وہ جگہ جہاں لڑکیاں رات کو ریپ کے ڈر سے ٹوائلٹ میں جانے کی بجائے پیمپر پہن کر سوتی ہیں

وہ جگہ جہاں لڑکیاں رات کو ریپ کے ڈر سے ٹوائلٹ میں جانے کی بجائے پیمپر پہن کر ...
وہ جگہ جہاں لڑکیاں رات کو ریپ کے ڈر سے ٹوائلٹ میں جانے کی بجائے پیمپر پہن کر سوتی ہیں

ایتھنز(مانیٹرنگ ڈیسک) جنسی ہراسگی دنیا بھر کا مسئلہ ہے لیکن ایک جگہ یہ مسئلہ اس قدر سنگین صورت اختیار کر چکا ہے کہ خواتین رات کو جنسی زیادتی کے خوف سے ٹوائلٹ بھی نہیں جاتیں اور پیمپر پہن کر سوتی ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق یہ جگہ کوئی روایتی شہر یا قصبہ نہیں بلکہ یونان میں قائم اقوام متحدہ کا پناہ گزین کیمپ ہے۔ اس کیمپ میں سینکڑوں خیمے لگائے گئے ہیں جہاں ترکی کے راستے آنے والے کئی ممالک کے پناہ گزینوں کو رکھا گیا ہے۔یہ کیمپ یونان کے جزیرے لیبوس کے گاؤں موئرا کے قریب بنایا گیا ہے جہاں 8ہزار سے زائد لوگ مقیم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس کیمپ میں لڑائی جھگڑے اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات اس قدر کثرت سے ہو رہے ہیں کہ لوگ تنگ آ کر کیمپ سے فرار ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ کیمپ میں مقیم افغانی شہری داؤد اور اس کی اہلیہ فاطمہ نے بتایا کہ ’’رات کے وقت جو خاتون رفع حاجت کے لیے ٹوائلٹ چلی جائے اس کا بچ کر واپس آنا ناممکن ہے۔ چنانچہ یہاں خواتین رات کو ٹوائلٹ جانے کی ہمت نہیں کرتیں اور پیمپر پہن کر سوتی ہیں۔ ہم جنگ سے جان بچا کر بھاگے تھے لیکن یہاں اس سے بڑے خطرے میں پھنس چکے ہیں۔ ہر دن ایک نیا خطرہ لے کر آتا ہے اور ہمیں نہیں معلوم کہ ہم یہاں سے سلامت نکل پائیں گے یا نہیں۔‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...