سینئر صحافی نے نئے صحافیوں کو صحافت کے آداب بتا دیے

سینئر صحافی نے نئے صحافیوں کو صحافت کے آداب بتا دیے
سینئر صحافی نے نئے صحافیوں کو صحافت کے آداب بتا دیے

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ملک کے معروف اور سینئر صحافی ڈاکٹر عبدالودود  قریشی نے کہا کہ نصف صدی سے زیادہ مجھے صحافت میں ہو گیا ہے اور زیادہ عرصہ بطور ایڈیٹر کام کیا ہے،ایوب خان کے بعد شائد ہی کوئی ایساسیاسی رہنما رہ گیا ہو جس کا میں نے انٹر ویو نہ کیا ہو،ہم بڑی عاجزی کے ساتھ لوگوں کا انٹر ویو کرنے کے لیے جاتے ہیں اور اس دوران ان سے وہ سوالات بھی کرلیتے ہیں جو اُن کو نا گوار گزرتے ہیں،انٹر ویو کا یہ ہی طریقہ ہوتا ہے،صحافت ایک مشن ہے،تجارت،بد معاشی اورمافیانہیں ہے ،سر سید احمد خان جب برطانیہ سے واپس آئے تو انہوں نے اپنے میگزین کا نام تہذیب اخلاق رکھا کہ اخلاق کے اندر رہتے ہوئے بات کرنی ہے،پاکستان میں پرائیویٹ چینلز آئے ،ایک صاحب نے کسی کو انٹر ویو کے لیے بلایا ،جب وہ نہیں آئے تو اس کی تصویر کرسی پر رکھی اور کہا یہ بھاگ گیا ہے ،یہ صحافت نہیں ،صحافت کا کام لوگوں کو عزت دینا اور ان سے حقا ئق معلوم کرنا ہے ۔انہوں نے کہا مجھے اس با ت کا حق کس نے دیا کہ میں کسی سرکاری عہدیدار سے انٹر ویو کا کہوں اور اگر وہ انٹر ویونہیں دیتا تو اس کی ساکھ کو نقصان پہنچاوں؟یہ کونسی صحافت ہے ،بنیادی طور پر یہ طریقہ واردات چھاتہ برداروں کا ہے جنہوں نے بے شمار مال بنا یا ۔یہ صحافت کو بد نام کرنے کی ایک سازش ہے تاکہ لوگ صحافیوں کو برا بھلا کہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے طرز عمل کو رد کرنا چاہیے اور ایسی صحافت کی مذمت کرنی چاہیے ۔

۔۔۔۔۔۔ویڈیو دیکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید :

قومی -