مسلمان بیوپاری کو گائے کے نام پر تشدد کرکے مارنے والے 8 ہندو غنڈے ضمانت پر رہا، مودی کے وزیر نے ہارپہنائے

مسلمان بیوپاری کو گائے کے نام پر تشدد کرکے مارنے والے 8 ہندو غنڈے ضمانت پر ...
مسلمان بیوپاری کو گائے کے نام پر تشدد کرکے مارنے والے 8 ہندو غنڈے ضمانت پر رہا، مودی کے وزیر نے ہارپہنائے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے ضلع رام گڑھ میں گزشتہ برس 27 جون کو مسلمان بیوپاری علیم الدین انصاری کو ذبیحہ کیلئے گائے لے جانے کا الزام لگا کر سرعام وحشیانہ تشدد سے شہید کرنے والے گائوں رکھشا دل کے 8 ہندو غنڈوں کو رانچی ہائیکورٹ نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جس کے بعد انہیں جے پرکاش نرائن جیل سے رہا کردیا گیا۔ ان میں مقدمے کا مرکزی ملزم نیتانند مہتو بی جے پی کا عہدیدار بتایا گیا ہے۔

رہا ہونے والے آٹھوں غنڈے گزشتہ روز جب رام گڑھ پہنچے تو مودی سرکاری کے وزیر مملکت برائے سول ایوی ایشن اور سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا کے بیٹے جیانت سنہا نے ان غنڈوں کو ہار پہنائے اور مٹھائی کھلائی۔ ان کے اعزاز میں ایک خصوصی تقریب ہوئی جس کی تصاویر سوشل میڈیا اور میڈیا پر آنے سے مودی سرکار پر ہندو غنڈوں کی سرپرستی کرنے کے حوالے سے تنقید کا طوفان کھڑا ہوگیا۔ خود یشونت سنہا نے جو بی جے پی کے سینئر رہنما ہیں، نے اپنے بیٹے کے عمل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسے ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہئے تھا آج مجھے احساس ہورہا ہے کہ میں ایک نالائق بیٹے کا باپ ہوں۔

جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ امردیپ یادیو نے جیانت سنگھ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مکمل وزیر بننے کیلئے ایسا کام کیا۔ یہ حساس معاملہ ہے ایسے افراد سے مرکزی وزیر کو دور رہنا چاہئے تھا۔ کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے کہا کہ بھارت کے مختلف حصوں میں سرعام تشدد کرکے لوگوں کو قتل کرنے کے واقعات بی جے پی کی پھیلائی ہوئی مذہبی اور فرقہ وارانہ منافرت کا نتیجہ ہیں ایسے واقعات بھارتی سماجی اور معاشرتی تانے بانے کیلئے شدید خطرہ ہیں۔

مزید : بین الاقوامی /علاقائی /پنجاب /لاہور