میں ویٹ کرلانگا

میں ویٹ کرلانگا
میں ویٹ کرلانگا

  

اتنی جلدی تو غریبوں کے پھوڑا پھنسی نہیں نکلتے جتنی جلدی میں میاں صاحب کی فیملی کے وارنٹ نکلتے ہیں، لیکن ان وارنٹوں پر خوشی سے تالیاں بجانے والوں اور گانے والوں سے کہ سجنا نوں قید بول گئی، میں درخواست کروں گا کہ وہ اپنے جذبات کی کلی اتنی نپ کے نہ رکھیں، کلچ اور بریک پر پیر رکھیں۔ پاکستان میں اس طرح کے اچنبھے پہلی بار نہیں ہوئے۔

سو بار چمن مہکا، سو بار بہار آئی

دنیا کی وہی رونق، دل کی وہی تنہائی

یہ وارنٹ شرنٹ، یہ پلس مقابلے ہم نے پہلے بھی بہت دیکھے ہیں، پہلے بھی میاں صاحب کو عمر قید بولی، جرمانے ہوئے، پہلے بھی احتساب کے نام پر بہت سے ڈرامے ہوئے، لیکن سالا ایک این آر او پورے نظام کو ہیجڑا بنا دیتا ہے۔ نہ میاں صاحب نے گرفتار ہونا ہے نہ جائیداد ضبط ہونی ہے، اگر کچھ ہونا ہے تو سال دو سال بعد ایک خاموش این آر او ہونا ہے۔ پاکستان کے سیاستدانوں کی زندگی احتساب اور این آر او کے درمیان کچے دھاگے کی ڈور پکڑے گزر جاتی ہے۔ رولا صرف اتنا ہے کہ اس بار میاں صاحب کو اقتدار سے دور بلکہ کوسوں دور رکھنا ہے۔ وہ پہلے ہی بہت اقتدار کے جھولے جھول چکے۔ اب وہ اتنا رج گئے ہیں کہ انہیں خود ہی کسی اور کو کھانے پینے کیلئے دعوت دے دینی چاہئے تھی۔ کیا فائدہ بندہ گراؤنڈ سے ’’ریٹائرڈ ہرٹ‘‘ ہوکر نکلے۔

کاش میاں صاحب نے اپنی تین باریوں میں ایون فیلڈ کی جگہ ’’ان ایون فیلڈ‘‘ کو سدا پدھرا کیا ہوتا۔ ترکی میں اگر لوگ جیپوں، ٹینکوں کے آگے لیٹ سکتے ہیں تو اتنے بہادر تو ہم بھی ہیں کہ اپنے قائد کے غم میں جسموں کو آگ لگاتے رہے ہیں، قلعے بھگتتے رہے ہیں۔ کاش میاں صاحب عوام کے لئے ایسا کچھ کر جاتے یعنی ریاست عوام کی ماں ہوتی ہے، میاں صاحب صرف حسن، حسین اور مریم کو ہی اپنی اولاد سمجھتے رہے۔ یہ جو انقلاب بندے کو لندن میں بیٹھ کے یاد آتا ہے، اقتدار میں کیوں بھول جاتا ہے۔ یہ اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی کے دعوے لندن جیسے سیف ہاؤسز میں ہی کیوں یاد آتے ہیں۔ ویسے عقل مند کو اشارہ کافی ہوتا ہے۔ ایویں بندہ لیڈر بننے کے چکر میں پھائے لگ جائے۔ جس کے کن تھلے وجدی اے، اسے ہی پتہ ہوتا ہے۔ ہم بدوبدی میاں صاحب کو انقلابی بنانےُ ٹرے ہوئے ہیں۔ بھائی بندہ انقلابی ہوتا ہے یا نہیں ہوتا، بنتا نہیں ہے۔ میاں صاحب نے پاکستان آنے کا اعلان کیا تو ہم ذرا شرمندہ ہوئے، لیکن جب انہوں نے فرمایا کہ آؤنگا، پہلے کلثوم بیگم ہوش میں آجائیں۔ تو ہم نے شیشہ میں اپنا چہرہ دیکھا، بڑا کھسیانہ سا لگا۔ سنتا سنگھ کو پھانسی ہوگئی، جیلر نے اس سے آخری خواہش پوچھی، وہ بولا مجھے دوہانہ (تربوز) کھانا ہے۔ جیلر بولا اس کا تو سیزن نہیں، دوہانہ چھ ماہ بعد آئے گا۔ سنتا بولا، کوئی گل نہیں میں ویٹ کرلانگا۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ کلثوم بی بی کو صحت تندرستی عطا فرمائے۔ وہ میاں صاحب سے بات کریں اور انقلاب لانے کی اجازت دے دیں۔ ہم ان کی صحت و تندرستی کی دعا کے ساتھ منتظر ہیں۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں قوم آپ کے ساتھ انقلاب کیلئے تیار ہے، سڑکوں پر آنے کے لئے بے چین ہے، بس آپ آجائیں اور آتے ہوئے ساتھ حسن، حسین کو بھی لے آئیں۔ مزا آئے گا مل کر انقلاب لائیں گے۔

ایک بار پھر کہے دیتا ہوں میاں صاحب کی جائیداد ضبطی پر تالیاں بجانے والے ڈریں، اس دن سے جب احتساب کی آندھی ان کی طرف رخ کرے گی۔ بابائے سیاست آصف زرداری بہت سیانے ہیں۔ حسین لوائی کی گرفتاری سے پہلے ہی وہ ایک اچھے بچے بن چکے ہیں، لیکن کیا ہی مزا آئے کہ اگر ایون فیلڈ فلیٹس کی ضبطگی کے ساتھ سرے محل کی رقم بھی کھری کی جائے اور دبئی میں سابق مرد آہن پرویز مشرف کا محل بھی بحق سرکار ضبط کیا جائے۔ بلکہ جس جس نے اس ملک کی دولت لوٹ کر باہر جائیدادیں بنائیں، سب سے نمٹا جائے۔ چاہے وہ کسی بھی ادارے کا حصہ رہا ہو۔ آہ! خواہشیں کتنی ظالم ہوتی ہیں، سچویشن حقائق کو سمجھے بغیر بن بلائے مہمان کی طرح آدھمکتی ہے۔ عمران خان کا انقلاب، علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے انقلاب کی طرح آواں آواں کرتا سوچکا ہے۔ اس لئے فی الحال نواز شریف کے محل کی قرقی پر خوش ہوا جائے۔ یہ پاکستان ہے میری جان کے ٹوٹے یہاں بیس کروڑ عوام کو جمہوریت، اسلام، روشن خیالی اور احتساب کسی بھی نام سے بیوقوف بنایا جاسکتا ہے۔

جب میاں نواز شریف نے ایون فیلڈ کا فیصلہ اس ایون فیلڈ فلیٹس میں بیٹھ کر سنا، جسے وہ اپنی ملکیت قرار نہیں دیتے تو شاید انہوں نے سوچا ہو، یہ ڈاہڈوں کی لڑائی میں عزت سادات بھی داؤ پر لگانی پڑتی ہے۔ چلیں ان بیس کروڑ بھک منگے کیڑے مکوڑوں کی تو کوئی عزت نہیں تھی، کیا یہ اربوں کھربوں روپے آپ کو بھی عزت نہیں دیتے۔ ایک صاحب کافی دیر سے گاڑی کی چابی سے اپنا کان کھجا رہے تھے۔ بنتا سنگھ غور سے دیکھ رہا تھا، صاحب بولے بنتا جی کیا دیکھ رہے ہیں۔ وہ بولا دیکھ رہا ہوں کہ آپ کب سٹارٹ ہوتے ہیں، ورنہ میں دھکا لگا کر سٹارٹ کر دوں۔ 70 سال سے ہم اپنے کانوں میں خواہشوں، خوابوں، امیدوں کی کھجلی کر رہے ہیں، لیکن مجال ہے کبھی ہم سٹارٹ ہوں۔ عزت کا سیلف سٹارٹ لینے کیلئے قربانیاں دینا ہوتی ہیں، لیکن ہم یہ فرض بکرا عید پر پورا کرکے خوش ہو جاتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد تباہ حال جرمن قوم نے صرف آلو کھا کر خود کو دوبارہ عظیم قوم بنایا، اور ہم وہ قوم ہیں جس پر ہر روز پٹرول، بجلی، ڈالر، گیس، ٹیکس کے آلو آتے ہیں اور انہیں ہلکا پھلکا کھرک کے فارغ ہو جاتے ہیں۔

جہاں رکشہ چلانے والے سے لے کر پی آئی اے چلانے والا، اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اس نظام سے اپنا حصہ وصول کر رہا ہو تو پھر لیڈر ایون فیلڈ، سرے محل، بنی گالا نہیں بنائیں گے تو کیا قوم کے ساتھ جھگیوں میں رہیں گے۔ بھیا میرے جیسا منہ ویسی چپیڑ۔ یہ حکمران چپیڑیں ہی تو ہیں جو ہمیں پڑتی ہیں، چاہے ہمارے منہ لال ہو جائیں لیکن مجال ہے کہ خوش کن خوابوں میں گم اس مخلوق کی آنکھ کھل سکے۔ سنتا سنگھ ڈاکٹر سے بولا آپ کو یاد ہے مجھے دو سال پہلے بخار ہوا تھا اور آپ نے کہا تھا کہ نہانا نہیں۔ ڈاکٹر بولا ہاں یاد ہے کیا اب پھر بخار ہوگیا۔ سنتا سنگھ بولا نہیں میں پچھنا سی میں نہا لاں؟

واہ میرے سنتوؤ تے بنتوؤ ،لائی لگو، تم مرتے جاؤ گے، بھوک سے چلاؤ گے، تباہ ہو جاؤ گے، لیکن اپنے آقاؤں کی ہر لوٹ مار پر کہو گے واہ واہ کیا انصاف ہے، واہ واہ کیا کردار ہے۔

مزید : رائے /کالم