’میری موت کے بعد میرا جسم جما دیا جائے گا تاکہ میں مستقبل میں پھر سے زندہ ہوسکوں‘

’میری موت کے بعد میرا جسم جما دیا جائے گا تاکہ میں مستقبل میں پھر سے زندہ ...
’میری موت کے بعد میرا جسم جما دیا جائے گا تاکہ میں مستقبل میں پھر سے زندہ ہوسکوں‘

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)طویل زندگی کی خواہش سبھی کو ہوتی ہے مگر موت کے آگے کس کی چل سکی ہے۔ اس کے باوجود لوگ اپنے تئیں زیادہ عمر پانے کے جتن کرتے ہیں۔ تاہم یہ برطانوی انجینئر تو اس خواہش میں اس حد تک چلا گیا ہے کہ سن کر آپ حیرت کے سمندر میں ڈوب جائیں گے۔ دی مرر کے مطابق مائیک کارٹر نامی اس ریٹائرڈ انجینئر نے مرنے کے بعد اپنا جسم منجمد کروانے کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔ جیسے ہی اس کی موت واقع ہو گی، اس کے جسم کو مخصوص طریقے سے انتہائی کم درجہ حرارت پر محفوظ کر لیا جائے گا۔

مائیک کارٹر کا خیال ہے کہ اس طریقے سے مرنے کے بعد اس کا جسم سلامت رہے گا اور وہ مستقبل میں کبھی دوبارہ زندہ ہو جائے گا اور ایک بار پھر اس دنیا میں زندگی گزارے گا۔ رپورٹ کے مطابق جب مائیک کارٹر قریب المرگ ہو گا تو ماہرین کی ایک ٹیم اس کے پاس موجود ہو گی جو اس کے جسم کو محفوظ کرنے کا کام کرے گی۔ اس وقت بھی ایک ڈاکٹر اور ایک نرس ہمہ وقت اس کے ساتھ رہتے ہیں، کیونکہ ا س کی موت کے فوری بعد اس کو محفوظ کرنے کا عمل شروع کرنا ناگزیر ہے۔ اگر فوری بعد یہ نہ ہوا تو اس کے جسم کو محفوظ کرنا بے کار ہو گا اور مستقبل میں اگر کبھی سائنس اس نہج تک پہنچ بھی گئی تو اسے زندہ کرنا ناممکن ہو گا۔مائیک کارٹر کا کہنا ہے کہ ”جب میں نے سنا کہ امریکہ میں انسانوں کے جسم منجمد کرنے کی سروس شروع ہو چکی ہے تو میں نے کچھ ماہرین سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ کس طرح جسم کو منجمد کیا جائے گا اور مستقبل میں کس طرح اس کے دوبارہ زندہ ہونے کے امکانات ہیں۔ میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ ایسا ممکن نہیں ہے لیکن مرنے کے بعد کھونے کے لیے کیا باقی رہ جاتا ہے؟ چنانچہ اس طریقے کو آزمانے میں کیا حرج ہے۔ یہ سوچ کر میں نے یہ سروس دینے والے ایک کلینک کی خدمات حاصل کر لیں، جس کی ایک برانچ برطانیہ میں بھی موجود ہے۔میرے علاوہ 50دیگر لوگوں نے بھی اس کلینک کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔ ان میں سے چند ایک کے جسم منجمد کیے جا چکے ہیں اور باقی ابھی زندہ ہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ