سائنس دانوں کا کورونا پھیلاؤ کے حوالے سے نیا دعویٰ؟

سائنس دانوں کا کورونا پھیلاؤ کے حوالے سے نیا دعویٰ؟

  

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی موجودگی میں مختلف سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا۔ اب تو فٹ بال اور کرکٹ کے کھیل بھی ہو رہے ہیں، اگرچہ ان کے لئے شائقین کو ای ٹیکنالوجی ہی کا سہارا لینا پڑتا ہے کہ سٹیڈیم خالی ہیں، اسی طرح خریداری اور ٹرانسپورٹ بھی ایک حد تک رواں ہو رہی ہے تاہم تاحال کورونا کے پھیلاؤ میں توقع کے مطابق کمی نہیں آ رہی اور نہ ہی اس کی موثر دوا اور ویکسین کے تجربات مکمل ہو کر کوئی خوش کن اطلاع ملی ہے، لیکن اس وبا کے حوالے سے اختلاف بھی سائنس دان حضرات میں ہو رہا ہے۔ نئی خبر کے مطابق بارہ مختلف ممالک کے 239سائنس دانوں نے نیا دعویٰ کیا۔ اس کے مطابق کورونا ہوا سے بھی پھیلتا ہے، ان حضرات کے مطابق کورونا کا جرثومہ فضاء میں ہوتا اور ایک سے دوسرے کو منتقل ہو جاتا ہے، جبکہ بند جگہ پر بھی یہ وائرس ہوا ہی سے متاثر کرتا ہے۔ ان حضرات نے تو تحفظ کے لئے گھروں کے اندر حتیٰ کہ سوتے وقت بھی ماسک لگائے رکھنے کے لئے کہا ہے، دوسری طرف ڈبلیو ایچ او (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) نے اس دعویٰ کو مسترد کر دیا اور کہا ہے کہ یہ مفروضہ ہے، کورونا ہوا یا فضا میں نہیں، انسان سے انسان کو منتقل ہوتا ہے اگر متاثرہ شخص کسی کے قریب کھانسے یا چھینک مارے تو یہ وائرس منہ اور ناک کے ذریعے دوسرے قریبی فرد کو منتقل ہو جاتا ہے اسی طرح یہ بھی ثابت ہے کہ اگر کورونا سے متاثر فرد یا مقام سے ہاتھ ملانے یا لگانے کے بعد منہ ناک اور آنکھوں کو یہ ہاتھ لگائے جائیں تو کورونا منتقل ہوتا ہے، ڈبلیو ایچ او نے اس نئی بات کو درست نہیں ماناان 239 سائنس دانوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی تحقیق، طبی (تحقیقی) جریدے میں شائع کریں گے، فی الحال کھلے خط کے ذریعے دنیا کو خبردار کیا ہے، یہ صورت حال تسویشناک ہے کہ تجربات کرنے والے ماہر حضرات ہی کھلے عام ایک دوسرے سے ایسا اختلاف کریں جو عوام کو اور بھی خوفزدہ کر دے، ایسے حضرات کو بھی ان ماہرین کی طرح اپنا کام کرنا چاہئے جو دوا اور ویکسین کی ایجاد کے لئے کر رہے ہیں اور ابھی تک ان کی طرف سے پوری اطلاع نہیں ملی،یہ ماہر تجربات کی کامیابی کے بعد ہی اعلان کریں گے۔ ڈبلیو ایچ او نے نوٹس لیا، تاہم صرف تردید کافی نہیں، اس سے بہتر عمل کی ضرورت ہے کہ پہلے ہی خوف زیادہ ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -