چاند کا مسئلہ، قمری کیلنڈر؟

چاند کا مسئلہ، قمری کیلنڈر؟

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کی ہدایت پرتیارکیا گیا پانچ سالہ قمری کیلنڈر عیدالفطر کے بعد اگلے ہی مہینے پٹ گیا اور اس کی متعین کردہ تاریخ اور دن پر ذیقعد کا قمری مہینہ شروع نہیں ہوا بلکہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اعلان ہی سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر قبول کیا گیا اور ذیقعد کی یکم 5جولائی بروز جمعہ کو ہوئی کہ کمیٹی کے مطابق 3جولائی کو چاند نظر نہیں آیا اور شوال کا مہینہ 30دنوں پر مشتمل ہوا، جبکہ وزارت سائنس کی طرف سے جاری کیلنڈر کے مطابق ذیقعد کی یکم جمعرات 4جولائی کو درج تھی۔ یوں ابتداء ہی میں یہ غلط ثابت ہوئی کہ رویت ہلال کمیٹی کی حیثیت سرکاری ہے۔

محترم وفاقی وزیر نے رمضان المبارک کے چاند پر ہی یہ تنازعہ پیدا کر دیا اور نہ صرف اعلان کیا بلکہ پانچ سالہ قمری کیلنڈر تیار کراکے اسے مختلف اداروں میں بھی بھجوا دیا، بہرحال یہ کیلنڈر اعلان کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی پیش نہ کیا گیا اور نہ ہی کوئی منظوری حاصل ہوئی، جبکہ وفاقی حکومت کی وزارت مذہبی امور نے باقاعدہ نوٹیفکیشن کے ذریعے روئت ہلال کمیٹی کی تنظیم نو کا اعلان کیا اور چیئرمین مفتی منیب الرحمن ہی کو نامزد کیا، کمیٹی ہی نے رمضان المبارک اور پھر شوال کے چاند کا اعلان کیا اور اگلے ماہ کی یکم بھی اس کمیٹی کی طرف سے اعلان کردہ تسلیم کی گئی ہے،اس سلسلے میں جب تنازعہ بنایا گیا تو باقاعدہ دلائل اور شواہد سے یہ بتایا اور ثابت کیا گیا کہ رویت کا طریقہ احکام دین کی روشنی میں ہی ہے اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی سائنس کے متعلقہ شعبوں سے بھی تعاون لیتی ہے بلکہ زیادہ اجلاس بھی محکمہ موسمیات کے کراچی مرکز میں ہوتے ہیں، سائنسی فکر سے مدد ضرور لی جاتی ہے، مگر فیصلہ مستند شہادتوں کی بناء پر ہی ہوتا ہے، مگر فواد چودھری اپنی بات پر قائم رہے۔ کیلنڈر بھی جاری کیا اور کہا کہ اب رویت ہلال کمیٹی کی ضرورت نہیں، اس پر لاکھوں روپے فضول خرچ ہوتے ہیں، یہ کیلنڈر پہلے ہی مرحلے پر ناکام ہو گیا شاید تیار کرتے وقت مکمل تحقیق کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔ وفاقی حکومت کا یہ اقدام مناسب ہے اور اس سے تنازعات نہیں ہوں گے۔ فواد چودھری کو اپنی رائے پر نظرثانی کرنا ہو گی کہ علماء کرام کتہے ہیں ان کا کیلنڈر حتمی نہیں بلکہ شہاتوں کی بناء پر ہی قمری تاریخ معتبر ہوگی۔

حکومت کو بھی خیال رکھنا ہو گا کہ شرعی اور دینی امور کے حوالے سے احتیاط کی جائے اور تنازعہ سے بچا جائے چہ جائیکہ اصرار کیا جائے، کیلنڈر تیار کرنا مقصود ہے تو کر لیا جائے لیکن پالیسی دہری نہ کی جائے کہ ایسا کرنے سے خلفشار پیدا ہوتا ہے۔ فواد چودھری کو حقائق تبدیل کر لینا چاہئیں۔

مزید : رائے /اداریہ