طورخم بارڈر پر 355کنٹینر کلئیر کرنے کے سکینڈل کی انکوائری رپورٹ طلب

طورخم بارڈر پر 355کنٹینر کلئیر کرنے کے سکینڈل کی انکوائری رپورٹ طلب
طورخم بارڈر پر 355کنٹینر کلئیر کرنے کے سکینڈل کی انکوائری رپورٹ طلب

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ  نے ایف بی آر سے مبینہ طور ٹیکس وصولی کے بغیر طورخم بارڈر پر 355کنٹینر کلئیر کرنے کے سکینڈل کے حوالے سے انکوائری رپورٹ طلب کرلی، کمیٹی نے ایف بی آر سے ٹیکس ریفنڈز کی مکمل تفصیلات سمیت گزشتہ سال کی کارکردگی پر بھی رپورٹ طلب کرلی۔

نجی ٹی وی کے مطابق فیض اللّٰہ کموکا کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن سید نوید قمر نے استفسار کیا کہ ہمیں یہ بتایا جائے کہ کتنے ریفنڈز کلیمز آئے ہیں،کمیٹی نے ٹوٹل ریفنڈز کلیمز کی تفصیلات طلب کرلیں، چئیرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ انکم ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کیلئے کل تک نظام سامنے لایا جائے،کمیٹی رکن عائشہ غوث پاشا نے کہاکہ فارم ایچ کتنے لوگوں نے بھرا ہے یہ بھی بتایا جائے، ریفنڈز کلیمز میں فارم ایچ بہت بڑا مسئلہ رہا ہے،ایف بی آر حکام نے کہا کہ ایک ماہ میں 12 ارب روپے کے ریفنڈز کلیمز آتے ہیں، ریفنڈز کی ادائیگی میں فاسٹر نظام کے تحت 80 فیصد ادائیگیاں کی جاچکی ہیں۔

اجلاس کے دوران کمیٹی چئیرمین نے استفسار کیا کہ355 کنٹینرز کے غائب ہونے کے معاملے پر ایک ماہ کا وقت دیا گیا تھا، کورونا وائرس کی وجہ سے وہ تحقیقات بھی لٹک گئیں، سابق چیئرپرسن ایف بی آر کے کہنے پر ایک ماہ وقت دیا گیا تھا لیکن جواب نہیں آیا، آئندہ ہونے والے اجلاس میں اس کا جواب دیا جائے،ایف بی آر حکام نے بتایا کہ وزیر اعظم کی جانب سے 100 ارب روپے کے اضافی ریفنڈز کا اعلان کیا گیا تھا، ان لینڈ ریونیو نے اس میں 50 ارب روپے جاری کئے، کسٹمز کی جانب سے 20 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے گئے، 30 ارب روپے کے ریفنڈز وزارت تجارت نے جاری کرنے ہیں، پی ٹی آئی کے رکن ڈاکٹر رمیش کمار نے انکشاف کیا کہ 7 سے 8 بڑی کمپنیوں کو ریفنڈز دیئے گئے، ذیلی کمیٹی میں اعداد وشمار مانگے گئے لیکن ہمیں نہیں دیئے گئے، چھوٹے اور درمیانے درجے کاروبار کو بڑھانے کے بجائے بڑی کمپنیوں کو نوازا جارہا ہے،حناربانی کھر نے کہا کہ اس بجٹ میں ہمیں پتہ چل گیاکہ بجٹ بنانےمیں پارلیمان کا کیا کردار ہے؟ضمنی گرانٹ لے کر ریفنڈز ادا کئے جارہے ہیں، دن دیہاڑے ڈنکے کی چوٹ پر معیشت پر ڈاکہ ڈالا گیا،اگر ہم سوال کرتے ہیں تو افسران کو اس کا جواب دینا ہوگا،افسران ہمیں بے وقوف سمجھتےہیں لیکن ہمارے پاس اصل اعدادوشمار موجود ہیں۔

عائشہ غوث پاشا نے کہاکہ الزام ہے کہ پیسے لیکر ارب پتیوں کو ریفنڈز کی ادائیگی کی گئی، ہمیں درست اعدادوشمار بتائے جائیں ہم یہاں حکومت کی مدد کیلئے بیٹھے ہیں، چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ ممبران کی تشویش دور کرنے کے لیے ایف بی آر کل مکمل تیاری کے ساتھ آئے، ایف بی آر کے پاس تمام ڈیٹا موجود ہے ایوان کو آگاہ کریں، ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ فنانس بل میں رئیل ٹائم ڈیٹا تک رسائی درست نہیں ہے، اس سے سٹیزن رائٹس پر براہ راست اثر پڑے گا، سارا سال آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کی جاتی ہے، سال کے آخر میں اسے فنانس بل کا حصہ بنایا جاتا ہے، چئیرمین ایف بی آر نے کہا کہ ہم پارلیمان کا احترام کرتے ہیں اور جو ہمیں معلوم ہے وہ ہم بتائیں گے، ہمیں چیلنجز کا سامنا ضرور ہے اہداف کے حصول کیلئے کوشاں ہیں اور محنت کریں گے، ایف بی آر یہ چاہتا ہے کہ محصولات میں اضافہ ہو، کمیٹی نے گزشتہ سال کی کارکردگی پر ایف بی آر سے رپورٹ طلب کرلی اور ہدایت کی کہ اگلے مالی سال کے اہداف کے حصول کیلئے میکنزم کے حوالے سے بتایا جائے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -