صحافی تشدد کیس، جرنلٹس کا مقامی سیاستدان، پولیس کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

صحافی تشدد کیس، جرنلٹس کا مقامی سیاستدان، پولیس کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 
  لیاقت پور (نامہ نگار)بھونگ تحصیل صادق آباد کے صحافی اصغر جعفری پر مقامی سیاستدان ٹی ایم اے اہلکاروں اور پولیس گٹھ جوڑ سے درج ہونے والا جھوٹا مقدمہ اور وحشیانہ تشدد لاقانونیت اور پولیس گردی کی انتہا ہے تبدیلی سرکار کے دور میں صحافیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی(بقیہ نمبر11صفحہ6پر)
 انتقامی کاروائیاں باعث تشویش ہیں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو ڈی پی او رحیم یار خان، اے سی  اور اے ایس پی صادق آباد کو بھی ملوث سمجھا جائے گا پریس کلب لیاقت پور کے زیر اہتمام بھونگ پریس کلب کے صدر اور سینئر صحافی اصغر جعفری پر مقدمے اور تشدد کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے صدر پریس کلب لیاقت پور وحید رشدی، سینئر نائب صدر ایمرا تاج غوث، سینئر صحافیوں وفا سلیم تسکین، طارق علوی، اقبال ٹانوری، طارق شاد، ارشاد واسطی، قاضی حسن، نوید بلوچ اور میاں عمران نے کہا کہ بھونگ  سے  مقامی سیاستدان نے کروڑوں روپے اراضی پر قبضہ بے نقاب کرنے والے صحافی اصغر جعفری پر انفورسمنٹ انسپکٹر ٹی ایم اے صادق آباد لیاقت گیلانی کو مدعی بنا کر تھانہ بھونگ میں بے بنیاد مقدمہ درج کرایا اور اے ایس آئی جام عابد نے اپنی ٹیم کے ہمراہ رات بھر اسے تشدد کا نشانہ بنایا پلاس سے اس کے ناخن کھینچے گئے ٹانگوں، چہرے اور سینے پر چھتروں اور مکوں سے مارا گیا جس ہے اس کی ایک آنکھ کی بینائی ضائع ہونے کا خدشہ ہے  ڈی پی او، ایس پی اور سب ڈویژنل پولیس آفیسرز اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی بجائے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر سب اچھا کی رپورٹ دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ کرپشن لوٹ مار اور اختیارات کے غلط استعمال بارے آواز اٹھانے والے صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے خلاف کرپٹ عناصر پولیس اور وڈیروں کا گٹھ جوڑ ناقابل قبول ہے  انہوں نے کہا کہ انصاف ملنے تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا مظاہرہ میں چودھری شفقت محمود، کاشف سلمان، ظفر اقبال، میاں شاہد، ارشد امین چوہدری، راشد شاہین، ابوہریرہ علوی، شاہد بلوچ، شہزاد بھٹی، عمران بوسن،  ثاقب سرور، امین رحمانی، جاوید خان اور دیگر بھی شریک تھے جو پولیس گردی کے خلاف کتبے اٹھائے پولیس اور ایم پی اے کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔
نعرے بازی