میاں شہباز شریف کی وہ خوبی جس سے سارے سیاستدان محروم ہیں ، ایسی کیا بات ہے کہ کوئی بھی سیاستدان مجمع کا دل جیتنے کے لئے یہ کام نہیں کرسکتا ،جان کر آپ بھی کہیں گے واہ چھوٹے میاں واہ

میاں شہباز شریف کی وہ خوبی جس سے سارے سیاستدان محروم ہیں ، ایسی کیا بات ہے کہ ...
میاں شہباز شریف کی وہ خوبی جس سے سارے سیاستدان محروم ہیں ، ایسی کیا بات ہے کہ کوئی بھی سیاستدان مجمع کا دل جیتنے کے لئے یہ کام نہیں کرسکتا ،جان کر آپ بھی کہیں گے واہ چھوٹے میاں واہ

  

لاہور(ایس چودھری)میاں شہباز شریف نے جب سے خادم اعلٰی کا لقب اپنایا ہوا ہے ان کا سیاسی اور عوامی انداز ہی بدل گیا ہے ۔حالانکہ اپنے پہلے دور حکومت میں میاں شہباز شریف کو انتہائی سنجیدہ مزاج سمجھا جاتا تھا اور وہ عوامی سٹائل اپنانے سے بھی گریزاں تھے لیکن اب انکا جلسوں کے دوران انداز بالکل بدل گیا ہے ،وہ عوام کا دل جیتنے کے سُریلے انداز میں گانے بھی گاتے ہیں اور جوش خطابت میں ڈائس پر مکے بھی برسانے لگ جاتے ہیں۔ پاکستان کا شاید ہی کوئی سیاستدان اس خوبی سے مالا مال ہوگا کہ وہ سیاسی جلسے کو ڈی جے کی مدد کے بغیر بھی گانے سنا کر اپنے کارکنوں اور عوام کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہوگا ۔ہارون آباد کے جلسہ میں میاں شہباز شریف نے انتخابی مہم کے دوران کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے نہ صرف گنگنا کر ”آئی لو یو“ کہا بلکہ انڈین گانا ”اوننھے سے فرشتے،تجھ سے یہ کیسا ناطہ،کیسے یہ دل کے رشتے ،او ننھے سے فرشتے ،آئی لو یو“ کے بول اونچے سروں میں گا کر جلسہ گاہ کو گرمادیا۔

میاں شہباز شریف کی گائیکی کے پیچھے استادوں کی محنت بھی شامل ہے ،چھوٹے میاں صاحب کی طرح بڑے میاں صاحب بھی فن گائیکی کے شوقین ہیں اور سر لے کو سمجھ رک گاتے ہیں۔مگر کیمرہ کے سامنے وہ گنگنانے سے گریزاں رہتے ہیں۔ اگرچہ بہت سے سیاستدانوں کو موسیقی پسند ہے لیکن کوئی بھی ایسا نہیں جومیاں شہباز شریف کی طرح جلسہ گاہوں اور پارٹی کنوینشنز میں جوش میں آتے ہی برمحل گیت گاکر دلوں کو لوٹ لیتے او رگرما بھی دیتے ہیں۔انہیں محمد رفیع ،کشور ، مہدی حسن ،احمد رشدی،مالا،نورجہاں کے درجنوں گیت یاد ہیں ۔ گھر میں بھی کوئی تقریب ہوتو وہ خوشی کے موقع پر بچوں بڑوں کے سامنے گا کر ان کا دل جیت لیتے ہیں۔میاں صاحب کے ایک قریبی سیاستدان دوست کا کہنا ہے کہ میاں شہباز شریف اپنے خاندان کے بچوں میں اپنی انہی خوبیوں کی وجہ سے بھی بے حد مقبول ہیں۔وہ بچوں کے ساتھ مل کر ملی گانے بھی گاتے ہیں ۔

میاں شہباز شریف کی یہ خوبی انکے ساتھیوں اور پروٹوکول والوں کو بھی چونکا کررکھ دیتی ہے ۔کئی بار وہ کسی محفل میں کسی سنگر کو پسندیدہ گانا گاتے ہوئے سنتے ہیں تو اس سے مائیک لیکر خود وہی گانا بھی گانے لگ جاتے ہیں۔لوگ ان سے فرمائش کرکے بھی گانے سنتے ہیں۔کراچی کی ایک ایسی تقریب کے دوران مشاہد حسین اور رانام مشہود بھی ان کے ساتھ تھے جب ایک نوجوان گلوکار کواحمد رشدی کا مقبول گانا ” اکیلے نہ جانا ،ہمیں چھوڑ کر تم ،“ گاتے دیکھا تو انتہائی انہماک سے اسکو سنا ، پھر دوران گیت ہی اس سے مائیک لیکر یہ گانا پورے سُر تال کے ساتھ مکمل کردیا۔احمد رشدی کا یہ گانا ان کے پسندیدہ ترین گانوں میں سے ایک ہے جس کو وہ کئی ٹی وی پروگراموں اورجلسوں میں انٹرویو کے دوران بھی سنا چکے ہیں۔اپنی انہیں خوبیوں کی وجہ سے میاں شہباز شریف کو پسندیدہ عوامی لیڈر کا بھی مقام حاصل ہوچکا ہے ۔

میاں شہباز شریف سیاسی اور عدالتی فیصلوں کو انقلابی نظموں کی صورت میں بھی ردعمل کا ذریعہ بناتے اور جلسوں میں ترنم سے گاتے ہیں ۔میاں نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلے پر انہوں نے نارووال میں ایک جلسہ کے دوران حبیب جالب کی مشہور زمانہ انقلابی نظم ”دیپ جس کا محلات ہی میں جلے،چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے ،وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ،ایسے دستور کو صبح بے نور کو ،میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا “ سنا کر عدالتی فیصلوں کو رد کردیا ہے۔یہ نظم بھی انکی پسندیدہ ہے جسے وہ جارحانہ بیانیئے کی صورت سناتے ہیں۔

بھری محفلوں میں گاکر دلوں کو لوٹنے کا یہ اندازپاکستان سے باہر بھی میاں شہباز شریف کی مقبولیت کا حصہ بن گیا ہے ، کئی ملٹی نیشنل تقریبات میں غیر ملکی سنگرز کے ساتھ بھی میاں شہباز شریف کو گاتے دیکھا گیا ہے ۔ایک تقریب جس میں چینی طائفہ بھی موجود تھا جب چین کے ایک سنگر نے ” میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے“ گایا تو میاں شہباز شریف نے چینی گلوکار کی غیر معمولی پذیرائی کرتے ہوئے اسکے ساتھ مل کر یہ ملی نغمہ گایا تو اسکا چرچا چین میں بھی کیا گیا۔دیکھا جائے تو میاں شہباز شریف کی اعلٰی انتظامی صلا حیتوں کے ساتھ ساتھ عوام کے دلوںکو موہ لینے کا یہ انداز باقی کسی اور پاکستانی لیڈر میں نظر نہیں آتا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس