کراچی کا سیاسی منظر نامہ تبدیل،عوام وی آئی پی ہوگئے

کراچی کا سیاسی منظر نامہ تبدیل،عوام وی آئی پی ہوگئے

تجزیاتی رپورٹ/نعیم الدین

کراچی کا سیاسی منظر نامہ تبدیلی کی جانب بڑھ رہا ہے ، بڑی بڑی سیاسی جماعتیں ووٹرز کی جانب پہلی بار للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی ہیں۔ ووٹرزہے کہ ہاتھ نہیں ملا رہا اور نہ ہی سیاست دانوں کی طرح جھوٹے وعدے کررہا ہے کہ ووٹ آپ کو ہی دوں گا۔ صاف صاف کہہ رہا ہے کہ بھئی sorry اس مرتبہ آپ کو ووٹ نہیں دے سکتا۔ آپ نے علاقہ کی ترقی کیلئے کچھ نہیں کیابلکہ آپ نے اس علاقے کو پلٹ کر بھی نہیں دیکھا ، آج پانچ سال بعد واپس آرہے ہیں۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جس کا پرانے امیدواروں کو اور سیاسی پارٹیوں کو سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ کراچی کا تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے دورہ کیا جو کہ طوفانی دورہ کہلایا جارہا ہے۔ عمران خان نے مختلف علاقوں میں مختصر مختصر خطاب بھی کیا جسے انتہائی اہمیت دی جارہی ہے۔ خاص طور پر بعض علاقوں میں نوجوان ووٹرز انہیں بہت اہمیت دے رہے ہیں اور انہیں اپنے درمیان دیکھ کر مسرت کا اظہار کرتے رہے جس سے ان کی وابستگی کا پتہ چل رہا ہے، خاص کر لیاری کے علاقے میں عمران کا پھولوں سے استقبال کیا گیا جو ایک حیرت انگیز لمحہ قرار دیا جارہا ہے جبکہ کچھ روز قبل پیپلز پارٹی کی نوجوان قیادت بلاول بھٹو نے اپنی الیکشن مہم کا پہلی بار آغاز لیاری سے کیا وہ ایک بڑی ریلی کے ساتھ جب لیاری پہنچے تو لوگوں نے پانی نہ ملنے پر احتجاج کیا اور ان کی ریلی کے شرکاء پر پتھراؤ کرکے انہیں وہاں سے پلٹ جانے پر مجبور کیا ہے ۔ عمران خان، شہباز شریف کراچی سے الیکشن لڑرہے ہیں اور یہ دونوں شخصیات ملک کی آئندہ وزارت عظمی کی نشست کی جانب دیکھ رہی ہیں۔ اس کا فیصلہ تو ملک کے ووٹرز ہی کریں گے کہ وہ اس نشست پر کس کو بیٹھا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اس حقیقت سے منہ نہیں موڑا جاسکتا ہے کہ 1970 میں ہونے والے انتخابات کو سیاسی مبصرین منفر د اور غیر جانبدار انتخابات قرار دیتے ہیں ، اس انتخاب میں پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کو لیاری کے عوام نے سر آنکھوں پر بٹھایا تھا ، اس کے بعد 2013تک پیپلز پارٹی ان کی فیورٹ سیاسی جماعت رہی ہے اس ہی لیاری کے علاقے میں ایک دم ایسی سوچ کہاں سے آگئی کہ اس کے باشندوں نے اپنے نوجوان لیڈر کا جس نے اس علاقے سے اپنی الیکشن مہم کا آغاز کیا تھا، کہ اس کی ریلی پر سنگ باری کردی۔ اس علاقے کے لوگوں کے رحجانات میں اتنی بڑی تبدیلی کیسے آگئی کہ اس نے اتنی بڑی ریلی کو آگے بڑھنے سے روک دیا جبکہ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ شہباز شریف نے بھی عمران خان سے قبل لیاری کا دورہ کیا تھا ۔ انہیں بھی کسی ناخوشگوار واقع کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ وہ بھی بغیر کسی بدمزگی کے علاقے کا دورہ کرکے واپس لاہور چلے گئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کو لیاری کس طرح واپس ملے گا ۔ کہا یہ جاتا ہے کہ لیاری میں شہباز شریف کا استقبال ان کی سوچ سے بھی زیادہ اچھا رہا ۔

مزید : کراچی صفحہ اول