پہلی بار سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل کی کھلی سمارت ، جسٹس شوکت صدیقی کے اوپن ٹرائل کا فیصلہ

پہلی بار سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل کی کھلی سمارت ، جسٹس شوکت صدیقی کے اوپن ...

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے اوپن ٹرائل کا فیصلہ کرلیا،30جولائی سے سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے گی۔ ہفتہ کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی کے اوپن ٹرائل کا فیصلہ کیا گیا، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کھلی عدالت میں ٹرائل کی درخواست دی تھی، اٹارنی جنرل کو 30جولائی کو گواہ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی،30جولائی سے سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے گی، پہلی مرتبہ کسی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کھلی عدالت میں سماعت کرے گی۔

اوپن ٹرائل

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس ہوا جس میں انصاف کی فراہمی اور سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمات جلد نمٹانے کے لئے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ ہفتہ کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس ہوا۔جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کے نئے ججز کو خوش آمدید کہا۔اجلاس میں انصاف کی فراہمی اور سپریم کورٹ میں مقدمات نمٹائے جانے کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 9ماہ میں 16897مقدمات نمٹائے گئے جبکہ 9ماہ میں 19098نئے مقدمات دائر ہوئے ۔ سپریم کو رٹ میں زیر التواء مقدمات جلد نمٹاے کیلئے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔نوعیت کے مطابق مقدمات الگ الگ کرنے کی ضرورت پر بھی زردیا گیا ۔ اجلاس میں سپریم کورٹ رولز 1980میں ترامیم کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ۔ ترامیم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے تجویز کی تھیں ۔ رولز میں ترامیم کیلئے تین رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ۔ تین رکنی کمیٹی کی سربراہی جسٹس گلزار احمد کریں گے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر کمیٹی میں شامل ہوں گے ۔ فل کورٹ اجلاس میں سپریم کورٹ کے دیگر انتظامی امور بھی زیر بحث آئے۔

فل کورٹ اجلاس

مزید : صفحہ اول