پاکستان میں اقتدار کی جمہوری طور پر منتقلی کا عمل جاری رہنا چاہیے : امریکہ

پاکستان میں اقتدار کی جمہوری طور پر منتقلی کا عمل جاری رہنا چاہیے : امریکہ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں جنوبی ایشائی امور کے سربراہ ایلس ویلز نے کہا ہے پاکستان میں سول حکومت کا قیام اور اقتدار کی جمہوری طریقے سے منتقلی ملک کی عظیم کامیابیوں میں سے ایک ہے،واشنگٹن اس کامیابی کے عمل کو جاری د یکھنا چاہتا ہے،پاکستان کیساتھ طالبان کیخلاف موثر اور فیصلہ کن اقدامات کرنے پر بات چیت جاری ہے،اسلام آباد میں سویلین اداروں کی مضبوطی چاہتے ہیں،حکومت صحافی برادری کو ملکی ترقی سے متعلق رپورٹس جاری کرنے کی اجازت دے،قبائلی علاقوں سے پاکستانی طالبا ن کو ختم کرنے کیلئے پاکستان نے ہزاروں قربانیوں کا نذرانہ پیش کیا،ہمیں پناہ گزینوں،نارکوٹکس اور سرحدی انتظامات کے بارے میں تحفظا ت ہیں،ان تمام مسائل کو مذاکرات کے تناظر میں لیا جاسکتا ہے ، پاکستانی قیادت کیساتھ روابط کا مقصد جنوبی ایشیائی حکمت عملی پیش کرنے کے مواقع دیکھنا ہے۔ہفتہ کے روزدارالحکومت واشنگٹن میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انکا مزید کہنا تھا امریکا پاکستان کیساتھ طالبا ن کیخلاف ’ موثر اور فیصلہ کن‘ اقدامات ،افغان مذاکراتی عمل میں شمولیت کیلئے انکی حوصلہ افزائی کرنے کے معاملے پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔اس موقع پر ایلس ویلز نے پاکستانی حکومت پر زور دیا کہ وہ ہر فرد کو اپنے خیالات کو جمع اور پر امن طریقے سے ان کا اظہار کرنے ،ساتھ ہی صحافیوں کو ’مکمل طور پر ملکی ترقی کیلئے رپورٹ‘ کرنے کی اجازت دے،پاکستان کے پاس افغان مذاکراتی عمل سے متعلق مواقع موجود ہیں کہ وہ سرحد پار دہشتگردی اور افغان حدود سے چلنے والے دہشتگرد گرہوں سے متعلق تحفظات دور کرے ۔اسلام آباد کیساتھ واشنگٹن کے تعلقات قائم رکھنے کی خواہش کے حوالے سے ان کا کہنا تھا پاکستان کی سول و عسکری قیادت کیساتھ بات چیت جاری ہے اور ہم اس چیز کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دونوں طالبان قیادت کیخلاف ’ موثر اور فیصلہ کن‘ اقدامات کریں،بے دخل کریں،گرفتار کریں یا انہیں مذاکرات کی میز پر لائیں۔افغان قیادت کی پاکستان میں موجودگی کے امریکی دعویٰ کو دہراتے ہوئے ایلس ویلز کا کہنا تھا یہ بالکل واضح ہے کہ ایک باہمی سیاسی مذاکرات کیلئے ایک مستقل رکاوٹ طالبان کی قیادت ہے اور ان میں سے بہت سے افغانستان سے باہر ہیں، جس کیوجہ سے معاونت اور افغان قومی سلامتی فورسز کے دباؤ سے باہر ہیں ۔ اس موقع پر انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ’قبائلی علاقوں سے پاکستانی طالبان کو ختم کرنے کیلئے پاکستان نے ہزاروں قربانیوں کا نذرانہ پیش کیا۔

امریکہ

Back t

مزید : صفحہ آخر