الیکٹیبلز کا انتخابی معرکہ اور صدارتی نظام حکومت

الیکٹیبلز کا انتخابی معرکہ اور صدارتی نظام حکومت
الیکٹیبلز کا انتخابی معرکہ اور صدارتی نظام حکومت

  

پاکستان تحریک  انصاف  کو"الیکٹیبلز " سے  کافی توقعات وابستہ ہیں ۔ اس انتخابی حکمت عملی کے باعث تحریک انصاف کے انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم کے موقع پر اکثر ایسے امیدواروں کو ترجیح دی گئی جو ماضی میں اپنے انتخابی حلقوں سے ن لیگ یا پیپلزپارٹی کے انتخابی ٹکٹ پر انتخاب لڑکر ایوانِ اقتدار میں پہنچےتھے ۔ یہ آزمائے ہوئے گھوڑے ماضی میں بدعنوان سیاسی مافیا کے ہمرکاب رہ چکے ہیں ۔ یہ ہی الیکٹیبلز جب پرویز مشرف کے ساتھ تھے تو وہ اس کا پلڑا بھاری تھا ۔ یہ ہی الکیٹیبلز جب ق لیگ کے ساتھ تھے تو وہ ہی کامیاب ترین جماعت کہلاتی تھی۔ جب یہ پیپلزپارٹی سے جاملے تو وہ مضبوط ترین جماعت کے طور پر ابھری ۔ جب یہ الیکٹیبلز ن لیگ میں شامل ہوئے تو وہ بھی برسراقتدار آنے میں کامیاب ہو گئی۔ آج کل یہ الیکٹیبلز تحریک انصاف کے ساتھ ہمدردیاں جتاتے نظر آتے ہیں لہٰذا وہ کامیابی کےلیے پر امید ہے۔ اگلے عام انتخابات میں بھی یہ آزمودہ سیاسی گھوڑے جس کے پلڑے میں اپنا   وزن ڈالیں گے وہ کامیاب ہوگی۔ مختصر یہ کہ الیکٹیبلز نے سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں کو کامیابی کےلیے اپنا محتاج بنا کر رکھ دیا ہے۔

 الیکٹیبلز کی اکثریت مفاد پرست اور بدعنوان ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ انتخابی نظام الیکٹیبلز کا نظام ہے۔ اس نظام میں چاہے کوئی جماعت خواہ کتنے ہی اچھے سیاسی منشور اور اہل قیادت کے ساتھ میدان میں اترے , الیکٹیبلز کے بغیر انتخابی میدان میں خاطرخواہ کوئی کامیابی نہیں سمیٹ سکتی۔ یہ ہی وہ وجہ ہے جس نے عمران خان جیسے مخلص ترین سیاستدان کو بھی الیکٹیبلز کا محتاج بنادیاہے۔ بہت جلد کئی برساتی مینڈک تحریک انصاف کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ کر ایک مرتبہ پھر اقتدار کے ایوانوں میں اپنی سابقہ نشستوں پر براجمان ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے تحریک انصاف کی نظریاتی اساس پر کاری ضرب لگائی ۔ مستقبل میں بھی یہ ہی وہ لوگ ہیں جو عمران خان کو اپنے سیاسی منشور پرعملدرآمد کرنے راہ میں رکاوٹ محسوس ہوں گے۔ پارلیمانی سیاست میں اکثریت کی مرضی کے بغیر کوئی بڑا سیاسی فیصلہ کرنا ممکن نہیں رہتا۔  اپنی جماعت کی طرف سے اعتماد کا  ووٹ لیے بنا پارلیمانی نظام میں کوئی بھی نہ تو وزارتِ عظمیٰ پر براجمان ہوسکتا ہے اور نہ برسراقتدار رہ سکتاہے۔ تو کیا یہ مفاد پرست الیکٹیبلز عمران خان کو کارکنوں کی توقعات پر پورا اترنے دیں گے؟؟؟ ہرگز نہیں !!! پارلیمانی نظام میں انتخابات سے لے کر وزارتِ عظمیٰ کے حصول اور پھر برسراقتدار رہنے کےلیے قابل ترین وزیراعظم بھی اپنی سیاسی جماعت کے اراکین اسمبلی کی رائے کا احترام کرنے پر مجبور ہو جاتاہے۔

پاکستان کو الیکٹیبلز کے انتخابی نظام سے چھٹکارا دلائے بغیر حقیقی معنوں میں عوامی نمائندہ قیادت کا چناو ممکن ہی نہیں ہے۔ الیکٹیبلزکبھی ایسے فرد کو آگے نہیں آنے دیتے جو ان کے ذاتی سیاسی مفادات کےلیے خطرہ بنے۔ پاکستانی طریقہ انتخاب کو ٹھیک کرنا ہے تو ہمیں "پارلیمانی طرزِ حکومت " کو ترک کرکے "صدارتی طرزِ حکومت " اپنانا ہوگا۔ پاکستان کے عوام کوبراہ راست اپنے ووٹ سے صدرِ پاکستان کا چناوکرنے کا موقع دیا جائے ۔ ہرصدارتی امیدوار انتخابات سے پہلے تقریبًاً تین ماہ تک سیاسی جلسوں اور ذرائع ابلاغ ٹی وی , ریڈیو , اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک اپنا منشور پہنچائے۔ تاکہ عوام جس امیدوار کے منشور کو ملکی مسائل کے حل کےلیے مناسب سمجھیں , اسی کا انتخاب کریں۔ صدارتی طرزِ انتخاب ہی الیکٹیبلز کی سیاسی اجاراداری توڑسکتا ہے ۔

الیکٹیبلز کی اکثریت روایتی سیاست دانوں اور سرمایہ داروں پر مشتمل ہے۔ ایسے افراد کو قومی مفادات سے زیادہ اپنا ذاتی سیاسی مفاد عزیز ہے۔ اور وہ یہ چاہیں گے کہ بدعنوانی اور چوربازاری کے دروازے بند کرنے کےلیے سیاسی نظام میں کسی قسم کی اصلاحات نہ ہوں ۔ اور وزارتِ عظمیٰ پر براجمان فرد ان کے اشاروں پرہی چلے۔صدارتی طرزِ انتخاب میں منشور کی بنیاد پر براہ راست عوامی ووٹ سے منتخب ہونے والا صدر اپنی مرضی کی کابینہ بناکر انتظامی امور چلائے گاجبکہ مقننہ ایک مجلسِ قانون ساز کے طور پر کام کرےگی۔ صدرِ مملکت براہ راست عوام کو جواب دہ ہوگا اور آئندہ صدارتی انتخاب میں بطور امیدوارحصہ لے گا ۔ اور اگروہ اپنی کارکردگی سے عوام کو مطمئن نہ کرسکا تو عوام براہ راست اپنے ووٹ کی طاقت سے اسے ایوان اقتدار سے باہر نکال سکیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون سا لیڈر پاکستان سے پارلیمانی نظام  ختم  کرواکر صدارتی نظام متعارف کروانے میں کامیاب ہوتاہے  ۔  

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ