پراسرار حملے، کیا ایران اوراسرائیل میں سائبر جنگ چھڑ گئی؟

پراسرار حملے، کیا ایران اوراسرائیل میں سائبر جنگ چھڑ گئی؟
پراسرار حملے، کیا ایران اوراسرائیل میں سائبر جنگ چھڑ گئی؟

  

تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران میں پر اسرار حملوں میں اضافہ ہوگیاجتنے واقعات ہوئے،اتنے ہی سوالات جنم لے رہے ہیں لیکن اصل جوابات سے زیادہ سازشی نظریات کا بازار گرم ہے، بی بی سی کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سائبر جنگ شروع ہو چکی ہے۔

بی بی سی کے مطابق حالیہ چند ہفتوں میں ایران میں تخریب کاری کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک گروپ نے اسے ای میل کرکے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اور اس گروپ کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام واقعات ایک ہی گروہ کی کارستانی ہیں۔ یہ گروپ خود کو ایرانی افواج کا منحرف گروہ کہتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق 26 جون سے ایران میں کئی پراسرار واقعات پیش آچکے ہیں۔26 جون کو خجیر میں بیلِسٹک میزائلوں کی مبینہ فیکٹری کے قریب دھماکا ہوا،اسی دن شیراز کے بڑے بجلی گھر میں دھماکا ہوا،جس سے پورے شہر میں بلیک آوٹ ہوگیا۔

تیس جون کو تہران کے ایک ہسپتال میں دھماکا ہوا،جس میں 19 افراد جان سے گئے،دو جولائی کو نطنزمیں جوہری تنصیبات میں دھماکا ہوا اور آگ لگ گئی۔

تین جولائی کو شیراز میں خوفناک آگ لگی، چار جولائی کو اہواز کے بجلی گھر میں دھماکا جبکہ اسی روز ماھشہر میں پیٹروکیمیکل پلانٹ میں کیمیائی مائع کا اخراج،یہ تمام واقعات کسی پر اسرار سلسلے کی کڑیاں معلوم ہوتے ہیں۔

تازہ ترین حملہ ایرانی دارالحکومت تہران کے قریب باقرشہرمیں ہوا ہے جہاں دھماکے سے2افرادہلاک اور3زخمی ہو گئے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ہوم لینڈ چیتا نامی گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان تمام واقعات میں اسکا ہاتھ ہے۔اپنے بارے میں گروپ نے یہ بتایا ہے کہ وہ ایرانی افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے منحرفین کا ایک گروہ ہے۔

بی بی سی نے گروہ کی حقیقت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ گروہ ایران دشمن ایجنسیوں کا ہی ایک گروہ یا انکا آلہ کار بھی ہو سکتا ہے ، جو خود کو ایرانی افواج کا منحرف گروہ ظاہر کر رہا ہے۔

ایران کے خبر رساں ادارے ارنا نے یہ تسلیم کیا ہے کہ نطنز میں آتش زنی 'دشمن ممالک کی جانب سے اور خاص کر صہیونی حکومتوں اور امریکہ کی' تخریب کاری کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔

ایران کے شہری دفاع کے وزیر نے اپنے عزم کا اعلان کیا ہے کہ اگر یہ ثابت ہوگیا کہ ایران سائبر حملوں کا نشانہ بنا تھا تو پھر جوابی کاروائی کی جائے گی۔

گذشتہ اتوار مشرقِ وسطیٰ کے ایک ملک کے انٹیلیجینس ذریعے، جس کا نام نہیں بتایا گیا، نے نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ نطنز میں یہ دھماکہ اسرائیل نے کرایا ہے۔ اس سے ایک دن پہلے، اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے موہوم سے انداز میں کہا کہ جب ہم پر ایران میں کسی کارروائی کرنے کا الزام لگتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ 'بہتر ہے کہ کچھ نہ بولا جائے۔'

اسرائیل عموماً ایسی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا ہے اور ایرانی حکام نے اسرائیل پر براہ راست الزام لگانے سے گریز کیا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سائبر جنگ شروع ہو چکی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -