تین اہم جے آئی ٹی رپورٹیں مشتہر کر دی گئیں،

تین اہم جے آئی ٹی رپورٹیں مشتہر کر دی گئیں،

  

نئی بحث شروع ہو گئی،ایک دوسرا پر الزامات کی بوچھاڑ

ڈائری۔ کراچی۔مبشر میر

سیاست اور جرائم کی دنیا کا گٹھ جوڑ اور اس کی داستانیں ایک سے بڑھ کر ایک ہمارے سامنے آتی رہی ہیں۔ کراچی کے جنوب میں واقع شہر کا سب سے پرانا علاقہ لیاری جو گینگ وار اور جرائم کے گڑھ کی وجہ سے ایک بدنام شناخت کے ساتھ ملک بھر میں زبان زدعام ہے، کراچی پورٹ ٹرسٹ کی وجہ سے یہ ایک کاروباری علاقہ تھا، فٹبال اور باکسنگ یہاں کے مشہور کھیل ہیں، لیکن گینگ وار نے اس کی شناخت کو مسخ کردیا۔

2014ء میں دبئی میں لیاری گینگ وار کے اہم کردار عزیر جان بلوچ کو گرفتار کیا گیا اور پھر مکمل چھان بین کے بعد پاکستان کے حوالے کردیا گیا۔ اس پر کئی لوگوں کے قتل کا الزام تھا۔ تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی جسے سامنے لانا نہ جانے کیوں مشکل تھا، لیکن یہ بات واضح بھی تھی کہ عزیر بلوچ پیپلز پارٹی کے دور حکومت 2008 سے 2013 کے درمیان ہونے والے اہم ترین واقعات میں کسی نہ کسی طرح ملوث تھا۔

2017 میں تحریک انصاف کے راہنما اور موجودہ وفاقی وزیر سید علی حیدر زیدی نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا کہ عزیر بلوچ، نثار مورائی اور سانحہ بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹی رپورٹس عوام کے سامنے لائی جائیں۔

فروری 2019 کو سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس اقبال کلہوڑو اور جسٹس کے کے آغا پر مشتمل بنچ نے سندھ حکومت کو حکم دیا کہ تینوں جے آئی ٹی ان کیمرہ ریویو کیلئے کورٹ میں جمع کروائی جائیں۔ جسے فاضل جج صاحبان اپنے چیمبر میں دیکھیں گے اور اسے پبلک کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ ہائی کورٹ کے ججز نے جنوری 2020 میں اس رپورٹ کو پبلک کرنے کے احکامات جاری کیے، تقریباً ایک سال بعد اور تقریباً تین سال کی علی زیدی اور ان کے وکیل عمر سومرو کی کاوشوں سے یہ اہم خبر سامنے آئی۔ یہ فیصلہ جسٹس اقبال کلہوڑو اور جسٹس شمس الدین عباسی نے سنایا۔ اس فیصلے کے تقریباً پانچ ماہ بعد سندھ حکومت نے تینوں جے آئی ٹی پبلک کرنے کا اعلان کردیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے ان رپورٹس کے پبلک ہونے پر قومی سلامتی کے حوالے سے کسی قسم کے خطرے کو خارج از امکان قرار دیا۔

گذشتہ پانچ برسوں میں ان جے آئی ٹی پر کئی سوال اٹھائے گئے اور الزام تراشی کا سلسلہ بھی جاری رہا، سندھ حکومت اسے سامنے لانے سے کتراتی بھی رہی، پولیس افسران کے دستخط نہ کرنے کی داستان بھی سنی گئی، اس رپورٹ کو تبدیل کرنے کا بھی بیان سامنے آیا۔

سوال یہ ہے کہ عزیر بلوچ جو 11جنوری 1979 کو لیاری میں پیدا ہوا، اتنی کم عمری میں جرائم کی دلدل میں اتر گیا، اور اسی بناء پر اہم ترین سیاسی اور انتظامی شخصیات کے اس قدر قریب تھا کہ حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح امور حکومت میں دخل اندازی کرتا تھا۔

2006 میں گرفتار ہوا اور پھر قانون کے شکنجے سے کس نے بچایا، رحمن ڈکیت کے بعد سیاسی شخصیات کی آنکھ کا تارا بن گیا۔ لیاری سے تعلق رکھنے والی سیاسی شخصیات خاص طور پر جن میں نبیل گبول اور قادر پٹیل شامل ہیں، اس کے بارے میں لاعلمی کا دعویٰ نہیں کرسکتے اور اہم ترین پولیس افسربھی اس سے لاتعلق نہیں تھے۔

بلوچ قبائل پاکستان، ایران اور افغانستان میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے لئے سرحدوں کے آس پاس رہنا مشکل نہیں۔ عزیر کا خاندان بھی ایرانی بلوچ ہے، اس لیے قبیلے کے کئی افراد دُہری شہریت رکھتے ہیں۔ عزیر بلوچ کا دس صفحات پر مشتمل ہاتھ سے لکھا گیا بیان بہت اہم تصور کیا جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ مقدمہ عدالت میں چلنے پر وہ بھی پیش کیا جائے، لیکن ہماری تاریخ گواہ ہے کہ 164 کا بیان عدالت میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا، پاکستانی عدالتیں اسے حتمی تصور نہیں کرتیں۔

عزیر بلوچ کو قتل و غارت پر سز ملے یا نہ ملے لیکن اہم سوال پاکستان میں جرائم سے جڑی ہوئی سیاست ہے، اگر سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین جرائم پیشہ لوگوں کے ذریعے ہی پیسہ اکٹھا کرتے ہیں، الیکشن میں کامیابی حاصل کرتے ہیں اور پھر انہی کی مدد سے اپنا اثرورسوخ بڑھاتے ہیں، تو پھر یہ جمہوریت ملک کو استحکام نہیں دے سکتی بلکہ عوام سے ناکردہ گناہوں کا انتقام ضرور لے رہی ہے۔

سانحہ بلدیہ فیکٹری بھی جرم کی ایک لرزہ خیز داستان ہے جس میں 259 افراد لقمہئ اجل بنے۔ اس وقت گورنر عشرت العباد خان بہت طاقتور شمار ہوتے تھے، جو موقع واردات پر پہنچ گئے تھے، کاش ان کو بھی تفتیش کیلئے بلایا جائے کیونکہ کراچی کے کئی ایک اہم واقعات ان کے دورِ گورنری میں پیش آئے، جن میں وکلاء کو زندہ جلایا جانا، سانحہ 12مئی، سانحہ 18 اکتوبر، سانحہ 27 دسمبر (جب پورے سندھ میں جلاؤ گھیراؤ ہوا)، اسی طرح شہر میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان کے سینکڑوں واقعات اور سانحہ بلدیہ فیکٹری بھی۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے بھی ان پر الزامات لگائے تھے۔

صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی بھی گاہے گاہے سیاست پر گفتگو کرتے رہتے ہیں، حال ہی میں انہوں نے فرمایا ہے کہ 18ویں ترمیم میں تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے پہلے بھی صدارتی نظام کی حمایت میں گفتگو کی تھی، لیکن حیرت ہوتی ہے کہ وہ بلدیاتی نظام پر گفتگو کیوں نہیں کرتے۔ پاکستان کے عوام اس وقت میونسپل مسائل میں زیادہ الجھے ہوئے ہیں۔ عوام تو پینے کا صاف پانی، صفائی ستھرائی کا نظام، بنیادی تعلیم اور صحت کی سہولیات، ٹرانسپورٹ جیسے مسائل سے باہر نکل ہی نہیں پارہے۔ ان تمام مسائل کا حل ایک بااختیار بلدیاتی نظام میں پوشیدہ ہے۔

تحریک انصاف اعلان کررہی ہے کہ وہ پنجاب میں بہترین بلدیاتی نظام لارہی ہے، لیکن جو خدوخال سامنے آئے ہیں وہ بہترین ہونے کی نشاندہی نہیں کرتے، سیاسی اثرورسوخ کے حامل افراد اس نظام کو بھی مفلوج بنانے کیلئے کمر کس چکے ہیں۔

کے الیکٹرک کے خلاف سماجی راہنماؤں کے بیانات اور اس کے ساتھ ساتھ یہ خبریں کہ کے الیکٹرک کا انتظام شنگھائی الیکٹرک کو دیئے جانے کے امکانات واضح ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

حالیہ اطلاعات کے مطابق شنگھائی الیکٹرک، کے الیکٹرک کے 66.30فیصد شیئر خریدنے کیلئے عارف حبیب گروپ کو اپنا منیجر مقرر کرچکی ہے، جس نے شنگھائی الیکٹرک کا پروفائل اشتہار بھی انگریزی روزنامے میں شائع کردیا ہے۔

کراچی کے لیے بجلی کے نرخ بڑھانے پر تنقید ہورہی ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ نیپرا (NEPRA) کراچی میں اس ایشو پر پبلک ہیئرنگ (Public Hearing) کرے، عوام کو سنے بغیر بجلی کے نرخ نہیں بڑھائے جانے چاہئیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -