فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر471

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر471
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر471

  

موسیقی اور راگ راگنیوں کے بارے میں ہمارا علم بہت محدود ہے لیکن سننے اور جاننے کی حد تک دلچسپی لا محدود ہے۔ اگر اس بارے میں کوئی مضمون نظر سے گزرے یا کسی صاحب ہنر سے ملاقات ہو جائے تو کوشش کرتے ہیں کہ اپنی معلومات میں اضافہ کریں۔ اس ضمن میں سعید ملک صاحب ایک نادرِ روزگار ہستی ہیں ۔ وہ بنیادی طور پر صحافی ہیں۔ انگریزی صحافت میں انہیں بہت بلند مقام حاصل ہے۔ وہ ہر موضوع ہے۔ انہوں نے بداتِ خود موسیقی ان کا پسندیدہ موضوع ہے۔ انہوں نے بذات خود موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔ نوجوانی سے ہی بڑے بڑے موسیقاروں کی محفلوں میں باقاعدگی سے شریک ہوتے رہے۔ ان سے استفادہ کرتے رہے۔ ایک زمانے میں خود بھی ریاض کرتے تھے۔ انہوں نے قیام پاکستان سے پہلے کا لاہور اور اس زمانے کے نامور اور یگانہ روزگار ہستیوں کو بھی دیکھا اور سنا ہے۔ خود بھی ساز بجاتے ہیں اور ریاض نہ ہونے کے باوجود کلا سیکی راگ بھی گا بجاتے ہیں اور ریاض نہ ہونے کے باوجود کلاسیکی راگ بھی گا کر سنا دیتے ہیں۔ طویل العمری اور صحت کی خرابی کے باوجود سعید ملک ایک انتہائی بلند حوصلہ انسان ہیں۔ انہوں نے اپنی کسی دلچسپی اور مشغلے میں آج تک خلل نہیں آنے دیاہے۔ ہر ہفتے فنون لطیفہ اور آثارِ قدیمہ کے موضوعات پرمختلف انگریزی اخبارات و جرائد میں لکھتے ہیں ۔ ایک زمانے میں وہ امریکن مرکز اطلاعات سے بھی وابستہ رہے ہیں جہاں ہمارے چھوٹے بھائی علی عمران ان کے رفیق کار تھے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر470پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سعید ملک صاحب تو ہم سے بھی سینئر ظاہر ہے کہ عمران تو ان کے سامنے ایک طفلِ مکتب کی حیثیت رکھتے تھے لیکن ان کی اسی زمانے سے عمران سے دوستی اور تعلق رہا ہے۔ وضع داری کا یہ عالم ہے کہ جب کبھی طرف تشریف لاتے ہیں ہم سے ملاقات کے لیے ضرور آتے ہیں۔ اگر ملاقات نہ ہو تو پیغام چھوڑ کر جاتے ہیں۔ سعید ملک صاحب اپنے علم و ہنر ’’قابلیت مشاہدے اور تجربات کی روشنی میں ایک ایسی ہستی ہیں جو کہ اب ناپید ہوتی جار ہی ہیں۔ کوئی اور ہوتا تو کبھی کا ریٹائر ہو کر گھر بیٹھ جاتا۔ خصوصاً ایسی صورت میں جبکہ انہیں ذریعہ معاش کے لیے تگ و دو کرنے کی حاجت بھی نہیں ہے لیکن وہ مجسم غالب کے اس شعر کی تفسیر بنے ہوئے ہیں۔

شوق ‘ ہر رنگ رقیبِ سروساماں نکلا

قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

اس مختصر سے تعارف کے بعد سعید ملک صاحب کی نئی تحقیق کے بارے میں سنئے۔ ماہرین موسیقی ‘ محقق اور فنون لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والے سبھی لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ کلاسیکی موسیقی کی جڑیں دراصل لوک موسیقی اور لوک گیتوں میں ہیں۔ لوک موسیقی یا فوک میوزک (FOLK MUSIC) کیاہے؟ یہ کسی ایک فرد نے کسی ایک وقت ایجاد نہیں کی ہے۔ دراصل گائیک ‘ موسیقار ‘ سازندے اور گانے کے شوقین‘ تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف اوقات میں اس خزانے میں اضافے کرتے رہے ہیں۔ یہ ایک نادانستہ حرکت تھی جس نے رفتہ رفتہ ایک روایت اور پھر تہذیب و ثقافت کی ایک بنیاد کی حیثیت اختیار کرلی۔ جس طرح شاعری‘ مصوری اور دیو مالائی داستانیں سالہا سال میں انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ ترقی کے مدارج طے کرتی رہی ہیں اسی طرح موسیقی اور راگ راگنیوں نے بھی صدیوں سفر کیا ہے جس کے بعد انہیں لوک موسیقی اور پھر کلاسیکی موسیقی کا درجہ حاصل ہوسکا ہے۔ ہر آنے والی نسل نے پچھلی نسلوں سے جو کچھ حاصل کیا اسے اپنی طرف سے حسبِ توفیق اضافے کے بعد آگے بڑھا دیا۔ اس طرح موسیقی اور فنون لطیفہ کا یہ سفر جاری رہا اور آج بھی جاری ہے۔ اگرچہ اس وقت ہماری لوک موسیقی اور کلاسیکی موسیقی پر بہت نازک وقت آیا ہوا ہے۔ مغربی موسیقی اور پوپ میوزک نے ایسا اودھم مچا رکھا ہے کہ اس کے شور و غل میں ہماری روایتی اور ثقافتی موسیقی دب کر رہ گئی ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ مغرب اس قدر مادی او سائنسی ترقی کرنے کے باوجود اپنی جڑوں اور بنیادوں سے وابستہ ہے۔ یورپ اور امریکا میں لوک موسیقی اور لوک گیت گانے والے آج بھی بے حد مقبول ہیں اور حدید موسیقی کے شانہ بشانہ چل رہے ہیں۔ امریکا میں لوک گلوکار کروڑوں اربوں کماتے ہیں اور بادشاہوں کی طرح رہتے ہیں۔ ان کی مقبولیت اور قدرو قیمت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے مگر افسوس کہ ہم جو کہ ان کے نقش قدم پر چلنا بہت بڑا اعزاز سمجھتے ہیں ان کی اس خوبی کو مطلق خاطر میں نہیں لاتے اور اپنی لوک موسیقی اور کلاسیکی موسیقی سے رفتہ رفتہ دور اور بے بہرہ ہوتے جار ہے ہیں۔ اسے آپ احساسِ کمتری کہئے یا مغرب سے مرعوبیت یا پھر اسے نئے نئے دولت مند ہونے والوں کی کم مائیگی اور لاعلمی و جہالت کا نام دیجئے۔ بات ایک ہی ہے۔ یہ تلخ حقیقت اپنی جگہ بہرحال موجود ہے کہ ہم اپنے ماضی سے رفتہ رفتہ تمام رشتے توڑ رہے ہیں اور مغربی قدروں کے سیلاب میں بہے چلے جا رہے ہیں۔

مشرق میں لوک موسیقی یا راگ راگنیوں کی ترویج کیسے ہوئی؟ ان راگوں کو رنگ ‘ صورت اور نام کس نے دیے۔ ان کے لیے مختلف اوقات اور ضروریات کس نے مرتب کیں؟ یہ بھی ایک دلچسپ داستان ہے۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہونے والوں نے بعد میں برصغیر کے دوسرے خطوں کا رخ کیا اور وہاں بھی اپنی موسیقی اور اپنی روایات اپنے ساتھ لے کر گئے۔ یہاں تک کہ سری لنکا جیسے دور دراز علاقوں تک یہ آوازیں پہنچ گئیں اور مقامی رنگوں کی آمیزش سے انہوں نے وہاں کی لوک موسیقی کی شکل اختیار کرلی۔

ہمارے ہاں کئی راگوں کے نام مختلف علاقوں کے ناموں سے وابستہ ہیں۔ مثال کے طور سے آہر سے آہر بھیروں نے جنم لیا ہے۔ بازبہادر سے بہادری ٹوڈی کو منسوب کیا جاتا ہے۔ گوجری ٹوڈی کو گوجروں نے جنم دیا ہے اور یہ ان ہی کے نام سے منسوب ہوگئی ہے بھیرانی علاقے کے فوک بھیرویں راگ میں ڈھل گئے ہیں۔

کئی راگ ایسے ہیں جو اپنے علاقوں کے لوگوں کے مزاج ، کلچر ‘ امیدوں ‘ محرومیوں اورجذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ راگ جذبات و احساسات کے اظہار کے لیے تخلیق کیے گئے تھے اور ان میں یہ جذبات پوری طرح سموئے ہوئے ہیں۔

پنجاب میں تین راگ ایسے ہیں جو علاقے کے لوگوں کی تخلیق خواہشوں اور جذبات کے اظہار سے متعلق ہیں لیکن برصغیر کے دوسرے علاقے کے ہنر مندوں نے بھی ان سے استفادہ کیا ہے لیکن چونکہ ان راگوں نے پنجاب کی سرزمین میں جنم لیا ہے اس لیے ان پر پنجاب رنگ کی مہر لگ گئی ہے۔

راگ بھیرویں بہت نازک سُروں پر مشتمل ہے۔ یہ پنجاب کی صوفیانہ شاعری کے اظہار کا ذریعہ ہے جسے صوفیاء کے علاوہ مختلف بزرگوں نے بھی اپنایا۔ مثال کے طور پر ہیر کو وارث شاہ نے ایک دائمی حیثیت دے دی۔ ’’ہیر ‘‘ عموماً راگ بھیروی میں ہی گائی جاتی ہے۔ ’’ہیر کیا ہے۔ ہیر وارث شاہ دو رومانی کرداروں ہیر اور وارث شاہ کی داستان محبت ہے۔ یہ کہانی پنجاب کے کلچر ‘ رسوم و روایات کی مظہر ہے جس سے پنجاب کے دیہاتی ماحول کا بھی بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اسے دیہاتوں میں عام طور پر گایا جاتا ہے۔ شادی بیاہ کے موقع پر ہویا کوئی اور اجتماع، لوگ ہیر گاتے ہیں جوکہ ہمیشہ راگ بھیرویں میں ہی گائی جاتی ہے۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ