ضم شدہ اضلاع میں تعلیمی سرگرمیوں کے بارے اعلیٰ سطحی اجلاس

ضم شدہ اضلاع میں تعلیمی سرگرمیوں کے بارے اعلیٰ سطحی اجلاس

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)نئے ضم شدہ اضلاع کی تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منگل کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں صوبائی وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم اکبر ایوب خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔جس میں ضم شدہ اضلاع میں تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ سکولوں میں پیرنٹ ٹیچر کونسل (پی ٹی سی) کے تحت جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری تعلیم ندیم اسلم چوہدری، ڈائریکٹر ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن حافظ محمد ابراہیم، چیف پلاننگ آفیسر حشمت علی اوراضلاع کے تمام تعلیمی سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم نے ہدایت کی کہ ضم اضلاع کے سکولوں میں پی ٹی سی کے تحت جاری تمام ترقیاتی کاموں کو جاری چھٹیوں میں مکمل کروایا جائے تاکہ سکول کھولنے کے بعد تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں میں تعمیراتی کاموں کی فنڈنگ کے حوالے سے رپورٹس محکمے کو بروقت ارسال کی جائیں تاکہ ان کے مطابق آئندہ کے لائحہ عمل پر جلد از جلد پیش رفت کی جاسکے۔اکبر ایوب خان نے ضلعی افسران سے کہا کہ سکولوں میں ترقیاتی کاموں کے ٹھیکوں کی الاٹمنٹ میں میرٹ اور شفافیت کا خاص خیال رکھا جائے اور کوئی بھی ترقیاتی کام بغیر میرٹ کے کسی ٹھیکدارکے حوالہ نہ کیا جائے، غلطی اور کوتاہی کی صورت میں متعلقہ ضلعی افیسر کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔ انہوں نے ضلعی افسران سے کہا کہ ضم اضلاع اب ہمارے صوبے کا حصہ ہیں اور ان میں جاری تمام کاموں کا باقاعدہ آڈٹ کروایا جائے گا تاکہ ان اضلاع کے لیے مختص فنڈز کا صحیح استعمال ہو۔صوبائی وزیر نے افسران کو ہدایت کی کہ سکولوں میں تعمیراتی کاموں کو اپنی زیر نگرانی مکمل کروائیں اور روزانہ کی بنیاد پر کاموں کا معائنہ کرنے کیلئے سکولوں کے دورے کریں تاکہ مقدارو معیار کو برقرار رکھا جاسکے۔ اور سکولوں میں کمروں اور پلے گراونڈ کی تعمیر میں احتیاط اورحکمت عملی سے کام لیا جائے تاکہ مستقبل میں دوسرے ترقیاتی کاموں کی وجہ سے وہ متاثر نہ ہوں۔صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ سکولوں میں بچوں کے داخلوں پر بھی خصوصی توجہ دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو سکولوں میں داخل کروایا جاسکے اور بالخصوص لڑکیوں کے داخلہ مہم پر بھرپور توجہ دی جائے تاکہ خواندگی کی شرح میں نمایاں کمی لائی جاسکے اوربچے علم کی روشنی سے منور ہوں۔اکبر ایوب خان نے ضم شدہ اضلاع کے متعلقہ افسروں کو سختی سے تاکید کی کہ جن جن ملازمین نے ایک ہی جگہ پہ دو یا دو سال سے زیادہ کا عرصہ گزارا ہے ان سب کیلئے اپنے ہی متعلقہ اضلاع میں دوسری مختلف جگہوں پرتعیناتی اور تبادلوں کے احکامات جلد از جلد جاری کر دیے جائیں تاکہ ان اضلاع کے دفاتر اور سکولوں میں میرٹ کی بالادستی قائم ہو۔ اور یہاں کے لوگوں کو موجودہ حکومتی احکامات کے واضح اور مثبت اثرات مل سکیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -