وڈیو جعلی یا اصلی،فرانزک آڈٹ کرا لیا جائے

وڈیو جعلی یا اصلی،فرانزک آڈٹ کرا لیا جائے

العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو قید اور جرمانے کی سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے کہا ہے کہ ان کے حوالے سے مریم نواز شریف نے جو وڈیو پیش کی ہے وہ جعلی ہے، اس معاملے میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ آڈیو اور وڈیو قوم کو گمراہ کرنے کی سازش ہے، فرانزک آڈٹ کرایا جائے گا، جج سے بات ہوئی یا نہیں قوم سے کچھ نہیں چھپایا جائے گا، کیونکہ ہم جسٹس قیوم کی طرح نہیں ہیں یہ پوری عدلیہ پر حملہ ہے۔ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ اگر وڈیو جعلی ثابت ہو گئی تو پیش کرنے والوں کو چھ ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے، سابق صوبائی وزیر اطلاعات اور حال ہی میں دوبارہ وزیر بننے والے فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ جج صاحب کو نشے میں دھت کر کے اُن کی وڈیو بنائی گئی۔

وڈیو کو جعلی قرار دینے والے تو بہت ہیں،لیکن اسے جعلی قرار دینے کے لئے اُن کے پاس دلائل و شواہد کی بجائے تاویلات زیادہ ہیں۔مریم نواز شریف نے جب پریس کانفرنس ختم کی اور ٹی وی اینکروں نے مختلف لوگوں کی رائے معلوم کرنے کی کوشش کی تو بعض حضرات نے چند ثانئے توقف کئے بغیر ہی کہہ دیا کہ یہ وڈیو جعلی ہے اس معاملے میں تاخیر اگر ہوئی تو اینکروں کی طرف سے ہے اگر وہ مریم نواز شریف کی پریس کانفرنس روک کر ان حضرات سے پوچھ لیتے تو بھی یہی جواب ملتا کہ وڈیو جعلی ہے ایسے میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا یہ اعلان خوش آئند ہے کہ فرانزک آڈٹ کے ذریعے معلوم کیا جائے گا کہ وڈیو جعلی ہے یا اصلی،جنہوں نے یہ وڈیو پیش کی ہے اُن کا موقف ہے کہ یہ اصلی ہے،جس جج کے بارے میں پیش کی گئی ہے وہ اسے جعلی قرار دیتے ہیں، 53منٹ کی اس وڈیو کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ مختلف اوقات میں بنا کر جوڑی گئی، حالانکہ وڈیو میں جج صاحب اور دوسرے فریق نے ایک ہی کپڑے پہنے ہوئے ہیں جو ممکن ہے کہ اتفاق ہو یعنی جب بھی وڈیو بنائی گئی جج صاحب اور بنانے والے ایک ہی لباس پہنے ہوئے ہوں، ایسے میں فرانزک آڈٹ ہی درست حل ہے اور جتنی جلد ممکن ہو اس کا فیصلہ کر کے عملی اقدامات کا اعلان کر دینا چاہئے تاکہ جلد ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے اور فروغ نسیم کے بقول جعلی وڈیو پیش کرنے والوں کو ”چھ ماہ سزا“ بھی ہو جائے۔

یہ وڈیو مریم نواز شریف کے پاس کب آئی، بظاہر تو اندازہ ہوتا ہے یہ بہت پہلے سے اُن کے پاس نہیں ہو گی۔اگر ہوتی تو وہ شاید اسے پہلے ہی پیش کر دیتیں یا ممکن ہے انہوں نے اِس وڈیو کو کسی ایسے موقع کے لئے سنبھال رکھا ہو،اس وقت بھی العزیزیہ ریفرنس کے خلاف نواز شریف کی اپیل زیر سماعت ہے۔ اگر وڈیو سے ضمانت کے حصول میں کچھ مدد مل سکتی ہے، تو وکلا یہ وڈیو عدالت کے روبرو پیش کر دیں گے،لیکن بہتر ہے کہ پہلے اصلی اور جعلی کا فیصلہ ہو ہی جائے،کیونکہ اگر یہ جعلی نکلی تو نواز شریف کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا،بلکہ اُلٹا نقصان ہو جائے گا اور ایک نیا مقدمہ بن جائے گا۔ البتہ اگر یہ اصلی نکلتی ہے تو نواز شریف کو سیاسی کے ساتھ ساتھ قانونی فائدہ بھی ہو سکتا ہے،چونکہ وہ جج صاحب جن کی یہ وڈیو ہے اسے جعلی قرار دے چکے ہیں اِس لئے یہ اور بھی ضروری ہے کہ اس وڈیو کا فرانزک آڈٹ جلد ہو اور اس کے نتائج سے بھی قوم کو آگاہ کیا جائے۔

جس شخص کے ساتھ جج صاحب گفتگو فرما رہے ہیں اور جو درمیان درمیان میں لقمے بھی دے رہا ہے، لگتا ہے کہ اس شخص کی جج صاحب کی مجالس تک آسان رسائی ہو گی ہر کوئی تو نہ جج صاحب کو مل سکتا ہے، نہ اُس کے ساتھ اُن کی جانب سے دیئے گئے فیصلوں پر بے تکلفانہ گفتگو کر سکتا ہے،لیکن وڈیو کا معاملہ سامنے آتے ہی یہ بات بھی نظر آ گئی کہ یہ شخص قتل کے مقدموں میں ملوث رہا ہے،بدکردار اور نہ جانے کیا کیا کچھ ہے،اس کے خلاف مختلف تھانوں میں کئی مقدمات درج ہیں، حیرت ہے کہ کل تک اُس کے بارے میں کسی کو زیادہ معلوم نہ تھا، ادھر وڈیو سامنے آئی اور ادھر اس شخص کے ”کرتوتوں“ کا پتہ چل گیا، وڈیو جعلی ہے تو بات کرنے والے بدکردار شخص سمیت سب بھگتیں گے،لیکن ایک لمحے کے لئے فرض کرتے ہیں کہ اس وڈیو کا سارا نہیں، کچھ نہ کچھ حصہ ہی درست ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہماری عدلیہ سے وابستہ صاحبان ذی وقار کی مجالس میں کیسے کیسے لوگوں کو رسائی حاصل ہے اور سب سے زیادہ سکّہ بند بات تو فیاض الحسن چوہان نے کہی۔اُن کا کہنا ہے کہ جج صاحب کو نشے میں دھت کر کے وڈیو بنائی گئی، اب فیاض الحسن چوہان جیسا صاحب ِ بصیرت جو کہہ رہا ہے اس کا تو دوسرے الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ جج صاحب شراب کے بھی رسیا ہیں اور انہیں کوئی بھی شخص شراب پلا کر دُھت کر سکتا ہے، معلوم نہیں فیاض الحسن چوہان جج کے ہمدرد ہیں یا مخالف، یا پھر وہ ہر قیمت پر سچ بول گئے ہیں،کیونکہ انہوں نے جو کہا ہے اس سے تو یہ ثابت ہو گیا کہ وڈیو جعلی نہیں ہے۔البتہ جو باتیں اس میں جج صاحب نے کہیں وہ بقائمی ہوش و حواس نہیں،بلکہ نشے میں دُھت ہو کر کہیں، ہماری چوہان صاحب سے گزارش ہے کہ اپنا یہ بیان واپس لے لیں ورنہ وڈیو جعلی بھی ہوئی تو ان کا بیان تو اصلی ہی سمجھا جائے گا اور جج صاحب پر کثرتِ شراب نوشی کا مقدمہ بھی بن سکتا ہے۔

بعض حضرات کو اس امر پر گِلہ ہے کہ شہباز شریف پریس کانفرنس میں چُپ کر کے کیوں بیٹھے تھے اور جو باقی حضرات موجود تھے انہوں نے بھی زیادہ گفتگو نہیں فرمائی اور مریم نواز ہی بات کرتی رہیں،یہ سارے معاملے کو ٹریک سے ڈریگ کرنے کی کوشش ہے، جو مریم نواز نے کہا اہمیت اُس کی ہے، جواب میں جو فردوس عاشق نے کہا اس کی بھی اہمیت ہے، اب یہ ضروری ہے کہ سارے فروعی معاملات کو بھول کر پہلے فرانزک آڈٹ کرا لیا جائے،تاکہ کم از کم اتنا تو پتہ چلے کہ وڈیو جعلی ہے یا اصلی؟ جج صاحب تو بہرحال اسے جعلی قرار دے چکے، لیکن ان کے بعض نادان دوست شاید جوشِ جذبات میں اُنہیں پھنسانے پر تلے ہوئے ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ