اگلی بال کے پھینکے جانے تک!

اگلی بال کے پھینکے جانے تک!
 اگلی بال کے پھینکے جانے تک!

  

کرکٹ میں پچھلی غلطی کا احساس اگلی گیند کے پھینکے جانے تک رہتا ہے، جونہی اگلی گیند پھینکی جاتی ہے ایک نیا منظر جنم لے لیتا ہے، ایک نئی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے اور جسے کیچ چھوڑنے پر برا بھلا کہا جا رہا ہوتا ہے وہ دوبارہ کیچ پکڑ کر ہیرو بن چکا ہوتا ہے۔ اس لئے اگر خان صاحب بار بار یو ٹرن لیتے ہیں، ایک دن کرونا وائرس کو محض ایک فلُو قرار دیتے ہیں اور اس سے نہ گھبرانے کی تاکید کرتے ہیں اور اگلے دن عوام کو کوستے نظر آتے ہیں کہ وہ کرونا کو سیریس نہیں لے رہے اور سمجھتے ہیں کہ کرونا محض ایک فلُو ہے تو اس پر زیادہ جز بز ہونے کی ضرورت نہیں ہے، ان کی ٹریننگ ہی یہ ہے کہ پچھلی بات کو اگلی گیند کے پھینکے جانے تک یاد رکھا جائے اور گیند کے پھینکے جانے کے بعد نئی کمنٹری شروع ہو جاتی ہے، نئی تعریف کے پل باندھے جانے لگتے ہیں اور نئی تنقید کے ڈونگرے برسائے جانے لگتے ہیں۔

مائنس ون، مائنس تھری یا مائنس 160ہوں گے، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بحث کا آغازخود وزیر اعظم اور ان کے سیاسی نورتن فواد چودھری نے کیا ہے اور اب جبکہ میڈیا مائنس مائنس کی گردان شروع کر چکا ہے تو ممکن ہے کہ کچھ عرصے بعد خان صاحب میڈیا پر چڑھائی کرتے نظر آئیں کہ انہوں نے مائنس ون کی بات خود سے گھڑلی ہے، اس لئے ان کی سرکوبی ہونی چاہئے۔

دو برسوں میں پی ٹی آئی کے سارے پیچ ڈھیلے ہو گئے ہیں، پورا انجن کھلا پڑا ہے اور کرونا کے اثرات ملکی معیشت پر تادیر رہنے کا امکان بڑھتا جا رہا ہے، ایسے میں اس جنتا سے صائب فیصلوں کی توقع کم ہوتی جا رہی ہے، خاص طور پر جب ان کے ارسطوئے اعظم اور سب سے بڑے معیشت دان اسد عمر پہلے ہی ہاتھ کھڑے کر چکے ہیں اور کب سے وزارت خزانہ کو داغ مفارقت دے کر صحت کے شعبے میں اپنی قابلیت کا لوہا منوانے کے جتن کر رہے ہیں۔ کوئی وزارت ایسی نظر نہیں آرہی ہے جہاں ڈھنگ کا کوئی کام ہو رہا ہو، فواد چودھری پہلے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے نام پر قمری کیلنڈر وضع کر رہے تھے اور سرجیکل گڈز کا سامان یعنی وینٹیلیٹر بنانے کا تمغہ سجائے پھر رہے ہیں جبکہ وزیر اطلاعات جناب شبلی فراز اسپتالوں کے ویران ہونے کی دعائیں کر رہے ہیں۔

دوسری جانب حکومتی اتحادی بات بات پر اعتراضات کے دفتر بچھانے لگے ہیں، کچھ نے الوداع کہہ دیا ہے، کچھ کہنے کے موڈ میں ہیں اور وہ وزیر اعظم کہ جنھوں نے ایک نئی ایف بی آر کھڑا کرنا تھا، چوتھے چیئرمین کی تعیناتی کرتے نظر آرہے ہیں اور وہ بھی عارضی بنیادوں پر!....گویا کہ بیوروکریسی کا بے لگام گھوڑا ابھی تک ان کے قابو میں آتا نظر نہیں آرہا ہے، خود ان کے پیچھے ایک نہیں دو باوردی جوان چلتے ہیں، کہیں وہ وردی والوں کے آگے کھڑے نظر آتے ہیں تو کہیں پیچھے!.....ان کی حیثیت آگے پیچھے کھڑے ہونے سے زیادہ کی نہیں لگتی ہے، فیصلے کہیں اور ہو رہے ہیں، مشاورت کہیں اور ہورہی ہے، آئی ایم ایف بجٹ بنا کر بھیج رہا ہے، ورلڈبینک پرائیویٹائزیشن کی راہ ہموار کرتانظر آتا ہے اور اے ڈی بی کرونا وائرس کی جنگ کے لئے سرمایہ فراہم کر رہا ہے اور ہم ہیں کہ سمارٹ لاک ڈاؤن کا ڈرم پیٹ رہے ہیں اور ہمارے پیارے ایک ایک کرکے ہم سے جدا ہو رہے ہیں۔

اب اگر کابینہ کی کارکردگی صفر ہے، اتحادی ناراض ہیں، اپوزیشن لٹھ لے کر پیچھے پڑی ہوئی ہے تو ہونا تو یہ چاہئے کہ حکومت اپنی کارکردگی بہتر کرے، اتحادیوں کی ناراضگی دور کرے اور اپوزیشن سے ڈائیلاگ کرے مگر اس کے برعکس پی ٹی آئی کے حلقے یہ بتاتے نظر آتے ہیں کہ اگر وہ نہیں رہے تو کوئی بھی نہیں رہے گا، یعنی نہ کھیلیں گے اور نہ کھیلنے دیں گے، یہ بھی گلی محلے کرکٹروں ایسی اپروچ ہے جو پہلے دھاندلی کا شور مچا کر میچ خراب کرتے ہیں اور پھر اپنی خراب کارکردگی کا الزام فارم میں نہ ہونے کے فضول سے جملے پر دھر کے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ملک سے جمہوریت کی بساط لپیٹی جارہی ہے، ایسا ہے تو اس کی کیا گارنٹی ہے کہ جو کوئی بھی آئے گا وہ حالات پر قابو پالے گا، کیا ہم نے پہلے تین مرتبہ نہیں دیکھا کہ اس سے صورت حال مزید خراب ہو جاتی ہے اور گاڑی کو دوبارہ ڈگر پر ڈالنے میں کم از کم دس سال لگ جاتے ہیں۔ یہ چوہے بلی کا کھیل اب ختم ہونا چاہئے، وزیر اعظم عمران خان کو نئے پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے عمل کا آغاز اپنے وزراء سے استعفوں کے مطالبے سے شروع کرنا چاہئے اور اگر صورت حال میں پھر بھی بہتری نہ آئے تو خود اپنے استعفے کے آپشن پر غور کرنا چاہئے، تبھی نیا پاکستان بنے گا وگرنہ اگر کوئی طالع آزما آگیا تو پاکستان ایک مرتبہ پھر پرانی ڈگر پر چل پڑے گا اور تاریخ اس کا تمام تر قصور ان کے سر تھوپے گی، مگر ان کو کیا، ان کے لئے تو غلطی کی اہمیت اگلی بال کے پھینکے جانے تک ہے!

مزید :

رائے -کالم -