ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن سے کارکنوں کی برطرفی اچھا اقدام نہیں

ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن سے کارکنوں کی برطرفی اچھا اقدام نہیں

  

لاہور(پ ر) وزیر اعظم پاکستان آج بین الاقوامی تنظیم محنت ILOکے زیر اہتمام ورلڈ سمٹ کرونا وبا کے بعد معاشی صورتحال اور محنت کشوں کے بارے میں خطاب کرینگے۔ وزیر اعظم پاکستان نے اپنی حکومت کی ابتدا میں بڑی تعداد میں ملازمتوں کا وعدہ کیا تھا اور اس ضمن میں حکومت نے سیاحت کے شعبے کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا تھا جس کے ذریعہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے حکومتی سطح پر وعدہ کیا گیا تھا لیکن بدقسمتی سے چند روز قبل حکومت نے ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن سے سینکڑوں کارکنوں کو بیک جنبش قلم ملازمت سے برطرف کر دیا۔ ایک جانب حکومت نئے روز گار مہیا کرنے کا وعدہ کر رہی ہے اور وزیر اعظم پاکستان کی ایل او سے خطاب کرنے والے ہیں جہاں محنت کشوں کے حقوق اور بہتر مستقبل کے لئے اپنی حکومت کی ترجیحات پیش کرینگے جبکہ دوسری جانب عملی طور پر صورتحال اس کے برعکس ہے اور ایک ایسے ادارے کو ختم کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینے کی ذمہ داری پوری کی جا سکتی ہے۔

پاکستان ٹور ازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن جس کی تشکیل 1970ء میں ہوئی تھی، اس وقت فلیشمنز ہوٹل راولپنڈی، سیاحتی علاقوں میں اٹھارہ سیاحتی انفارمیشن سینٹرز 3موٹیلز4ریسٹورنٹساور ٹورسٹ ٹرانسپورٹ چلا رہی ہے، ان اداروں میں کام کرنے والے 400سے زائد ملازمین کو بیک جنبش قلم فلیشمنز ہوٹل یونین کو نہ صرف یہ کہ اعتماد میں لئے بغیر اور ان سے مذاکرات کئے بغیر ملازمتوں سے برطرف کر دیا گیا۔ پاکستان ٹور ازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن جس کے چیئرمین وفاقی وزیر ہیں وہاں سے کارکنان کو اس طرح نکال دیا جائے تو وزیر اعظم آئی ایل او کے بین الاقوامی فورم پر جو بھی بات کہیں گے اس کی کیا اہمیت ہو سکتی ہے اور اس پر کون یقین کرے گا۔

مزید :

کامرس -