نواز شریف کیخلاف فیصلے میں جلد بازی سے جانبداری کا تاثر مل رہا ہے :میاں افتخار

نواز شریف کیخلاف فیصلے میں جلد بازی سے جانبداری کا تاثر مل رہا ہے :میاں افتخار

پبی ( نمائندہ پاکستان )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہےء کہ نواز شریف کے خلاف فیصلے میں جلدبازی کا مظاہرہ کیا گیا ،عمران خان تین ماہ تک عدالت سے مفرور رہا لیکن کسی نے اس پر ہاتھ نہ ڈلا فیصلے سے جانبداری کا تاثر مل رہا ہے ، ان خیالات کا اظاہر انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران پی کے65کے مختلف علاقوں میں شمولیتی تقریبات اور جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف فیصلہ غلط وقت پر دیا گیا الیکشن سے قبل اس قسم کے فیصلے سے انتخابی فضا متاثر ہونے کا خدشہ ہے ،انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں وزارت عظمیٰ کیلئے گیم پلان چل رہا ہے اور عمران خان کو اس گیم پلان میں استعمال کیا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ تین ماہ تک عدالت سے مفرور رہنے والے کو گرفتار نہ کرنا جانبداری کے زمرے میں آتا ہے،، انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم پختونوں کیلئےء زندگی اور موت کا مسئلہ ہے لہٰذا اس نازک ایشو پر سیاست نہیں کی جا سکتی ، انہوں نے کہا کہ ماضی میں شمس الملک نے قوم کو گمراہ کرنے کیلئے معاملے کو ہوا دی حالانکہ پختونوں کے سروں کا سودا کرنا کسی پختون کو زیب نہیں دیتا ، انہوں نے کہا کہ وفاق نے پہلے غازی بروتھا نہر نکال کر تربیلا کا پانی چوری کیا ، اے این پی حکومت میں آ کر غازی بروتھا کے ڈیزائن کا از سر نو جائزہ لے گی ، پنجاب کی ترقی کیلئے چھوٹے صوبوں کو قبرستان بنانے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی ، کالاباغ ڈیم ہماری لاشوں پر بنے گا ، انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں ڈیموں کی تعمیر اور ملکی ترقی کے خلاف نہیں البتہ چیف جسٹس کالاباغ کی سنگین نوعیت کا ادراک کرتے ہوئے بھاشا اور منڈا ڈیم کی تعمیر کو فوقیت دیں جس سے پانی اور بجلی کا مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ اے این پی نے اپنے گزشتہ دور میں اٹھارویں ترمیم کی صورت میں وسائل پر اپنا اختیار حاصل کیا جسے آج پھر رول بیک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کسی صورت واپس نہیں ہونے دیں گے اور اگر ایسا ہوا تو اے این پی سب سے پہلے سڑکوں پر ہو گی،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالا دینے کیلئے جعلی سروے کرائے جا رہے ہیں ،سابق حکومت کے امدواروں پر حلقوں میں عوام دروازے بند کر رہے ہیں جس سے وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں ، انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور جعلی سروے سے مقبولیت میں اضافہ نہیں ہو سکتا ،انہوں نے کہا کہ تعلیمی ایمرجنسی کے نتیجے میں اس بار بھی میٹرک کے نتائج میں 52ہزار سے زائد طلبا و طالبات فیل ہو گئےء سکولوں کی حالت تباہ ہے اور وزیر اعلیٰ کے خلاف بھی تحقیقاتی پروانے نکل رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ 19ارب روپے کی کرپشن کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ ابھی بہت کچھ سامنے آنے ولا ہے ۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ اپنی بھرپور تیاریوں میں تیزی لائیں اور25جولائی صوبہ لوٹنے والوں کا یوم حساب بنا دیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر