حسین لوائی 5روزہ ریمانڈ پر ایف آئی اے کے سپرد ، زرداری ، فریال تالپور کے گرد گھیرا تنگ

حسین لوائی 5روزہ ریمانڈ پر ایف آئی اے کے سپرد ، زرداری ، فریال تالپور کے گرد ...

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی ) جو ڈیشل مجسٹریٹ نے گرفتار کیے جانے والے معروف بینکر حسین لوائی اور محمد طحہٰ کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا اور ملزم کو 11 جولائی تک جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا۔دوسری جانب آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کے گردبھی گھیرا تنگ ہونا شروع ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے حکام ملزم حسین لوائی اور شریک ملزم محمد طحہٰ کو سخت سیکیورٹی میں کراچی کی سٹی کورٹ لائے جہاں انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔حسین لوائی کی جانب سے شوکت حیات ایڈووکیٹ نے اپنا وکالت نامہ عدالت میں جمع کرایا۔حکام نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس کی مخالفت کرتے ہوئے ملزمان کے وکیل نے کہا کہ حسین لوائی نے اپنا بیان قلمبند کرادیا ہے اور ایف آئی اے پہلے بھی بیان لے چکا ہے، اس لیے مزید کسی ریمانڈ کی ضرورت نہیں۔ حکام نے عدالت کو بتایا کہ حسین لوائی کے خلاف جعلی اور گمنامی اکاؤنٹس کی تحقیقات جاری ہیں اور حوالے سے مزید تفصیلات درکارہیں۔عدالت نے ایف آئی اے کی استدعا منظور کرلی اور ملزم کو 11 جولائی تک جسمانی ریمانڈ پر تحویل میں دے دیا۔ پیشی کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں حسین لوائی نے کہا کہ میرا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں اور مجھ سے کوئی ریکوری نہیں ہوئی، کیس ریکوری کا نہیں منی لانڈرنگ کا ہے۔ 2014 میں میرے خلاف انکوائری کی گئی، نہیں معلوم مجھے آصف زرداری یا کسی اور وجہ سے گرفتار کیا گیا، وقت بتائے گا کہ مجھے کیوں نشانہ بنایا گیا، فیصلہ آنے میں دیر ہے لیکن بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ اس مقدمے کے پیچھے کون ہے۔صحافی نے حسین لوائی سے سوال کیاکہ ایف آئی اے کہتی ہے کہ آپ سے 4 ارب روپے برآمد ہوئے ،اس کے جواب میں ان کا کہنا تھاکہ نہ یہ برآمدگی کا معاملہ ہے اور نہ مجھے سے پیسے برآمد ہوئے، یہ تو وقت بتائے گا کہ منی لانڈرنگ ہوئی یا نہیں۔ دریں اثنا بدعنوانی کے خلاف مہم میں نواز شریف کے خلاف مقدمے کا فیصلہ آنے کے بعد سابق صدر آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کے گردبھی گھیرا تنگ ہونا شروع ہوگیا ہے۔ایف آئی اے نے آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی اور منی لانڈرنگ کیس میں ملوث چیئرمین پاکستان اسٹاک ایکسچینج حسین لوائی کو حراست میں لے لیا ہے۔ حسین لوائی پر 35ارب روپے منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق حسین لوائی نے 3 بینکوں کے 29 جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے 35 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی، مذکورہ 29 اکاؤنٹس سے رقم کا لین دین اومنی گروپ کے ملازمین کرتے تھے، اومنی گروپ کے مالک انور مجید ہیں جو بیرون ملک فرار ہونے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ایف آئی اے نے حسین لوائی کیخلاف مقدمے میں بڑی سیاسی اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ساتھ آصف زرداری اور فریال تالپور کی کمپنی کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ مقدمے کے متن کے مطابق آصف زرداری اور فریال تالپورکی کمپنی بھی منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہے، زرداری گروپ نے ڈیڑھ کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کی رقم وصول کی۔مقدمے میں اومنی گروپ کے مالک انور مجید کی کمپنیوں کا بھی ذکر ہے۔ منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والوں میں نزلی مجید، نمرہ مجید، عبدالغنی مجید شامل ہیں۔ ابتدائی طور پر 10 ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے، جس میں چئیرمین سمٹ بینک نصیر عبداللہ لوتھا، عبدالغنی مجید، اسلم مسعود، محمد عارف خان، نورین سلطان، کرن امان، عدیل شاہ راشدی، طحہ رضا نامزد ملزمان ہیں۔منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں اور افراد کو سمن جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کرلی گئی ہے۔ ایف آئی اے نے 29 اکاؤنٹس کی تمام تفصیلات عدالت میں پیش کردی ہیں، جس کے مطابق 6 مارچ 2014 سے 12 جنوری 2015 تک اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی۔

گھیرا تنگ

مزید : صفحہ اول