ملتان ڈویثرن میں ڈپٹی کمشنرز کو مہنگائی کنٹرول کرنیکا ٹاسک

  ملتان ڈویثرن میں ڈپٹی کمشنرز کو مہنگائی کنٹرول کرنیکا ٹاسک

  

ملتان (خصو صی رپورٹر )کمشنر ملتان ڈویثرن کی زیر صدارت ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی بارے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں کمشنر نے ڈویثرن کے ڈپٹی کمشنرز کو مہنگائی کنٹرول کرنے کا ٹاسک دیتے ہوئے ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کے خلاف کارروائی (بقیہ نمبر3صفحہ6پر)

میں تیزی لانے کا حکم دے دیا۔انہوں نے کہا کہ گراں فروش اور ذخیرہ اندوز معاشرے کا ناسور ہیں اور ان کا خاتمہ ضروری ہے۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اپنی کارکردگی بہتر بنائیں۔ دکانوں پر اشیاء خوردونوش کے پرائس لسٹ بینرز واضح آویزاں کئے جائیں۔ نامساعد حالات میں عوامی مسائل کا فائدہ اٹھانے والے کسی ہمدردی کے مستحق نہیں،ایسے مافیا سے آہنے ہاتھ سے نمٹا جائے۔ٹائیگر فورس بارے بات کرتے ہوئے کمشنر شان الحق نے کہا کہ شہریوں میں ٹائیگر فورس کی واضح شناخت کے لئے ان کو کارڈز اور یونیفارم جیکٹس فراہم کی جائیں گی۔وزیر اعظم کے وڑن کے مطابق ٹائیگر فورس انتظامیہ کا دست و بازو ہے اور شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے میں بھرپور تعاون کر رہی ہے۔کورونا وباء کی وجہ سے ٹائیگر فورس کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے اور شہریوں کو کورونا کنٹرول ایس او پیز بارے معلومات فراہم کرنے اور ان کی عملداری میں کردار ادا کر رہی ہے۔اس موقع پر کمشنر شان الحق کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ڈویڑن بھر میں ایک روز میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے 2118 چھاپے مارے گئے۔گراں فروشوں ذخیرہ اندوزوں کو 1 لاکھ روپے سے زائد کے جرمانے کئے گئے۔ ماہ جولائی میں ابتک 13 ہزار سے زائد چھاپے،756100 روپے جرمانہ کیا جا چکا ہے۔گراں فروشوں کیخلاف 2 ایف آئی آر جبکہ 2 افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں۔ڈویڑن بھر میں ایک روز میں 70 روپے فی کلو کے حساب سے 469700 روپے کی 6710 کلو چینی فروخت کی گئی ہے۔ٹائیگر فورس بارے بریفنگ دیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر جنرل خواجہ عمیر محمود نے بتایا کہ ڈویڑن بھر میں 80721 ٹائیگر فورس کے جوان رجسٹرڈ ہیں۔ پہلی کال ریسپانس پر 28 ہزار سے زائد جوانوں کو مختلف شعبوں میں ٹاسک دیا گیا ہے۔چاروں اضلاع میں ٹائیگر فورس کی کمیٹیاں تشکیل دی جاچکی ہیں۔اجلاس میں عام آدمی تک فورس کی اہمیت اجاگر کرنے بارے میڈیا مہم شروع کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل کمشنر سرفراز احمد، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو طیب خان، ویڈیو لنک پر ڈپٹی کمشنرز اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔

ٹاسک

مزید :

ملتان صفحہ آخر -