مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی پی ٹی آئی میں شمولیت

مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی پی ٹی آئی میں شمولیت

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ کل کے فیصلے کے بعد اگلے وزیر اعظم کراچی سے عمران خان ہوں گے۔ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ تحریک انصاف کے نمائندے کراچی کو قومی دھارے میں لائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو پارٹی سیکرٹریٹ ’’انصاف ہاؤس‘‘ کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حلقہ این اے 239 کے نامزد امیدوار اکرم چیمہ، حلقہ پی ایس 92کے نامزد امیدوار عابد جیلانی ، حلقہ پی ایس 98کے امیدوار عدیل احمد اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ اس موقع پر سنی تحریک کے سیکٹر انچارج عبدالشفیق قادری، ڈسٹرکٹ انچارج شجاع الرحمن بیگ، ٹاؤن انچارج رضوان عرف عجو، ندیم انصاری، شکیل، عبدالحمید، طاہر قادری، شہزاد، جمیل، بابر اوروقاص بابانے پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ فردوس شمیم نقوی نے چیئرمین عمران خان کا میڈیا شیڈول لیٹ ہونے پر میڈیا سے معذرت کی اور شاندار کوریج پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے امیدوار حلقہ این اے 239، پی ایس 92،پی ایس 93 اور پی ایس 98 سے سیٹیں نکالیں گے۔ یہ پی ٹی آئی کے گمنام ہیروز ہیں جو حقیقی کام کرتے ہیں۔ ان کی رابطہ مہم کی وجہ سے ان کے حلقے میں تقریباًتمام کی تمام سنی تحریک کے لوگ، کچھ ایم کیو ایم اور کچھ پی پی کے لوگوں نے بھی تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔اس کے علاوہ ایم کیو ایم کے سابق یونٹ انچارج منصور، یونٹ کمیٹی ممبر عبید خان، پی پی کے یوسی صدر ذوالفقار حسین اور کمال قادری، ایم کیو ایم کے بزرگ کمیٹی انچارج منظور احمد اور علاقائی بزرگ سمیع بھائی نے بھی شمولیت کا اعلان کیا۔پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی نے مزید کہا کہ کل کے فیصلے کے بعد اگلے وزیر اعظم کراچی سے عمران خان ہوں گے۔ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ تحریک انصاف کے نمائندے کراچی کو قومی دھارے میں لائیں۔ کراچی پاکستان کی معاشی شہرگ ہے۔ ماضی کی سیاسی جماعت کا قومی کردار ختم ہوچکا ہے۔ اب اصل جنگ دو نہیں ایک پاکستان کی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک قوم ایک نظام آئے اورنیا پاکستان بنایا جائے۔ بائیس جولائی کو باغِ قائد پر پورے کراچی کا جلسہ عام ہوگاجس سے عمران خان خطاب کریں گے۔ ہم کراچی کے تمام شہریوں کو دعوت دیتے ہیں ۔ کراچی کو ایک پرامن شہر بنانا ہے۔ کراچی میں عمران خان کی مقبولیت دیگر شہروں سے بھی زیادہ ہے۔ کراچی میں الیکشن کے موسم میں گرمی دکھائی نہیں دیتی۔ اس کی وجہ الیکشن کمیشن کے کراچی کے لیے الگ قوانین ہیں۔ باقی شہروں کے مقابلے میں کراچی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیاجانا چاہئے۔ الیکشن کمیشن کو سندھ اور پنجاب دونوں کے لیے ایک جیسے قوانین بنانے چاہئیں۔ سنی تحریک کے سیکٹر انچارج عبدالشفیق قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ پہلے ہم کھالیں اور فطرہ زکوٰۃ نہیں دے سکتے تھے۔ تحریک انصاف کرپشن سے پاک قیادت ہے۔ اگر ہم مل کر کام کریں تو اس حلقے سے تحریک انصاف کو سیٹیں نکال کر دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں فردوس شمیم نقوی نے مزید کہا کہ میڈیا ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ ہم سوشل میڈیا کو دیگر میڈیا پر ترجیح نہیں دیتے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ ہم میڈیا کو شکایت کا موقع نہ دیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ ہم تمام پاکستانیوں سے کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کو اگر مضبوط کرنا ہے تو ہر صوبے سے مضبوط کریں۔ اگر وفاق مضبوط ہوگا تو صوبے مضبوط ہوں گے۔ دینا ہے تو ایک جماعت کو فل مینڈیٹ دیجئے۔ اس وقت یہ بہترین موقع ہے کہ پاکستان میں ایک سیاسی جماعت کھڑی ہے جس کے لیڈر کے چاہنے والوں کی ملک میں اکثریت ہے۔ اگر موقع ملا تو پاکستان کے اگلے پانچ سال گزشتہ دس سالوں سے بہتر ہوں گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر