تاجر اغوا،قتل کیس:عزیر بلوچ کا صحت جرم سے انکار

  تاجر اغوا،قتل کیس:عزیر بلوچ کا صحت جرم سے انکار

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)تاجر کے اغوا برائے تاوان اور قتل کے معاملے پرعزیر بلوچ نے صحت جرم سے انکار کر دیاہے۔منگل کو کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں تاجرعبدالصمد کے اغوا برائے تاوان اور قتل کے کیس کی سماعت ہوئی۔اس موقع پر عزیر بلوچ کو عدالت کے روبرو پیش کیا گیا، عزیر بلوچ کو سخت سیکیورٹی میں چہرہ ڈھانپ کر اور ہاتھوں میں ہتھکڑی لگاکر پیش کیا گیا۔عدالت نے عذیر بلوچ پر فرد جرم عائد کردی،جبکہ مجرم عزیر بلوچ نے صحت جرم سے انکار کردیا۔کمرہ عدالت پیشی کے دوران فاضل جج نے مجرم کو فرد جرم پڑھ کرسنائی،عدالت نے کہا کہ آپ پر عبدالصمد کے اغوا برائے تاوان اور قتل کا الزام ہے،10 لاکھ روپے تاوان طلب کیا اور 70ہزار روپے لینے کے باوجود مغوی کو قتل کیا،کیا آپ اپنا جرم قبول کرتے ہیں؟کٹہرے میں موجود عزیر بلوچ نے نفی میں سر ہلاکر صحت جرم سے انکار کردیا، عدالت نے مجرم کے انکار پر آئی او اور گواہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر گواہوں کو پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔عزیر بلوچ کو سینٹرل جیل میں قائم انسدادِ ہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، اس موقع پر عدالت میں رینجرز کی بھاری نفری تعینات تھی۔اس مقدمے میں عزیر بلوچ کا بھائی زبیر بلوچ و دیگر ملزمان بھی گرفتار ہیں، دیگر ملزمان پر پہلے ہی فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -