خیبرپختونخوا کے ترقیاتی منصوبوں پر صدر مملکت بھی بول اٹھے!

خیبرپختونخوا کے ترقیاتی منصوبوں پر صدر مملکت بھی بول اٹھے!

  

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی اہم قومی معاملات پر کھل کر گفتگو شروع کر دی ہے اور دو روز قبل انہوں نے اٹھاوریں آئینی ترمیم سمیت خیبر پختونخوا کے اہم ترقیاتی منصوبوں کو بھی موضوع بحث بنایا ہے، دوران گفتگو ان کا کہنا تھا کہ آئین میں ترامیم آتی رہتی ہیں اسی طرح اگر 18 ویں ترمیم پر بھی نظر ثانی کی جائے تو یہ بہتر ہوگا۔ اگر یہ ترمیم نظرثانی سے بہتر ہو سکتی ہے تو اس میں کیا حرج ہے۔ کے پی کے میں احتساب کے عمل کے تیز یا شفاف ہونے کے حوالے سے صدر مملکت نے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ نیب کو مالم جبہ، بلین ٹری اور بی آر ٹی جیسے منصوبوں کی تحقیقات کرنی چاہیے، نیب اگر ان کیسز کی تحقیقات نہیں کرتا تو کسی کو تو پٹیشن دائر کرنی چاہیے کہ نیب ایسا کیوں نہیں کر رہا۔ کرپشن جاری رہی تو اداروں کا حال اسٹیل ملز جیسا ہوگا۔

ویسے تو صدر مملکت کے اس انٹرویو پر اپوزیشن جماعتوں کے مختلف رہنماؤں کی جانب سے ان کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس قسم کی گفتگو صدر مملکت کو زیب نہیں دیتی، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے بھی صدر کی گفتگو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم پر بات کرنا صدر کے شایان شان نہیں، یہ ترمیم ملک کی بقا اور یکجہتی کی ضامن ہے جو بھی خود مختاری پر یقین رکھتا ہے وہ اس ترمیم کے خلاف بات نہیں کرے گا۔ سارے صوبے اس ترمیم سے مطمئن ہیں اور سب کے مفاد اس سے وابستہ ہیں۔ صدرمملکت کو اپنے عہدے کا خود احترام کرنا چاہئے، اٹھارویں ترمیم پر بات کرنا صدر کے منصب کے خلاف ہے۔

ہم ان سطور میں بار رہا یہ تحریر کر چکے ہیں کہ دوحہ مذاکرات پر اس کی اصل روح کے مطابق عملدرآمد نہیں ہو رہا اور شائد اسی وجہ سے دارالحکومت کابل سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں میں امن دشمن کارروائیاں سر اٹھا رہی ہیں، آئے روز کوئی نہ کوئی واقعہ پیش آ جاتا ہے جس میں کئی انسانی جانیں بھی ضائع ہو رہی ہیں۔ تازہ ترین خبر یہ ملی ہے کہ افغان حکومت نے طالبان کی جانب سے فراہم کردہ 5ہزار قیدیوں کی فہرست میں سے 600 طالبان کو رہا کرنے سے انکار کر دیا ہے، یہ وہ قیدی ہیں جو افغانستان میں امن کے قیام کے لئے امریکہ طالبان مذاکرات کے نتیجے میں رہا کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا تاہم ترجمان افغان حکومت کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اس تمام تر صورتِ حال کے ذمہ دار طالبان ہیں۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے طالبان سے مذاکرات سے قبل صدراشرف غنی نے عالمی کانفرنسز کا بھی اہتمام کیا ہے۔ افغان حکام کا اس تناظر میں موقف ہے کہ طالبان کی جانب سے دی جانے والی فہرست میں شامل ان قیدیوں کو رہا نہیں کیا جائے گا جنہیں ان کی مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کی کاوشیں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور ہماری حکومت نے طالبان امریکہ مذاکرات کی کامیابی کے لئے بھی دن رات ایک کئے رکھا، دوسری جانب پاکستان کی حکومت نے اسلام آباد اور کابل کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے افغانستان کی قومی مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبد اللہ عبد اللہ کو با ضابطہ طور پر پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی ہے۔ ہماری تمام تر کوششوں کے باوجود افغانستان میں امن تا حال قائم نہیں ہو سکا، چونکہ پاکستان بالخصوص کے پی کے کا امن کابل سے جڑا ہوا ہے اس لئے وہاں ہونے والی ہر امن دشمن کارروائی کا اثر سرحد پار ہماری جانب بھی محسوس کیا جاتا ہے۔ابھی دو روز قبل افغانستان کے دو جنوبی صوبوں میں افغان قومی فوج کے ساتھ جھڑپوں کے دوران 10 طالبان جنگجو ہلاک اور 4 دیگر زخمی ہوئے ہیں،فوج کی 215 میوند کور کے مطابق صوبہ ہلمند میں پیش آنے والے ایک واقعہ میں ضلع گریشک کے یخ چل علاقہ میں فوجی اہلکاروں نے سکیورٹی چوکیوں پر حملہ پسپا کردیا، جس میں 4 طالبان مارے گئے۔صوبہ زابل میں اسی طرح کے ایک اور واقعہ میں شنکئی ضلع میں 6 دہشت پسند ہلاک اور 4 دیگر زخمی ہوگئے۔ اس قسم کے واقعات صرف اسی صورت روکے جا سکتے ہیں جب فریقین معاملات خوش اسلوبی سے طے کریں اور معاہدے میں جو شقیں موجود ہیں ان پر من و عن عمل کیا جائے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر محنت و ثقافت شوکت یوسفزئی کا کے پی کے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے کہنا ہے کہ شانگلہ سمیت صوبے بھر میں کسی بھی میں جاری ترقیاتی منصوبے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور نہ ہی معیار پر کوئی کمپرومائزہوگا، جس منصوبے میں بھی غیر معیاری میٹریل کا استعمال پایا گیا اس کے ٹھیکیدار کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ میں خود بھی تمام منصوبوں کی نگرانی کر رہا ہوں اور عوام کو اگر ان منصوبوں کے حوالے سے کوئی شکایت ہو تو متعلقہ محکموں یا مجھ سے رابطہ کرے۔ تاکہ ذمہ داروں کے خلاف بروقت کارروائی کی جا سکے۔صوبائی حکومت کے ترجمان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ اجمل خان وزیر بھی آج کل ڈویلپمنٹ پراجیکٹس پر پورا فوکس کئے ہوئے ہیں ڈیرہ اسماعیل خان کے دورے کے دوران انہوں نے مختلف منصوبوں کا جائزہ لیا، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے اور چشمہ رائٹ بنک لفٹ کنال سے جنوبی اضلاع کی تقدیر بدل جائیگی،موٹر وے پر فزیبیلٹی مکمل ہونے کے بعد کام شروع ہو جائے گا۔ ضم شدہ اضلاع کی 72 سالہ محرومیوں کا ازالہ کیا جا رہا ہے ضم اضلاع کے تمام ترقیاتی پلان وزیراعلیٰ محمود خان خود مانیٹر کررہے ہیں، موجودہ بجٹ میں قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ یہ میگا منصوبے ڈی آئی خان کے عوام کے لیے تحفہ ہیں۔ ان سے ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی، چشمہ رائٹ بنک لفٹ کنال کے حوالے سے گزشتہ دنوں بھی وزیراعلیٰ محمود خان نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور اس منصوبے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -