وفاق میں توازن

وفاق میں توازن
وفاق میں توازن

  

آئین کو متحرک معاشرے کےلئے زندہ دستاویز کہا جاتا ہے ۔اگر یہ وقت کے ساتھ ترقی و نشونما نہیں کرسکتا ،تو یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور جلد غیر متعلقہ ہوجائیگا۔اسی لئے آئین پارلیمان کو دو تہائی اکثریت کے ساتھ ترامیم کا حق دیتا ہے ۔

جب پاکستا ن کا قیام عمل میں آیا،اسے ایک نائب ضابطہ آئین اور وفاقی حکومت ورثے میں ملی جس میں تمام اختیارات گورنر جنرل کو حاصل تھے،1956 میں پاکستان کو اپنا آئین ملا ،ایک وفاقی حکومت اور ایک متوازن وفاق جس میں وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان اختیارات تقسیم کئے گئے تھے جو کہ اس وقت ضروری سمجھے گئے تھے ۔تاہم اس کو پارلیمان کے غیر اخلاقی اور غیر معمولی اطوار کے باعث منسوخ کردیا گیا ۔1962کا آئین صدارتی نظام پر مبنی تھا جس میں وفاق کے اختیارا ر صدر مملکت کو تقویض کئے گئے تھے ۔تاہم اسے بھی منسوخ کردیا گیا اور بعد ازاں 1973کا آئین بنایا گیا جس کےلئے1970کے پہلے شفاف اور آذادنہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی سیاسی جماعتوں کے درمیان سیاسی سمجھوتہ طے پایا گیا ۔

بعد ازاں متعدد مارشل لاءنے آئین کو پامال کیا اور وفاق کو زیادہ طاقت دینے کی غرض سے اس میں تبدیلی کی دفعات شامل کیں۔اسے مرکزیت وفاق(سینٹرلائزڈ فیڈریشن)کہا جاسکتا ہے ۔

18ویں ترمیم زخموں پر مرہم رکھنے کا عمل تھا جس کے ذریعے ہر ممکن طور پر آئین کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے کی کوشش کی گئی ۔اس میں کچھ بہت ہی مفید اور فائدہ مند دفعات شامل کی گئیں جس کا خلاصہ کچھ ایسا کیا جاسکتا ہے کہ ”وفاق کو صوبوں اور مرکز کے درمیان شراکتی وفاق بنایا جاسکے ۔“ جلد ہی اس بات کا اندازہ لگایا گیا کہ 18ویں ترمیم میں چند تبدیلوں کی ضرورت ہے ،خاص طور پر عدلیہ کے معاملے میں اور اس کےلئے 20ویں اور21ویں آئینی ترمیم کی گئیں۔

ایک وفاقی ڈھانچہ کا تقاضا ہے کہ وفاقی حکومت اپنے تمام امور کے انجام دہی کے قابل ہو اور صوبوں کی خود مختاری کو اپنے دائرے میں برقرار رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں یا قومی پالیسی کو مستقل طور پر نبھا سکے ۔اگر وفاق اپنی قومی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا نہیں کرسکتا تو پھر اسے پالیمان کے ذریعے متوازن بنانے کی ضرورت ہے ۔

اس وقت کورونا وائرس کی وباءکے باعث پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحا ل کی وجہ سے 18ویں ترمیم پر نظر ثانی کرنے کی بات کی جارہی ہے ۔سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس گمراہ کن نعرے کے ساتھ احتجاج کیا جارہا ہے کہ 18ویں ترمیم کو کسی صورت رول بیک نہیں ہونے دیا جائیگا۔رول بیک اور نظر ثانی کرنے کے درمیان ایک واضح فرق ہے ۔رول بیک کا مطلب ہے کہ ختم کرنا جبکہ نظر ثانی میں بہتری کی ضرورت دیکھی جاتی ہے ۔کوئی بھی18ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔لیکن بہر حال نظر ثانی کرنا رول بیک ہر گز نہیں۔آئین کے تحت نثر ثانی نہ صرف جائز ہے بلکہ جب کسی کو کسی نئی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ایسا ضروری ہوجاتا ہے ۔

تاہم بہتری کی حد محدود ہے ۔کیا قومی پالیسی تقاضا کرتی ہے کہ آبادی میں اضافے پر قابو پانے ،ادویات کے عام معیارات کی فراہمی اور آخر میں اپنے ہمسایہ کی جارحیت کا سامنا کرنے والے اور کوویڈ19کے باعث معیشت کو ہونے والے نقصان کو پورا کرنے کےلئے وفاقی کی ضروریات کو پورا کرنے کےلئے ہم آہنگی کی فہرست کو محدود تعداد میں مضامین کے ساتھ بحال کیا جائے تا کہ تعلیمی نظام میں قومی نصاب کو شامل کیا جاسکے ۔

میں یہ اضافہ بھی کرسکتا ہوں کہ ہم آہنگی کی فہرست کو غلط تاثر پر چھوڑ دیا گیا جو کہ اسے ختم کرنے کےلئے ایک وعدہ تھا۔ریکارڈ اس دعویٰ کی تائید نہیں کرتے۔اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ ماضی میں وفاق اس فہرست کی روح اور مقصد کو نہیں سمجھ سکا جس کا مقصد صوبوں کی رہنمائی کرنا تھا کہ صوبے نے جو جو قانون منظور کیا ہے وہ دوسرے صوبوں کو متاثر کرسکتا ہے۔ہم آہنگی فہرست کا مقصد ڈکٹیشن دینا نہیں بلکہ رہنمائی فراہم کرنا ہے۔

اب قوم اور پارلیمان کو اپنے ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کرنا چاہیئے کہ طاقت کا ناجائز استعمال اور ہم آہنگی کی فہرست کی روح کی خلاف ورزی ہرگز مناسب نہیں۔18ویں ترمیم کے ذریعے تخلیق کیا گیا شراکتی وفاق ہمارے وفاق کو قابل عمل اور قابل اعتبار دونوں بنائیگا۔

نئی صورتحال نئی سوچ اور نظر ثانی کی متقاضی ہے ۔یہ رول بیک نہیں ہے ۔اس میں کوئی سازش نہیں ہے ۔اس میں کوئی خرابی نہیں ہے ۔آئین میں توازن لانے کی سیدھی سیدھی ضرورت ہے اور 18ویں ترمیم میں کی گئیں ترامیم میں پائے گئے فقدان کے باعث پیدا ہونے والے مسائل کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے ۔کہا جاتا ہے کہ بہترین میں بھی بہتری کی گنجائش ہوتی ہے ۔ہم کہتے ہیں کہ 18ویں ترمیم جس وقت کی گئی یہ اس وقت انتہائی بہترین تھی ،لیکن اب اسے ایک نئے توازن کی ضرورت ہے ۔قوم اس وقت ایک چیلنج سے گذر رہی ہے اور مجھے یقین ہے کہ ہم اس امتحان میں سرخرو ہونگے ۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -