کرونا بھی اور سیاست بھی،کسی کا سرا ہاتھ نہیں آتا،

کرونا بھی اور سیاست بھی،کسی کا سرا ہاتھ نہیں آتا،

  

مائنس ون اور ان ہاؤس تبدیلی کی باز گشت میں مالی بجٹ2020-21ء پاس تو ہو گیا،لیکن بہت سارے سوالات چھوڑ گیا ہے!اگرچہ ملک کورونا وبا کی گرفت میں ہے اور کورونا کی لہر مسلسل بلندی کی جانب گامزن نظر آتی ہے۔ کورونا کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد دو لاکھ35ہزار کے لگ بھگ ہے اس موذی مرض سے مرنے والوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پانچ ہزار سے زیادہ ہوا چاہتی ہے، حتیٰ کہ وفاقی وزیر ہیلتھ ریگولیشنز ڈاکٹر ظفر مرزا اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی کورونا کا شکار ہو کر قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔ دلچسپ اور افسوسناک امر یہ ہے کہ ملک کی چوٹی کی شخصیات جو اس مرض کے مقابلے کے لئے حفاظتی اقدامات،تدابیر بنانے اور عوام کو ان پر عملدرآمد کروانے کے لئے لائحہ عمل بنانے پر مامور ہیں وہ شاید خود کلی طور پر ان حفاظتی اقدامات پر عمل پیرا ہونے سے قاصر ہیں۔ صرف ہیلتھ ریگولیشنز کی وزارت میں ہی بہت سے اعلیٰ افسران کورونا کا شکار ہو چکے ہیں۔یہی حال ملک کی سیاسی شخصیات کا ہے جو رول ماڈل کی حیثیت کی حامل سمجھی جاتی ہیں،لیکن ان کی جانب سے بھی یہی افسوسناک رویہ سامنے آ رہا ہے کہ بہت سے عوامی اور سماجی سرگرمیوں کے مواقع پر بعض اوقات ماسک پہننے کا بھی ترود نہیں کیا جاتا۔ دارالحکومت میں جی ایٹ، جی سیون، جی سکس اور جی نائن کے بعض علاقے بدستور ہاٹ سپاٹ ہیں اور راولپنڈی سے ملحقہ آئی سیریز کے سیکٹرز میں بھی بعض علاقے خطرناک ہیں،لیکن دارالحکومت میں بھی کاروباری مراکز میں اکثریت لوگوں نے ایک تکلف کے طور پر ماسک پہنا ہوا ہوتا ہے۔حکومت ایس او پیز کا اعلان تو کر رہی ہے،لیکن سختی سے عملدرآمد ندارد۔ اب یہی صورت حال آئندہ مویشی منڈیوں میں نظر آ سکتی ہے جس سے اس موذی وبا کے پھیلاؤ کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ حکومت اس ضمن میں موثر اقدامات کرتی نظر نہیں آ رہی تاہم اس بار بجٹ سیشن میں اپوزیشن کی جانب سے موثر طرزِ حکمرانی کی کمی کا احساس خوب زور و شور سے دلایا گیا۔ چینی، آٹا بحران اور حالیہ پٹرول کی قیمتوں میں یک لخت اضافہ سے عوام کی جیب سے جس طرح اربوں روپے لوٹے گئے ہیں اس پر دھواں دھار تقریریں ہوئیں،لیکن نہ تو حکومت کے کان پر جوں رینگتی نظر آئی اور نہ ہی اپوزیشن نے اس حکومتی رویہ پر بجٹ کو پاس کروانے سے روکنے کے خلاف کوئی جامع اور موثر حکمت عملی اپنائی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اپوزیشن بھی محض ہوائی فائرنگ پر ہی اکتفا کر رہی ہے۔دارالحکومت کے مختلف حلقوں میں ایک موثر طرزِ حکمرانی کے نہ ہونے پر اتفاق ہے،لیکن اپوزیشن جماعتوں کے پاس حکومت کے خلاف کوئی ٹھوس حکمت عملی نظر نہیں آتی، حتیٰ کہ ایسے وقت میں جب بعض پی ٹی آئی کے اپنے ارکان اسمبلی اپنی حکومت کے خلاف سراپا تنقید بنے ہوئے ہیں اور بعض حلقوں کے دعوؤں کے مطابق پی ٹی آئی کے بعض ارکان خفیہ طور پر اپوزیشن کے ساتھ روابط میں بھی ہیں،صورت حال اس حد تک دگر گوں ہو گئی کہ وزیراعظم عمران خان نے خود اپنی تقریر میں مائنس ون کا ذکر کر ڈالا، جس پر خوب بحث و تمحیص ہوئی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے انٹرویو میں تحریک انصاف کے چوٹی کے قائدین کے مابین اختلافات کا انکشاف اور پھر اس انٹرویو سے اگلے ہی ر وز کابینہ اجلاس میں انہی قائدین کے ساتھ فیصل واؤڈا کی تلخ کلامی بھی ان ہاؤس تبدیلی کے ذریعے مائنس ون کی پارٹی کے اندر ہی نپنے والی کسی سازش کا سدباب کرنا تھا،لیکن اپوزیشن بظاہر اس صورت حال میں کوئی سیاسی پہل کرتی ہوئی نظر نہیں آ رہی اور شاید منتظر ہے کہ پھل خودبخود پک کر ان کی گود میں آ ٹپکے، تاہم اپوزیشن کے بعض حلقوں میں سپیکر یا ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی تجویز زیر بحث ہے، تاکہ اپوزیشن اِن ہاؤس تبدیلی کی اہم ممکنہ تحریک کے لئے ایک وارم میچ کھیل سکے۔ اب دیکھنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کب تک مفاہمت کا جادو جگائے گی اور ووٹ کو عزت د ے پرانے بیانیے پر واپس آئے گی۔دلچسپ امر یہ ہے کہ جس طرح حکومتی جماعت کے اپنے ہی بعض اراکین اپنی قیادت سے مطمئن نہیں،اس طرح پاکستان مسلم لیگ(ن) کے اندر بھی اپنی قیادت کی مفاہمانہ پالیسی سے متفق نہیں ہیں۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ مسلم لیگ(ن) اپنے پتے کس طرح کھیلتی ہے، جبکہ دارالحکومت میں ایک کے بعد دوسرا بحران پیدا ہونا معمول کی بات ہو گئی ہے۔ وزیر ہوا بازی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے پائلٹوں کے بارے میں جو انکشافات کئے ہیں اس کے نتیجے میں نہ صرف پی آئی اے بلکہ دُنیا بھر میں پاکستان کے پائلٹوں کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے بلکہ انہیں نوکریوں سے بھی محروم ہونا پڑ رہا ہے،لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ حکومت کو اپنے کئے پر کوئی ملال ہے نہ ندامت۔ وزیر ہوا بازی سرور خان کا اصرار ہے کہ ان کے اس اقدام سے بہتری آئے گی۔ وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات میں وفاقی وزیر شبلی فراز اور ان کے ساتھ لیفٹیننٹ جنرل(ر) عاصم باجوہ کے آنے سے جو خیر سگالی کا ماحول پیدا ہوا تھا ابھی میڈیا انڈسٹری پر اس کے اثرات سامنے نہیں آئے تاہم جنرل عاصم باجوہ سی پیک اتھارٹی کے سربراہ کے طور پرا نتہائی متحرک کردار ادا کر رہے ہیں، نت نئے منصوبوں کا افتتاح ہو رہا ہے، کیونکہ موجودہ اقتصادی بدحالی میں سی پیک ہی ایک روشنی کی کرن ہے۔اب دیکھنا ہے کہ جنرل عاصم باجوہ وزارتِ اطلاعات میں اپنے آئی ایس پی آر کے تجربہ کو استعمال کرتے ہوئے کب میدانِ عمل میں آتے ہوئے میڈیا انڈسٹری کی بحالی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔دوسری طرف بھارت لداخ میں چین کے ہاتھوں ذلت اٹھانے کے بعد کنٹرول لائن پر مسلسل اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ افغانستان کے لئے خصوصی نمائندہ سفیر محمد صادق پاک افغان تعلقات کی بحالی کے لئے ٹھوس اقدامات کر رہے ہیں۔

بجٹ کے بعد کے حالات سے اپوزیشن فائدہ نہیں اٹھا سکی

سب جماعتوں کے اراکین مہں بد دلی پائی جاتی ہے، کون کس کو متاثر کراے گا، وقت کا انتظار،

وفاقی دارالحکومت بحران کے بعد بحران کا شکار ہو رہی ہے،مسلم لیگ واپس اپنے پرانے بیانیے پر آئے گی؟

مزید :

ایڈیشن 1 -