نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع، زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری، شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں 16جولائی تک توسیع

  نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع، زرداری کے وارنٹ گرفتاری ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی احتساب عدالت میں طلبی کے لیے اشتہار جاری کر دیاگیا جب کہ اسی کیس میں عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری کے وارنٹ گرفتاری قومی احتساب بیورو (نیب) کو ارسال کردیے۔احتساب عدالت کے حکم جاری کیے گئے اشتہار میں لکھا گیا ہے کہ عدالت اس بات پر مطمئن ہے کہ ملزم اس کیس میں مفرور ہے، اس لیے نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کی جارہی ہے۔احاطہ عدالت میں چسپاں اشتہار میں لکھا گیاہے کہ نواز شریف ریفرنس کا جواب دینے کے لیے17 اگست کو عدالت کے سامنے پیش ہوں۔اسی ریفرنس کی سماعت کے دوران احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری کے وارنٹ گرفتاری بھی قومی احتساب بیورو (نیب) کو ارسال کردیے۔30 جون کو احتساب عدالت نے مذکورہ ریفرنس میں آصف زرداری کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر دی تھی۔کیس کی سماعت کے دوران بھی سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت نے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کیے۔عدالتی وارنٹ کے مطابق آصف زرداری 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں اور ایک ضامن کے ساتھ عدالت میں پیش ہوں، اگر وہ پیش نہیں ہوئے تو انہیں گرفتار کرکے پیش کیا جائے۔

نواز۔، زرداری

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹرجسٹس سردار احمد نعیم اور مسٹر جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی طبی بنیادوں پرایک روز کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرتے ہوئے آمدنی سے زائد اثاثوں اور منی لانڈنگ کیس میں ان کی عبوری ضمانت میں 16 جولائی تک توسیع کردی،دوران سماعت جب فاضل بنچ نے یہ کہا کہ نیب والے کہتے ہیں کہ میاں شہباز شریف کو حاضری سے مستقل استثنیٰ دے کر درخواست پر بحث مکمل کرلی جائے تو میاں شہباز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا اگر میرے پاس علم غیب ہوتا اور مجھے پتہ ہوتا کہ عبوری ضمانت کنفرم ہوجائے گی تو بحث مکمل کرلیتے،کیس کی سماعت شروع ہوئی تو میاں شہباز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالت میں موقف اختیار کیاکہ عدالتی حکم کے باوجود بد قسمتی سے انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ سائنسز کے کسی فرد نے میاں شہباز شریف سے رابطہ نہیں کیا، عدالتی حکم کے مطابق اور اپنی نیک نیتی ظاہر کرتے ہوئے میاں شہباز شریف نے 2 جولائی کو پرائیویٹ لیبارٹری سے اپنا ٹیسٹ کروایا،اللہ کے کرم سے میاں شہباز شریف کے کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ منفی آئی ہے، جسٹس سردار احمد نعیم نے استفسار کیاکہ اب تو میاں شہباز شریف کا کورونا ٹسٹ تو منفی آیا ہے، اب کیوں میاں شہباز شریف پیش نہیں ہوئے؟اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میاں شہبازشریف کی کورونا اینٹی باڈیز کی تعداد انتہائی کم ہونے کی وجہ سے ٹیسٹ کی رپورٹ بھی غیر متحرک آئی ہے، ڈبلیو ایچ او اور پبلک ہیلتھ کی ہدایات بھی یہی ہیں کہ دو بار کورونا ٹیسٹ منفی آنا چاہئے۔ڈاکٹروں نے میاں شہباز شریف کا کورونا وائرس کا دوسرا ٹیسٹ بھی کروانے کا مشورہ دیا ہے۔جسٹس سرداراحمد نعیم نے کہا کہ میاں شہباز شریف ہائی کورٹ میں مچلکے جمع کروانے بھی تو آئے تھے جس پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سر درخواست گزار کی اس کوشش کو سراہا جانا چاہئے۔ میاں شہبازشریف کی ذاتی حیثیت میں پیشی کو ایک روز کے لئے معاف کیا جائے اور عبوری ضمانت میں مزید 3 ہفتوں کی توسیع کی جائے، جسٹس سردار احمد نعیم نے کہاکہ ہم شہباز شریف کو بلا ہی نہیں رہے ہم تو آپ کو کہہ رے ہیں اپنے دلائل مکمل کر لیں۔ فاضل بنچ نے آمدنی سے زائد اثاثوں اور منی لانڈنگ کیس میں 16جولائی تک عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے طبی بنیادوں پر میاں شہباز شریف کی ایک روز کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی۔ کمرہ عدالت میں راناثنااللہ،شائستہ پرویز ملک اور عطا تارڑ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

شہباز شریف ضمانت

مزید :

صفحہ اول -