاظ میں کہہ چکے کہ پاکستان کاآئین وہی ہوگا،جو چودہ سوسال پہلے ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن پاک کی صورت میں ہمیں دے گئے، اب ظاہر ہے جب قرآن کوہی اصل آئین ماناجائے گا تو لامحالہ اس کی بہترین اور اصل تشریح سنت نبویؐ کو ہی ماناجائے گا، کیونکہ ہر آئین کی تشریح بھی وہی مانی جاتی ہے جو سب سے مستند ہو اور کوئی مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت وحدیث سے معتبر تعبیر وتشریح کسی اور کومان ہی نہیں سکتا۔ان حقائق کی روشنی میں ملک کے سیاسی نظام کے حوالے سے یہ بات صاف اورشفاف تھی کہ ملک کاآئین کتاب وسنت کے تحت ہی ہوگا، ایسی جمہوریت جسے کتاب وسنت کاپابند بنایا گیا ہو'یقینااس مغربی جمہوریت سے بہت مختلف ہے جو مکمل طورپر مادر پدر آزاد ہے اورجس میں قانون سازی کے لئے صرف عوام کی اکثریت کی خواہش کو ہی اول وآخر معیارقرار دیا گیا ہے۔

افسوس کہ کتاب وسنت کی پابندجمہوریت کو مغربی جمہوریت کے بالکل عین مطابق سمجھ کر پاکستان کے اسلام پسند عوام کی اکثریت سیاسی عمل سے ایک طویل عرصہ سے الگ ہوگئی اس کانتیجہ یہ ہوا کہ میدان خالی دیکھ کر شیطانی اورسیکولرطاقتیں پاکستان کی سیاست پرقابض ہوگئیں اور نوبت بایں جا رسید، اب یہی طاقتیں اسلام پسندوں کومکمل طورپر دیوار سے لگا کر انہیں کرش کرنے کاآخری وار کرنے اور انہیں مکمل طورپر صفحہ ہستی سے مٹانے کاپروگرام فائنل کررہی تھیں کہ پروفیسرحافظ محمد سعیدحفظہ اللہ کی عبقری نگاہوں نے اس عالمی سازش کو بروقت بھانپ لیا، چنانچہ انہوں نے ان معروضی حالات میں دشمن کی چال کو دشمن پر الٹانے کافوری فیصلہ کیا اور مغربی جمہوریت کی برائیوں سے بچتے ہوئے ملک دشمن عناصرکے خلاف سیاسی وجمہوری عمل میں بھی ان کے سدّراہ بننے کااعلان کردیا۔

یہ اعلان کافروسیکولرطاقتوں کے ایوانوں میں زلزلہ بن کرگرا، وہ تصوربھی نہ کرسکتے تھے کہ دعوت اسلام،خدمت انسانیت اورمظلوموں کی مدد کے ریکارڈ قائم کرنے والاحافظ محمدسعیدحفظہ اللہ سیاست کے میدان میں بھی ان کے لیے چیلنج بن کرسامنے کھڑاہوجائے گا اور میدان سیاست میں وہ جس طرح چاہیں گے،کھل کھیل نہیں سکیں گے،چنانچہ حافظ محمدسعیدحفظہ اللہ کے اس اعلان پر آج سب سے زیادہ امریکی ومغربی اوربھارتی میڈیاہی سیخ پاہے۔

بھارتی میڈیا خاص طور پر یہ کہہ کرچیخ رہاہے کہ حافظ سعید اب اقتدارمیں آ کر ملک کواسلام کاگہوارہ بناناچاہتاہے۔ دیکھاجائے توحافظ سعیدکے نیک عزائم کی تصدیق کے لئے دشمن کی یہ گواہی ہی کافی ہے اور کسی نے صحیح کہاہے کہ دوسری پارٹیوں کی انتخابی مہم توکوئی نہ کوئی پاکستانی چینل چلارہاہے، لیکن ملی مسلم لیگ اور اللہ اکبر تحریک کی انتخابی مہم توانڈین میڈیا چلانے پرمجبور ہے ۔

پروفیسرحافظ محمدسعیدحفظہ اللہ کی طرف سے سیاسی عمل میں حصہ لینے کااعلان کرتے ہی امریکی وبھارتی لابی نے انہیں اوران کی جماعت کو میدان سیاست سے آؤٹ کرنے کے لئے پاکستان پر پورا دباؤ ڈالناشروع کردیا،اسی دباؤکے تحت ملی مسلم لیگ کو رجسٹر نہ ہونے دیا گیا، تاہم پروفیسرحافظ محمدسعیدحفظہ اللہ نے ملک کے کروڑوں اسلام پسند لوگوں کوملی مسلم لیگ اور اللہ اکبر تحریک کے پلیٹ فارم پراکٹھاکردیا تاکہ ملک دشمن واسلام دشمن عناصرکو میدان سیاست میں کھل کھیلنے کا موقعہ نہ مل سکے۔

آج چاروں صوبوں سے ملی مسلم لیگ کے258 قومی وصوبائی امیدواران کھڑے ہیں، جن کے خلاف کوئی کیس نہیں،نہ ان کے کاغذات پرکوئی اعتراض ہوسکا،اس لئے کہ ان کاکردار صاف وشفاف ہے۔

پاکستان کل بھی اسی نظریہ وعقیدہ اور کلمہ لاالٰہ الااللہ محمدرسول اللہ پربناتھااور آج بھی اس کی بقاء اوراس کااستحکام اسی نظریہ کی عملداری میں ہی پوشیدہ ہے۔ پاکستان بہت سی قومیتوں اور زبانوں پرمشتمل ملک ہے، لیکن جوچیز ان سب کومتحدومتفق کرسکتی ہے،وہ صرف اورصرف اسلام ہے، کیونکہ پاکستان کی 97 فیصد عوام مسلمان ہے ، لیکن دشمن چاہتے ہیں کہ انہیں مختلف قومیتوں اور زبانوں کے اختلاف میں ڈال کرباہم خانہ جنگی کاشکار کردیاجائے اور وہ اپنے مشترکہ نصب العین اسلام اورترقی کی طرف کبھی گامزن نہ ہوسکیں۔

اب اہل پاکستان کافرض ہے کہ وہ دشمن کی ان سازشوں کوسمجھیں اور بحیثیت مسلمان ان پرجو ذمہ داری عائد ہوتی ہے،اسے پورا کرتے ہوئے انتخابات کے میدان کو دشمن کے لئے خالی نہ چھوڑیں اور اسلام پسند ومحب وطن قیادت کو منتخب کرکے ثابت کردیں کہ ہم ہرمیدان میں ملک و ملت کے خلاف دشمن کی سازشوں کوناکام بنائیں گے۔ ان شاء اللہ

مزید :

رائے -کالم -