میڈیا پرعوام کی آواز سنیں، اسے بند نہ کریں، شہباز شریف کا سپیکر کو خط

  میڈیا پرعوام کی آواز سنیں، اسے بند نہ کریں، شہباز شریف کا سپیکر کو خط

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) مسلم لیگ (ن) کے صدر وقومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے سپیکر قومی اسمبلی کو خط میں کہا ہے کہ عوام کی آواز سنیں، اسے بند نہ کریں،میڈیا سے ہونے والی زیادتیوں کا جائزہ لینے کیلئے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے، جومیڈیا نمائندوں، صحافتی تنظیموں کی شکایات سن کر اصلاح احوال کے لئے تجاویز دے، جن پر پارلیمان کے ذریعے حکومت سے عمل درآمد کرایا جائے، امید ہے کہ آپ پارٹی وابستگی یا وزیراعظم کے دباؤ کے بجائے آئین، جمہوریت اور ریاست کے چوتھے ستون کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کریں گے۔ شہباز شریف نے سپیکر قومی اسمبلی کو خط میں کہاکہ میں آپ کی توجہ قانون، دستور اور جمہوریت کی صریحا خلاف ورزی سے متعلق ہنگامی اور فوری نوعیت کے سنگین معاملے کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ یہ معاملہ میڈیا پر عائد کی جانے والی غیرمعمولی قدغنوں اور میڈیا ورکرز کے روزگار سے وابستہ ہے۔ مختلف میڈیا ہاؤس بند ہونے سے ہزاروں خاندانوں کا چولہا بجھ گیا ہے۔ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جس طرح ملک کے دیگر شعبہ جات انتہائی بری طرح متاثر ہوئے ہیں، میڈیا کو بھی انتہائی تباہ کن حالات کا سامنا ہے۔ حکومت نے پہلے اشتہارات کی بندش کے آمرانہ اقدامات کا سہارا لیا، صحافیوں کو بے روزگار کرنے کی منظم حکمت عملی اپنائی گئی۔حکومت انتہاء پسندی کے اس درجے پر پہنچ چکی ہے جس میں حکومتی اختیار کو ہر اس آواز کو خاموش کرانے کے لئے استعمال کیاجارہا ہے جو ”حکومتی سچ“ کو ماننے سے انکاری ہے۔ دستور پاکستان میں آزادی اظہار رائے اور اطلاعات تک رسائی ایک بنیادی حق تسلیم کیاگیا ہے۔ 1973ء میں پہلے سے موجود اس دستوری ضمانت کواٹھارویں ترمیم نے مزید پختہ و جاندار بنایا ہے۔ جمہوریت اور دستور کی حکمرانی میں میڈیا ریاست کا چوتھا اور باوقار ستون تصور ہوتاہے۔ آزادی اظہار رائے اور حکومتی دباو پر چینل کی بندش، پرامن احتجاج کرنے والوں پر لاٹھیاں، گولیاں اور پتھراو غیرجمہوری، غیردستوری اور غیرقانونی حربے ہیں جن کی ہم شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اپوزیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے میں آپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ قاعدے قانون سے متعلق امور کو حل کرنے کے لئے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو میڈیا کی صنعت کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا جائزہ لے، میڈیا کے نمائندوں، صحافتی تنظیموں کی شکایات سن کر اصلاح احوال کے لئے تجاویز دے جن پر پارلیمان کے ذریعے حکومت سے عمل درآمد کرایا جائے۔

خط

مزید :

صفحہ اول -