ریلوے مکمل کمپیوٹرائزڈ، پٹریوں پر نجی ریل گاڑیاں چلانے کا پلان تیار: سیکرٹری ریلوے

ریلوے مکمل کمپیوٹرائزڈ، پٹریوں پر نجی ریل گاڑیاں چلانے کا پلان تیار: سیکرٹری ...

  

اسلام آباد(آئی این پی)پارلیمنٹ کی ذیلی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو وزارت ریلوے حکام نے آگاہ کیا ہے کہ ریلوے کی پٹڑیوں پر نجی ریل گاڑیاں چلانے کا پلان کررہے ہیں، ریلوے نجی ریل گاڑیوں سے پٹڑی کا موٹروے کی طرح کرایہ لے گا،ریلوے کو مکمل کمپیوٹرائزڈ کرنے جارہے ہیں۔منگل کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر ریاض فتیانہ کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں وزارت ریلوے کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔کنوینئر کمیٹی ریاض فتیانہ نے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی استعمال کریں اور شفافیت لائیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ننکانہ صاحب، سرگودھا، فورٹ عباس کے شہروں کو جوڑنے کے لئے ٹریک پچھانے پر کام شروع ہوا۔1977سے لیکر آج تک وہ ریل پٹڑی نہیں بن سکی۔ سیکرٹری ریلوے نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ ریلوے نے بڑی تیزی سے اپنا رقبہ کھویا ہے،ریلوے کی زمین پر قبضے کی کئی وجوہات ہیں۔ ریلوے کی پٹڑیوں پر نجی ریل گاڑیاں چلانے کا پلان کررہے ہیں، ریلوے نجی ریل گاڑیوں سے پٹڑی کا موٹروے کی طرح کرایہ لے گا۔ریلوے کو مکمل کمپیوٹرائزڈ کرنے جارہے ہیں۔ایم ایل ون کو ان اقدامات سے جوڑا جارہا ہے۔ رکن کمیٹی منزہ حسن نے کہا کہ سب سے زیادہ رقبہ بھی ریلوے کے پاس ہے اور قبضہ بھی اسی کے رقبے پر ہے۔ریلوے کے ٹریک نجی کمپنیوں کو دے دیں گے تو نجی کمپنیاں آگے نکل جائیں گی، یہ ایسے ہی ہوگا جیسے پی آئی اے پیچھے رہ گیا اور نجی ایئر لائنز آگے نکل گئیں۔سیکرٹری ریلوے نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت ٹریک خود بھی استعمال کرے گی نجی ریل بھی استعمال کرے گی۔کنوینر کمیٹی نے کہا کہ ریلوے ٹریک کے ساتھ دس ارب درخت لگانے کے منصوبے میں عوام کو شامل کریں۔ریلوے ٹریک کے ساتھ جن جن کسانوں کی زمینیں ہیں انہیں درخت لگانے کا ٹھیکہ دیں۔ کسان ان درختوں کی حفاظت بھی کریں گے پانی بھی دیں گے،جب درخت بڑا ہوجائے تو آدھ حصہ کسان اور آدھ ریلوے کو ملے،یہ پورا پلان بناکر کمیٹی کے سامنے لائیں۔ سیکرٹری ریلوے نے کہا کہ یہ اچھا پلان ہوسکتا ہے مکمل پلان کے ساتھ آگاہ کروں گا۔

سیکرٹری ریلوے

مزید :

صفحہ اول -