پاکستانی سفارت خانہ کی لاپروائی،آسٹریلیا کے شاپنگ سنٹروں میں پاکستانی مصنوعات ناپید ہونے لگیں

پاکستانی سفارت خانہ کی لاپروائی،آسٹریلیا کے شاپنگ سنٹروں میں پاکستانی ...
پاکستانی سفارت خانہ کی لاپروائی،آسٹریلیا کے شاپنگ سنٹروں میں پاکستانی مصنوعات ناپید ہونے لگیں

سڈنی (راجہ تاثیر سے)پاکستانی مصنوعات آسٹریلین شاپنگ سنٹروں میں نا پیدہوتی جارہی ہیں۔سروے کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں پاکستانی ٹریڈ اور مصنوعات بڑی ہی تیزی سے دن بدن کم ہو رہی ہیں۔ایک سال کے دوران سپورٹس کی مصنوعات سے لے کر کاٹن اور دیگر ہر شعبے میں پاکستانی مصنوعات آسٹریلین مارکیٹوں میں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں۔ پاکستانی تاجر روز بروز کی اس گرتی ہوئی صورت حال سے پریشان ہیں جبکہ حکومت پاکستان اور ٹریڈ کمیشن آف پاکستان پاکستانی مصنوعات کے فروغ کےلیے عملی اقدامات نہیں اٹھارہے ۔

واضح رہے کہ آسٹریلین شاپنگ سنٹروں میں آج سے دو سال قبل تک پاکستانی مصنوعات ہر بڑے شاپنگ سنٹر اور بڑے سٹورز پر دستیاب ہوا کرتی تھیں پاکستانی مصنوعات بالخصوص تولیے بیڈ شیٹس سپورٹس کا سامان اور دیگر روز مرہ گھریلو استعمال کی اشیاءکی اشد مانگ تھی۔ آج آنکھیں میڈ ان پاکستان کا نام دیکھنے کو ترس کر رہ گئی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف پاکستانی ٹریڈ کمشنر، قونصل جنرل جن پر کروڑوں روپے سالانہ صرف پاکستانی ٹریڈ اور پروڈکٹس کو آسٹریلیا میں پروموٹ کرنے پر خرچ کئیے جاتے ہیں،انکی اس سلسلہ میں کاوشیں مایوس کن ہیں۔ ایک ٹریڈ کمشنر کی رہائش گاہ کا کرایہ ماہانہ 8 لاکھ سے زیادہ جبکہ تنخواہ ٹی اے ڈی اے میڈیکل انشورنس فیملی الا ونس اور دیگر اخراجات سونے پر سہاگہ ہیں۔پاکستان مصنوعات کو پروموٹ کرنا چھوڑ کر یہ عملہ ویزے دینے اور ڈرائیونگ لائسنسوں کی ویری فیکیشنز کو اپنی کارکردگی ظاہر کرتا ہے ۔ آسٹریلیا میں بسنے والی تاجر برادری کا کہنا ہے کہ گزشتہ سالوں میں نہ ہی پاکستانی حکومتی باشندوں کی جانب سے کوئی ٹریڈ ایکسپو اور نہ ہی کسی طرح کا کوئی اقدام کیا گیا ہے جس سے پاکستانی مصنوعات لوگوں میں مقبولیت حاصل کر سکیں۔ اگر یہی صورت حال رہی تو ایک دن پاکستانی چاول اور مصالہ جات بھی آسٹریلیا آنے بند ہو جائیں گے۔پاکستانی سفارت خانہ کو فوری اس جانب توجہ دیکر ترجیحی طور پر پاکستانی مصنوعات کی پرموشن کے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

مزید : بین الاقوامی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...