ٖڈولفن، پیرو فورس کیلئے 25نکات پر مشتمل ضابطہ اخلاق مرتب

ٖڈولفن، پیرو فورس کیلئے 25نکات پر مشتمل ضابطہ اخلاق مرتب

  

لاہور(کر ائم رپو رٹر) ایس پی ڈولفن راشد ہدایت نے ڈولفن سکواڈ و پولیس ریسپانس یونٹ و مجاہد سکواڈ کیلئے ضابطہ اخلاق مرتب کر دیا۔ مندرجات میں اہلکاروں کو رہنمائی فراہم کی جائے کہ دوران ڈیوٹی ان کا رویہ پبلک کے ساتھ کیسا ہونا چائیے ایک مثالی رویے کے لیے ہر اہلکارتک ضابطہ اخلاق کے مکمل نکات پہنچائے جائیں۔ لاہور پولیس لیڈر شپ کی ہدایت پر پبلک ڈیلنگ،پولیس اور عوام الناس کے ساتھ احترام کے رشتے کو مضبوط بنایا جائے گا اس سلسلے میں ایس پی ڈولفن راشد ہدایت نے 25نکات پر مشتمل ایک ضابطہ اخلاق مرتب کیا ہے جس میں مجاہد سکواڈ کے ناکہ جات کے علاوہ ڈولفن و پولیس ریسپانس یونٹ کے آفیسرز و آفیشلز کو احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ وہ شہریوں کے ساتھ سب سے پہلے سلام پھر کلام کے سلوگن کے تحت مثبت رویے کو فروغ دینا ہوگا۔

اس موقع پر ایس پی ڈولفن راشد ہدایت نے کہا کہ شہریوں سے عدم برداشت کا رویہ اب نہیں چلے گاآن جاب پولیس اہلکاروں کا رویہ مثالی ہونا چاہیے بچوں،بزرگوں و شہریوں سے حسن اخلاق و خوش گفتاری سے پیش آئیں۔ترش رو یہ عمومی طور پر پولیس و پبلک کے درمیان فاصلے پیدا کرتا ہے۔شہریوں کی بلا تفریق عزت نفس کا خیال رکھنا پولیس کے فرائض میں شامل ہے۔

عوام الناس کی خدمت اور ان کا تحفظ ہر پولیس عہدیدار کا فرض ہے بطور پولیس ا?فیسر ہمیں کسی قسم کی بد عنوانی کا مرتکب نہیں ہونا چاہیئے انہوں نے اپنے بیغام میں کہا کہ حسن اخلاق و طرز عمل سے خود بھی اور شہریوں کو بھی قانون کا احترام کرنا سکھائیں مجاہد سکواڈ، ڈولفن و پولیس ریسپانس یونٹ بالخصوص ناکہ جات پر شہریوں کے ساتھ کسی قسم کی بد سلوکی و کرپشن پر زیرو ٹالرنس اور خلاف ورزی کی ذمہ داری سپر وائزری ا?فیسرز پر ہوگی تمام ڈی ایس پیز،سیکٹر انچارجز و انچارجز ناکہ جات اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کسی بھی شہری کے ساتھ کسی قسم کا غیر مناسب و غیر اخلاقی رویہ روا نہیں رکھا جائے گا عوام الناس کو آپ نے اپنے حسن سلوک سے باور کروانا ہے کہ آپ ہی صحیح معنوں میں ان کے تحفظ کے ضامن ہیں۔اختیارات سے تجاوز و یونیفارم کا غلط استعمال مجموعی طور پر پولیس کے امیج کو متاثر کرتا ہے کسی بھی پولیس ا?فیسر یا ا?فیشلز کی ذاتی حیثیت میں دانستہ یا غیر دانستہ طور پرکی گئی غلطی پورے محکمہ کے لیے بدنامی کا باعث بنتی ہے۔دوران ڈیوٹی عوام الناس کے ساتھ کسی بھی غیر منصفانہ و ناروا سلوک کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ہر پولیس ا?فیسر و ا?فیشلز کی ذمہ داری ہے کہ وہ منصفانہ و غیر جانبدارانہ رہتے ہوئے اپنے فرائض سر انجام دے شہریوں کو بلا وجہ ہراساں کرنے والے اہلکار محکمہ پولیس کا حصہ نہیں رہیں گے۔اپنے تاثر و ذمہ دار رویے اور شائستگی سے عوام الناس سے برتاؤ کو یقینی بنائیں گے دوران ڈیوٹی شہریوں و بالخصوص بزرگوں کو سر کہہ کر پکارا جائے گا۔تمام ڈی ایس پیز،سیکٹر انچارجز و انچارجز ناکہ جات اس ضابطہ اخلاق کے تمام نکات کو ہر پولیس اہلکار تک پہنچانے کے ذمہ دار ہوں گے یقین محکم،عمل پیہم محبت فاتح عالم کے صیغہ کو اپنانا ہوگا۔تمام سیکٹر انچارجز ڈولفن و پولیس ریسپانس یونٹ کی ٹیموں کو وقتاً فوقتاً یہ نکات پڑھ کر سنائیں گے۔

مزید :

علاقائی -