نوشہرہ، پراجیکٹ ڈائریکٹر پیسکو کنسٹرکشن کے دفتر میں اندھیر نگر چوپٹ راج

نوشہرہ، پراجیکٹ ڈائریکٹر پیسکو کنسٹرکشن کے دفتر میں اندھیر نگر چوپٹ راج

  

نوشہرہ (بیورورپورٹ) پراجیکٹ ڈائریکٹر پیسکو کنسٹرکشن کے دفتر میں اندھیر نگر چوپٹ راج پراجیکٹ ڈائریکٹر کے دفتر میں ٹینڈر فارم تقسیمی 3 جولائی کی بجائے 6 جولائی کو منعقد کردیا گیا تاکہ منظور نظر ٹھیکداروں کو نوازا جاسکے لیکن اس کے باوجود پراجیکٹ ڈائریکٹر پیسکو اپنے دفتر سے غائب ہوکر دفتر ٹینڈر کمیٹی ممبران کے حوالے کر کے ٹھیکداروں کو ٹینڈر کمیٹی ممبران کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا جبکہ پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ٹینڈر کمیٹی کی ملی بھگت سے منظور نظر اور مٹھی گرم کرنے والے ٹھیکداروں کو ٹینڈر فارم گھر پہنچا دئیے گئے باقی ٹھیکداروں کو پراجیکٹ ڈائریکٹر پیسکو کنسٹرکشن کی غیر موجودگی پر ٹرخا دیا گیا ٹھیکیداروں کا پراجیکٹ ڈائریکٹر پیسکو اور ٹینڈر کمیٹی کی ملی بھگت پر شدید احتجاج و تنقید اس سلسلے میں آل پاکستان واپڈا کنٹریکڑز ایسوسی یشن کے مرکزی صدر حاجی لعل ذادہ خان نے اپنے دیگر کنڑیکڑز ساتھیوں بلال اینڈ کو کے جمال خان، جوہر اینڈ کو کے جوہر علی، حمزہ برادرز کے صحبت خان اور وہاب گل کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے بتا یا کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر پیسکو کنسٹرکشن نے خود اور ان کے دفتر کے عملے میں ایک انت مچا رکھی ہے۔ کیونکہ 3جولائی 2020 کو ٹینڈر فارم تقسیمی منعقد ہونا تھا۔ لیکن پراجیکٹ ڈائریکٹر پیسکو اور ٹینڈر کمیٹی نے اپنے منظور نظر اور انہی اہلکاروں کو مٹھی گرم کرنے والے ٹھیکداروں کو نوازنے کی خاطر ٹینڈر فارم تقسیمی کو التوا کا شکار بنا کر ٹینڈر فارم تقسیمی 3 جولائی کے بجائے 6جولائی کو کر دیا۔ لیکن اس کے باوجود پراجیکٹ ڈائریکٹر خود بہ نفس نفیس دفتر سے غائب ہے۔ کیا وہ رخصت پر ہے یا قصداً دفتر کے غائب ہو کر کنٹریکٹر ز کو ٹینڈر کمیٹی کے ممبران کے رحم و کر م پر چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ ٹینڈرز اس سے قبل بھی تین بار منسوح ہو چکے ہیں۔ جس کی اصل وجہ عدالتی حکم امتناعی ہے۔ کیونکہ عدالت نے مذکورہ ٹینڈر ز اوپنگ سے پراجیکٹ ڈائریکٹر ٹینڈر کمیٹی کو رو ک دیا گیا تھا۔ کیونکہ عدالت حکم امتنا عی میں واضح طور پر حکم دیا گیا ہے کہ تمام کنٹریکٹر ز کو ٹینڈر فارم جاری کر دیئے جائے۔ لیکن اس بار بھی پراجیکٹ ڈائریکٹر اپنی من مانیوں سے باز نہیں آیا۔ کنٹریکٹر ز ایسوسی شن نے نیب، ایف آئی اے، انٹی کرپشن اور سپریم کورٹ سے از خود ایکشن لینے کا مطالبہ کر دیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -