مجوزہ صوبہ جنوبی پنجاب: تھل دھرتی دودھڑوں میں تقسیم‘مسائل بڑھنے کا خدشہ

  مجوزہ صوبہ جنوبی پنجاب: تھل دھرتی دودھڑوں میں تقسیم‘مسائل بڑھنے کا خدشہ

  

بھکر(نامہ نگار) مجوزہ صوبہ جنوبی پنجاب نے تھل دھرتی کو دولخت کردیا، صوبہ جنوبی پنجاب کے نقشہ سے بھکر،میانوالی اور خوشاب غائب، نئے صوبہ کی تشکیل کی بھرپور تیاریوں کے ساتھ پانچ نئے اضلاع کے قیام پر بھی کام شروع ہوگیا۔ پانچ نئے اضلاع میں مظفرگڑھ کی (بقیہ نمبر27صفحہ6پر)

تحصیل کوٹ ادو، ملتان کی تحصیل شجاع آباد، بہاولنگر کی تحصیل چشتیاں، ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ اور بہالپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ شامل ہیں۔ تھل دھرتی کی دور افتادہ تحصیلیں ضلع کا درجہ پانے سے محروم، اہلیان تھل سراپا احتجاج۔ تفصیلات کے مطابق مجوزہ صوبہ جنوبی پنجاب کیلئے گیارہ پرانے اور پانچ نئے اضلاع کے ناموں کا اعلان کردیا گیا جس میں ملتان ڈیرہ غازی، بہاولپور، بہاولنگر اور مظفرگڑھ کی تحصیلیں شامل ہیں تاہم سرگودہا ڈویژن میں موجود علاقہ تھل کے تین اضلاع کے کوئی بھی تحصیل ضلع بنائے جانے کیلئے زیرغور نہیں ہے۔ علاقہ تھل کی تحصیلوں نورپور تھل، کلورکوٹ، پپلاں اور اٹھارہ ہزاری کے عوام ضلعی ہیڈکوارٹر کا درجہ پانے کے شدید خواہش مند ہیں تاہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے علاقہ تھل کے مستقبل کے حوالے سے خاموشی طاری ہے۔ ایم ایم روڈ کی تعمیر کے اعلان کے بعد اہلیان ضلع بھکر پر امید تھے کہ بھکر جنوبی پنجاب میں شامل کیا جائے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ نئے صوبے کے قیام کے اعلان نے تھل دھرتی کو دوحصوں میں تقسیم کردیا ہے جس کے بعد اہلیان تھل حکومتی فیصلے پر نالاں نظر آرہے ہیں علاقہ تھل کے سنجیدہ حلقے تھل کی تقسیم کی مذمت کررہے ہیں اور تھل دھرتی میں نئے اضلاع اور نئے ڈویژن کے قیام کا مطالبہ کررہے ہیں۔

خدشہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -