”پنجاب کا وہ بڑا سیاستدان جس نے اپنے پالتو کتے کی ٹانگیں باندھ کر اسکو کوڑے مروائے کیونکہ ....“ ،سابقہ بیوی کا ایسا ہولناک انکشاف کر سن کر ہی روح کانپ جائے

”پنجاب کا وہ بڑا سیاستدان جس نے اپنے پالتو کتے کی ٹانگیں باندھ کر اسکو کوڑے ...
 ”پنجاب کا وہ بڑا سیاستدان جس نے اپنے پالتو کتے کی ٹانگیں باندھ کر اسکو کوڑے مروائے کیونکہ ....“ ،سابقہ بیوی کا ایسا ہولناک انکشاف کر سن کر ہی روح کانپ جائے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(ایس چودھری )پنجاب کے سابق گورنر اور وزیر اعلیٰ غلام مصطفے کھر جنہیں شیر پنجاب کہا جاتا تھا پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے دست راست کا درجہ رکھتے تھے اور ان کے لئے ایسی خدمات بھی انجام دیتے تھے جن کا حوصلہ دوسرے سیاستدانوں میں کم ہی تھا ۔غلام مصطفے کھر اب پی ٹی آئی میں شامل ہوچکے ہیں۔ ان پر ماورائے قانون اور انسانیت سوز کئی اہم ترین اقدامات اٹھانے کے الزامات تھے ۔ان کی سابقہ بیوی تہمینہ درانی نے ”مینڈا سائیں“ میں غلام مصطفے کھر کی شخصیت سے پردہ اٹھاتے ہوئے کئی ایسے واقعات قلم بند کئے تھے جو انکی جبلت میں ظلم و سفاکیت کی گواہی دیتے ہیں۔غریب انسانوں پر ان کے مظالم،جنسی بے راہ روی سمیت ایسے ہولناک واقعات بھی بیان کئے ہیں کہ سن کر ہی انسان کو جھرجھری آجائے کہ پاکستان میں جمہوریت کے نام پر حکومت کرنے والے سیاستدان انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں پر بھی ایسے مظالم کرتے ہیں کہ انسانیت کا سر شرم سے جھک جائے ۔

تہمینہ درانی نے لکھا ہے کہ کھر کو جانورو ں سے بھی نفرت تھی اور وہ میری جانوروں سے غیر معمولی محبت دیکھ کر حیران ہوتے تھے ۔ایک بار کھر نے انہیں اپنا واقعہ سنایا تھا جسے یاد کر کے میرے آج بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ تہمینہ درانی لکھتی ہیں کہ مصطفےٰ کی جوانی کے دن تھے۔ بظاہر وہ تیتر کا شکار کھیلنے نکلا تھا۔ شکار اٹھا کر لانے والے ایک کتے کو بھیجا گیا کہ وہ ایک مرے ہوئے پرندے کو اٹھا لائے اور اپنے آقا کے قدموں میں ڈال دے۔ اس بار کتے کے دل میں آئی کہ کچھ کھلنڈراپن ، تھوڑی سی دل لگی کرنی چاہیے۔ وہ مردہ پرندے کو جبڑوں میں دبا کر چپٹ ہوگیا۔

مصطفےٰ غصے سے کانپنے لگا۔ اس نے اپنے گرگوں کو نافرمان کتے کے تعاقب میں روانہ کیا اور کہا کہ اسے ڈھونڈو اور پکڑ کر گاﺅں لے آﺅ۔خود وہ دھول اڑاتا ہوا کار میں رخصت ہوا ۔ لگتا تھا جیسے اس کا سارا غصہ دائیں پاﺅں میں سما گیا ہے جس سے وہ اکسیلیٹر کو زور زور سے دبا کر ، سزا دے رہا ہے۔ گرگوں نے کتے کو ڈھونڈ نکالا اور کچے راستوں پر گھسیٹتے ہوئے گاﺅں لے آئے۔ لمبے تعاقب کے بعد کتا پیاس کے مارے بے حال تھا۔ زبان باہر لٹکی ہوئی تھی۔ بری طرح ہانپ رہا تھا۔ منہ کے گرد سفید جھاگ کی جھالربنی تھی اور لعاب کے چند قطرے زبان سے پھسل کر نیچے گر رہے تھے۔ اس پر خوف طاری تھا۔ لگتا تھا کہ اسے پتہ چل گیا ہے کہ کیا ہولناک عذاب اس کا منتظر ہے۔

مصطفےٰ آگ بگولا بنا ہواباہر آیا۔ کتے کو گھسیٹ کر سامنے لایا گیا۔ کتے نے اپنی ٹانگیں چوڑی کر کے پھیلا دیں اور خود کو پیچھے کی طرف گھسیٹنے لگا۔ سزا سے بچنے کے لیے وہ آخری بار رہا سہا زور لگا رہا تھا۔ اس کی آنکھیں ڈر کے مارے باہر ابل آئی تھیں۔ اسے کھینچ کر وہاں لایا گیا جہاں مصطفےٰ کھڑا تھا ۔ کتے کو زبردستی نیچے بٹھا دیا گیا۔ مصطفےٰ نے حکم دیا کہ اس کی چاروں ٹانگیں ملا کر باندھ دی جائیں۔ کتے نے نظر اٹھا کر دیکھا۔ رحم کا طالب ہوا ۔ اپنے مالک کی طرف نظر کی، ملتجیانہ انداز مین ، اپنے کیے پر تقریباً غم گسار ہوکر ، مصطفےٰ کو اس کے سوا کچھ دکھائی نہ دے سکا کہ سامنے سرکشی کی ایک علامت ہے۔

مصطفےٰ کو ایک ہی قانون کا پتہ تھا اور اسی کے مطابق سزا دینا چاہتا تھا اور وہ قانون تھا : تشدد۔اس نے حکم دیا کہ کتے کو کوڑے اور ڈنڈے لگائے جائیں۔ کھر کے گرگے زمین پر چت پڑے کتے کے گرد جمع ہوگئے ، جو یہ سمجھ کر کہ اس پر برا وقت آیا ہی چاہتا ہے۔ رو اور چلا رہا تھا۔ گرگوں کے ہاتھ میں چمڑے کے کوڑے اور بانس تھے۔ کتے کے جسم پر تابڑ توڑ برسنے شروع ہوئے۔ وہ کرب کے مارے تڑپتا رہا۔ اس کی چیخوں سے کوٹ ادو کے اردگرد کا سکوت چھلنی ہوگیا۔ اس کا جسم شاید ذہن کی منت کرتا رہا کہ ہار مان لے۔ ذہن نے ہار مان کر نہ دی۔ کم از کم پینتالیس منٹ تک تو نہیں مانی۔ آخر کار کتے کی آنکھیں دھندلا گئیں۔ اور اسے ہوش نہ رہا۔

مصطفےٰ کو فوراً کتے پر ترس آگیا۔ اس نے اپنے ایک گر گے سے کہا کہ کتے کو لے جائے اور اس کی دوا دارو کرے۔ کتے کی طرف سے منہ پھیر کر وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا گھر کے اندر چلا گیا۔ اب اچانک وہ خود کو مجرم محسوس کرنے لگا تھا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس