جنازے پر دھاڑیں مار مار کر رونے والے یہ افرادتو آپ نے دیکھ لیے لیکن ان کا مرنیوالے کیساتھ کیا رشتہ تھا اور یہ خود کون ہیں؟ جان کرآپ کیلئے یقین کرنا مشکل ہوجائے گا

جنازے پر دھاڑیں مار مار کر رونے والے یہ افرادتو آپ نے دیکھ لیے لیکن ان کا ...
جنازے پر دھاڑیں مار مار کر رونے والے یہ افرادتو آپ نے دیکھ لیے لیکن ان کا مرنیوالے کیساتھ کیا رشتہ تھا اور یہ خود کون ہیں؟ جان کرآپ کیلئے یقین کرنا مشکل ہوجائے گا

گھانا (ویب ڈیسک)انسان شہرت کا بھوکا ہے لیکن بعض لوگ اور معاشرے اس شوق میں ایسے ہتھکنڈے اختیار کرتے ہیں کہ یقین ذرا مشکل سے ہی آتا۔کچھ لوگ تو مرنے کے بعد بھی دھوم مچانا چاہتے ہیں اور اپنی وصیت میں پابند کر جاتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعدان کا جنازہ دھوم دہام سے اٹھایا جائے۔

افرقی ملک گھانا میں بھی ایسی ایسوسی ایشن کا انکشاف ہو اہے جو جنازوں پر رونے والی ٹیم کو کرائے پر بھیجتے ہیں اورگھانا میں ایک کمپنی نے جناز ے کے موقع پر کرائے کے ماتمی دینے کا باقاعدہ کاروبار شروع کردیا ہے۔

گھانا میںجنازوں پر رونے والی ایسوسی ایشن میںانتہائی ذہین رونے والے افراد بھرتی کیے گئے ہیں جو ایسےآنسو بہاتے ہیں کہ غمزدہ خاندان کے افراد اپنا غم بھول کر رونے والوں پر پیسے نچھاور کرنے لگتےہیں اور بعض افراد تو وصیت کر دیتے ہیں کہ ان کے مرنے پر رونے والے اسی گروپ کو بلایا جائے ۔

گھانا میں جنازوں پر زیادہ سے زیادہ رونے والے بلوائے جاتے ہیں اور دیگر رسومات بھی ادا کی جاتی ہیں،ان جنازوں پر بہت رقم خرچ ہوتی ہے جو 15 سے 20 لاکھ پاکستانی روپوں تک پہنچ جاتی ہے۔صر یہ ہی نہیں بلکہ جنازے اور تدفین کی مشہوری کیلئے اشتہارات دیئے جاتے ہیں اور بڑے بڑے بورڈ لگائے جاتے ہیں اورمرنے والے کیلئے مہنگے اور انوکھے تابوت بھی بنائے جاتے ہیں۔

اس گروپ کی خدمات حاصل کرنے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مختلف اور منفرد انداز میں رونے کی فیس بھی مختلف ہوتی ہے،صرف آنسو بہانے کی فیس الگ ہے اور صرف سسکیاں بھرنے کا پیکیج الگ۔کچھ لوگ روتے وقت چیختے بھی ہیں جس کے پیسے زیادہ ہیں جبکہ تیسرا گروپ تو روتے روتے گرجاتا ہے اور زمین پر لوٹنےلگتا ہے، کچھ ماہر تو اس موقع پر روتے روتے الٹیاں بھی کرنے کی اداکاری بھی کرتے ہیں۔

اس گروپ کی ایمی ڈوکلی نامی کارکن جو ا آنسو بہانے کی خدمات فراہم کرتی ہے کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ اپنے عزیزوں اور پیاروں پر کوشش کے باوجود آنسو نہیں بہاسکتے اسی لیے وہ ہم جیسے افراد پر انحصار کرتے ہیں۔ڈوکلی خود بھی بیوہ ہیں اور انہوں نے رونے کےلیے بیواؤں کا ایک گروپ بنارکھا ہے، لیکن ہر جگہ رونا آسان بھی نہیں ہے اور اسی لیے وہ آنسو بہانے کا معاوضہ حاصل کرتی ہیں ، اگر جنازہ بڑا ہوتو وہاں رونے کے پیسے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...