مکینیکل ہائی وے ڈویژن لاہور میں کرپشن کی شکایات پر 10سالہ آڈٹ شروع

مکینیکل ہائی وے ڈویژن لاہور میں کرپشن کی شکایات پر 10سالہ آڈٹ شروع

  

لاہور(ارشد محمود گھمن)مکینیکل ہائی وے ڈویژن لاہور میں اربوں روپے کی کرپشن کے حوالے سے 2005ء سے 2015تک 10سالہ ریکارڈ کاسپیشل آڈٹ شروع کردیاگیاہے،اس مبینہ کرپشن کا سابق چیف انجینئر نے نوٹس لے کر آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کو مراسلہ بھجوایاتھا جس کی روشنی میں مکینیکل ہائی وے ڈویژن لاہور کا 10سال کا سپیشل آڈٹ شروع کردیاگیاہے،تفصیلات کے مطابق سابق چیف انجینئر سینٹرل زون لاہور خالد جاوید نے روزنامہ پاکستان کی خبر پر ایکشن لیتے ہوئے آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کو مبینہ طور پر اربوں روپے کی کرپشن کا10سال کا سپیشل آڈٹ کرنے کا مراسلہ بھجوایاتھاجس میں بتایا گیا کہ مکینیکل ہائی وے ڈویژن لاہور کے ایگزیکٹو انجینئرز،ایس ڈی او زاور سب انجینئرز کی مبینہ ملی بھگت سے 2005ء میں بالاکوٹ میں زلزلے کے دوران تباہ ہونے والے گھروں کو حکومت کی جانب سے نئے گھروں کی تعمیر کے لئے مختص رقم خورد بردکرلی ِ،ان لوگوں نے 5کروڑ روپے کی لوہے کی چادریں اور دیگر سامان خریدا،بعد میں سامان کو بھی کہیں استعمال کرنے کی بجائے خورد برد کرلیاجبکہ ریکارڈ میں اس کی مذکورہ محکمہ کی ورکشاپ میں موجودگی ظاہر کی،ذرائع کے مطابق سیلاب کے دوران عارضی پلوں کی تعمیر کی مد میں بھی کروڑں روپے کے مبینہ گھپلے کئے گئے،اس کے علاوہ سرکاری مشینری،پلانٹ، ٹرک،بلڈوزر وغیرہ کی مینٹیننس کے نام پر تقریبا7کروڑ روپے کی بوگس ادائیگیاں کی گئیں،ذرائع کے مطابق مکینیکل ہائی وے ڈویژن نے 22نومبر2016ء کو سیکریپ کی 73لاکھ81ہزارروپے کی نیلامی کی جبکہ سیکریپ کی مالیت اس سے کئی گنا زیادہ تھی۔ذمہ دار ذرائع کے مطابق یہ قیام پاکستان کے بعد اس ڈویژن میں سیکریپ کی پہلی نیلامی تھی اور چار ایکڑ پر محیط قطع اراضی پر سیکریپ کے ڈھیر لگے ہوئے تھے جو اونے پونے داموں من پسند فرموں کوفروخت کردیئے گئے،سیکریپ کی یہ نیلامی اس وقت کے چیف انجینئر سرفراز بٹ اورایگزیکٹو انجینئر انوارالحق کی نگرانی میں ہوئی تھی۔

کرپشن،آڈٹ

مزید :

صفحہ آخر -