حج کے لئے سعودی حکومت کے شاندار انتظامات

حج کے لئے سعودی حکومت کے شاندار انتظامات

  

سعودی عرب کی حکومت نے حج کے لئے جو ضوابط ِ کار بنائے ہیں اُن کے تحت طواف کے دوران خانہ کعبہ کو چھونے اور حجرِ اسود کا بوسہ لینے پر پابندی لگا دی گئی ہے، حفاظتی ماسک اور دستانے پہننا ضروری ہو گا، سعودی عرب میں مقیم70 فیصد غیر ملکی اور30 فیصد سعودی باشندے حج کر سکیں گے،غیر ملکیوں کی حج کے لئے رجسٹریشن کا آغاز ہو گیا ہے۔ منیٰ، مُزدلفہ اور عرفات میں اجازت نامے کے بغیر داخلہ ممنوع ہو گا، عازمین ِ حج ایک دوسرے کا سامان استعمال نہیں کر سکیں گے، مسجد الحرام میں کھانے پینے کی اشیا لانے اور کھانے پر بھی پابندی ہو گی، منتظمین اِس امر کو یقینی بنائیں گے کہ ان کے نمائندے سعی کی ہر منزل پر موجود ہوں۔سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لئے ٹریک لائنز بنائی جائیں گی، دو افراد کے درمیان ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ قائم رکھنا ضروری ہو گا۔طواف اور سعی کے بعد ہینڈ سینی ٹائزرز کا استعمال کرنا ہو گا، مسجد الحرام سے قالین ہٹا دیئے جائیں گے، ہر حاجی کے لئے ضروری ہو گا کہ وہ اپنی جائے نماز استعمال کرے، بھگدڑ اور ہجوم سے بچاؤ کے لئے داخلی اور خارجی راستے مختص کئے جائیں گے، شیطانوں کو مارنے کے لئے سینی ٹائزڈ کنکریاں تھیلیوں میں بند کر کے فراہم کی جائیں گی، جن بسوں میں حاجی سفر کریں گے اُنہیں پہلے ڈس انفیکٹ کیا جائے گا اور نشستوں کے درمیان بھی سماجی فاصلے کا اہتمام کیا جائے گا، جو ضوابط کار بنائے گئے ہیں اُن پر عملدرآمد کا خصوصی اہتمام کیا جائے گا اور منتظمین اِس بات پر کڑی نگاہ رکھیں گے کہ کوئی حاجی ان کی خلاف ورزی کا مرتکب نہ ہو، قواعد و ضوابط کی تفصیلات پر مبنی کتابچے مختلف زبانوں میں چھاپ کر فراہم کئے جائیں گے۔

ضوابط کار پر ایک سرسری نگاہ ڈالنے ہی سے اندازہ ہوتا ہے کہ سعودی حکومت کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے کتنی سنجیدہ ہے اور اُسے حاجیوں کی صحت کا کس قدر خیال ہے،اب یہ حاجیوں پر ہے کہ وہ ان ضوابط کا احترام کر کے خود کو بھی محفوظ رکھیں اور انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوں۔یہ سارے ضوابط کار اِس امر کی شہادت بھی دیتے ہیں کہ حج کی عبادت پورے اہتمام کے ساتھ ادا کرنے میں کوئی رکاوٹ روا نہیں رکھی گئی، حجرِ اسود کو بوسہ دینا سنت ِ نبوی ہے، لیکن رش کی وجہ سے جو ایسا نہ کر سکے وہ دور سے ہاتھ کے اشارے سے استیلام کر سکتا ہے۔اگر عام حالات میں اس کی اجازت ہے تو وبا کے زمانے میں خصوصی طور پر اس رعایت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے،عام طور پر رمی جمار کے موقع پر حاجیوں کا رش ہوتا ہے اور ماضی میں بھگدڑ کے واقعات بھی ہوتے رہے ہیں،لیکن سالہا سال کے تجربات سے سیکھ کر سعودی حکام نے اب ایسے انتظامات کر دیئے ہیں کہ رش کے اوقات میں بھی بھگدڑ کے امکانات کم سے کم ہوں۔اب کی بار جو نئی بات سامنے آئی ہے وہ سینی ٹائزڈ کنکریاں ہیں جو چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں فراہم کی جائیں گی، اس سے یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حاجیوں کی سہولت کے لئے حکومت نے معمولی معمولی باتوں کا بھی اِس حد تک خیال رکھا ہے کہ کسی بھی طریقے سے انفیکشن نہ پھیلنے پائے،تعداد پہلے ہی محدود کی جا چکی ہے،اِس بار رش زیادہ نہیں ہو گا،اِس لئے جو حضرات بھی حج کریں گے اُن کے لئے ضوابط ِ کار پر عملدرآمد آسان ہو گا، بظاہر وہ سارے راستے بند کر دیئے گئے ہیں جن سے وائرس کے پھیلنے کا اندیشہ یا امکان ہو سکتا ہے،اتنی احتیاطی تدابیر کے بعد بھی اللہ رب العزت سے دُعا کرنی چاہئے کہ وہ حاجیوں کو ہر قسم کی بیماری سے محفوظ رکھے،امکانات کی حد تک احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے باوجود یہ پہلو ایسا ہے، جس پر نظر رکھنی چاہئے۔ خانہ کعبہ پر پہلی نظر پڑتے ہی جو دُعا مانگی جاتی ہے وہ مستجاب ہوتی ہے، اِس لئے حجاج کرام کے لئے ضروری ہے کہ جونہی اُن کی نظر اللہ کے گھر پر پڑے وہ یہ دُعا مانگیں کہ وہ دُنیا کو اِس وبا کی ہلاکت خیزیوں سے نجات دلائے، اور اپنی مخلوق پر آزمائش کا یہ سلسلہ دراز ہونے سے روک دے۔

پاکستان میں عیدالاضحی31جولائی کے لگ بھگ ہونے کا امکان ہے اور خدشہ یہ ہے کہ عیدالفطر کی طرح اب بھی خریدار مارکیٹوں کی جانب بے دریغ نہ دوڑ پڑیں،اس کے لئے ایک تجویز یہ سامنے آئی ہے کہ ہفتہ پہلے مارکیٹیں اور بازار بند کر دیئے جائیں یہ تجویز اِس لحاظ سے اچھی ہے کہ اس طرح خریداروں کا بازاروں میں رش نہیں ہو گا اور وبا کے پھیلنے کے امکانات کم سے کم ہو جائیں گے،رش کی صورت میں خدشات بڑھ جاتے ہیں اور ماسک کے استعمال کے باوجود یہ امکان رہتا ہے کہ کیرئر کسی نہ کسی طرح وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بن جائیں۔پنجاب حکومت کو اپنی اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہر سطح پر مشاورت کا عمل مکمل کر لینا چاہئے، چند دن سے ایسی اطلاعات آ رہی ہیں کہ نئے مریضوں کی تعداد کم ہو گئی ہے،صحت یاب ہونے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ہسپتالوں میں بستر بھی خالی ہو رہے ہیں۔اگرچہ یہ حوصلہ افزا بات ہے تاہم صحت یاب ہونے والے مریضوں کو نکال کر بھی مجموعی طور پر مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہی ہے اور یہ سب لوگ اگر احتیاط نہ کریں اور اپنے آپ کو آئسولیٹ نہ کریں تو وبا کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتے ہیں،پھر بڑی تعداد ایسے مریضوں کی بھی ہے، جو ٹیسٹ نہیں کراتے اور نہ ہی یہ اس سرکاری گنتی میں شمار کئے جاتے ہیں،جس سے مریضوں کی حتمی تعداد معلوم ہو،ایسے غیر رجسٹرڈ مریض بھی بڑی تعداد میں مرض کے پھیلاؤ کا باعث بن جاتے ہیں،اِس لئے ٹیسٹ زیادہ تعداد میں ہونے چاہئیں تاکہ مریضوں کی تعداد میں کمی سے کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔

حج جیسے عالمگیر اجتماع کے لئے اگر ضوابط کار بنائے جا سکتے ہیں اور اُن پر عملدرآمد کا خصوصی اہتمام کیا جا سکتا ہے تو ہمارے ہاں عیدالاضحی پر ایسا انتظام کرنا مشکل نہیں ہے،ضرورت صرف اِس بات کی ہے کہ نہ صرف عید کے اجتماعات میں آنے والے خود حفاظتی انتظامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں،بلکہ اس معاملے میں منتظمین کے ساتھ تعاون بھی کریں،سعودی معاشرے اور ہمارے معاشرے میں ایک بنیادی فرق تو یہ ہے کہ وہاں قوانین کی پابندی کی خلاف ورزی کا کوئی تصور نہیں کر سکتا اور دوسری بات یہ ہے کہ ضوابط پر عملدرآمد کرانے والی اتھارٹی، پولیس یا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ادارہ کسی خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی سے گریز نہیں کرتے، عام حالات میں بھی جب وبا وغیرہ کا کوئی تصور نہیں تھا، سعودی منتظمین اپنے طے شدہ امور کی خلاف ورزی روکنے کا اہتمام کرتے تھے، ضوابط جتنے بھی اچھے بنا لئے جائیں، ان پر اگر اُن کی روح کے مطابق عمل نہ ہو تو بے نتیجہ ثابت ہوتے ہیں۔سعودی حکومت نے حج کے موقع پر جو ایس او پیز بنائے ہیں اُن میں ہمارے لئے بھی یہ سبق پوشیدہ ہے کہ ایک بار ضابطے بنا لئے جائیں تو اُن پر عملدرآمد میں کسی رو رعایت کا کوئی تصور نہیں ہونا چاہئے،وبا کے زمانے میں لچک کا مظاہرہ خطرناک ہو سکتا ہے، اِس لئے ہماری گذارش ہے کہ عیدالاضحی کے موقع پر جو ضابطے بنائے جائیں اُن ر عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا جائے، اچھے ضابطوں پر بھی عمل نہ ہو تو نتائج حسب ِ توقع نہیں نکلتے۔

مزید :

رائے -اداریہ -